خان صاحب ، ضد اور انا کو چھوڑو اور اپنے اقتدار کے پیچھے خود نہ پڑو ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک ) نامور کالم نگار سعید آسی اپنے ایک کالم میں لکھے ہیں ۔۔۔۔۔۔دو روز قبل جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن بنچوں کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے سیاسی جماعتوں میں فلور کراسنگ کی پروان چڑھتی لعنت کے آگے مضبوط بند باندھنے کیلئے ایک بل پیش کرنے کی کوشش کی

تو وزیراعظم کی سوچ کے برعکس حیران کن طور پر حکمران پی ٹی آئی کے ارکان نے اس کی مخالفت کا اعلان کردیا حالانکہ سسٹم کو پریشرائز کرنے والی فلور کراسنگ سے نجات دلانے کیلئے وزیراعظم عمران خان گاہے بگاہے جن جذبات کا اظہار کرتے رہتے تھے اس کی بنیاد پر تو سرکاری بنچوں کو بھی اس بل کی کلی حمایت کرنی چاہئے تھی۔ ارے صاحب!آپ نے اپنے ان نیک جذبات کو بھی مخالفت برائے مخالفت والی سیاست کی بھٹی میں جھونک دیا تو اس کا ’’سیک‘‘ تو آپ تک پہنچنا تھا۔ ٹکڑوں میں بٹی اپوزیشن اسمبلی کے فلور پر باہم متحد ہوگئی۔ ڈپٹی سپیکر کو حمایت یا مخالفت کیلئے متذکرہ بل ہائوس میں پیش کرنے پر مجبور کیا اور نتیجہ کل عالم نے دیکھا۔ سرکاری بنچوں کو اس بل میں ہزیمت اٹھانا پڑی جس کا وزیراعظم صاحب نے فوری جواب دینے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ٹھان لی اور اس اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ سمیت حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ہر مسودہ قانون کی منظوری کیلئے سرکاری بنچوں میں جذبہ جہاد کو ابھارنے کیلئے زور لگاتے رہے مگر ایک جائز قانون سازی کو بھی روکنے کیلئے حکومتی انا کا مظاہرہ کرنے کے عمل نے اپوزیشن کے تن بے جان میں نئی روح ڈال دی تھی سو وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کو مات دینے کیلئے ڈٹ گئی۔ صرف اپوزیشن ہی نہیں حکومتی اتحادیوں میں بھی بعض جبینیں شکن آلود نظر آئیں۔ وزیراعظم کو ظہرانے میں بعض حکومتی اتحادیوں کی کھری کھری بھی سننا پڑیں تو جذبہ جہاد کو اجاگر کرتے کرتے وزیراعظم کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی بساط لپیٹنا پڑی۔ارے اب تو کچھ معاملات راز و نیاز کی بساط لپیٹے جانے کی پھلجڑیاں بھی چھوٹتی نظر آرہی ہیں۔ خدا خیر کرے اور سسٹم کی بساط کو کوئی گزند نہ پہنچے کہ قوم نے یہ بساط لپیٹے جانے کا ملک کی تاریخ کے المناک 34 سال کے دوران بہت خمیازہ بھگتا ہوا ہے۔ آپ نے اس بساط کے کھسکنے پر بحالی جمہوریت کی جدوجہد کی خاطر چور لٹیرے کے لیبل والے سیاستدانوں کے کندھے سے کندھا ملا کر ہی کھڑا ہونا ہے تو کیا بہتر نہیں کہ اپنی ’’میں‘‘ کو ختم کرکے اور اپنی انا کی تھوڑی سی قربانی دے کر بساط کے پائوں کے نیچے سے کھسکنے کی نوبت ہی نہ آنے دیں۔ ورنہ تاریخ بہت ظالم ہے ، کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔