خاتون تجزیہ کار اور حسن نثار کے درمیان گرما گرمی ۔۔۔ اصل وجہ کیا تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی ترہب اصغر کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔جہاں دلیل ختم ہو جاتی ہے وہاں عموماً آواز اونچی اور بد تمیزی اس لیے کی جاتی ہے تاکہ اختلاف کرنے والے شخص پر حاوی ہوا جا سکے۔ زیادہ تر یہ رویہ مردوں کی جانب سے عورتوں کے لیے

بات ہو رہی ہے اس کلپ کی جو جیو چینل کے پروگرام ‘رپورٹ کارڈ’ کے پیر کی شام نشر ہونے والے پروگرام کا تھا جس میں اینکر علینہ فاروق کی جانب سے جب خاتون تجزیہ کار اور وکیل ریما عمر سے ان کی رائے پوچھی گئی تو پینل میں اختلاف رکھنے والے تجزیہ کار حسن نثار نے ان کی بات دوران انھیں بار بار ٹوکا۔ ریما عمر نے جب حسن نثار سے اختلاف کیا تو انھوں نے تلخ انداز میں اور غصے میں جواب دیا جو سوشل میڈیا کا موضوع بن گیا۔اس معاملے پر بی بی سی کی جانب سے تجزیہ کار حسن نثار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے ساتھ تھوڑا مسئلہ چل رہا ہے کہ میں اونچا سنتا ہوں اور جو اونچا سنتا ہے وہ بولتا بھی اونچا ہے۔’ریما عمر کے ساتھ اختلاف رائے پر ان کا کہنا تھا کہ کچھ باتیں ریما اپنی گفتگو میں ایسے بیان کرتی ہیں کہ اُس وقت بندہ کہتا ہے کہ یہ میری بات کو میرے ہی سامنے غلط انداز میں لے رہی ہیں۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی وقت ان باتوں کو درست کیا جائے۔انھوں نے ریما عمر کے تجزیے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریما کا موقف تھا کہ پاکستان کے سیاست دانوں نے قربانیاں دی ہی جبکہ میرے خیال میں 73 سال میں ملک برباد ہو گیا ہے۔انھوں نے مزيد کہا کہ میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔’میں یہ نہیں کہتا کہ ریما جان کر اکثر اوقات چیزوں کو بگاڑ کر پیش کرتی ہیں،

بلکہ ان کو سمجھ نہیں ہے۔ وہ پڑھی لکھی ہیں لیکن اس ملک کے زمینی حقائق مختلف ہیں۔ یہ ایک مخصوص کلاس ہے جنھیں ان باتوں کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔’تاہم انھوں نے اپنے تلخ رویے اور انداز گفتگو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر بندے کا بات کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اور وہ مزاج کے مطابق بات کرتا ہے۔’کیونکہ کچھ چیزیں ایسی میں نے اپنی زندگی میں اس ملک میں دیکھی ہیں کہ جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مجھے غصہ آ جاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ریما عمر نے تعلیمی اداروں میں جو پڑھا ہے وہ ہم نے بھی پڑھا ہے لیکن جو ہمارا تجربہ ہے وہ ان کا نہیں ہے۔جب بی بی سی نے اس نوعیت کے رویوں کے حوالے سے سوال کیا تو سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ رویہ عموماً اس وقت دیکھا جاتا ہے کہ جب کسی کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں ہوتی ہے۔’ایسا شخص اپنی آواز بھی اونچی کرتا ہے ہے اور بد تمیزی پر بھی اتر آتا ہے۔ ویسے تو دلیل کے بغیر اختلاف رکھنے والا ہر شخص یہی کرتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں زیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے ہے کہ عورتوں کے ساتھ یہ رویہ زیادہ اپنایا جاتا ہے۔”مردوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پہلے کی عورت ایسے رویے خآموشی سے برداشت کر لیتی تھی لیکن آج کی خواتین چپ نہیں رہتی ہیں۔ وہ اپنے شعور اور عقل کے مطابق اختلاف رائے بھی رکھتی ہیں اور یہی بات ہمیں بطور معاشرہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم عقل کُل نہیں ہیں اور ہماری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے۔’انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستانی معاشرے میں نوجوان نسل اور پرانی نسل کے درمیان ‘جینریشن گیپ’ موجود ہے اور ہمارے پاس ایسی تربیت نہیں ہے کہ اخلاقیات کے ساتھ کسی سے اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔

Comments are closed.