خان صاحب : اب اگر آپ کو ہوش آچکا ہو تو جان لیجیے کہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار لیفٹننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آنحضورؐ کے وصال کے بعد عربوں نے وہ بدعنوانی نہیں کی ہو گی جو ہماری لغت اور سوچ میں ہے لیکن اس کے مظاہرے تو آج بھی ریاستِ مدینہ میں پائے جاتے ہیں …… آج سے دو روز پہلے ریاض کی ایک بڑی خبر تھی

کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر سعودی عرب میں 172اشخاص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ 172اشخاص عامۃ الناس میں سے نہیں۔ یہ نیشنل گارڈ، دفاع، داخلہ، خارجہ اور صحت کے اونچے اونچے عہدوں پر سرافراز لوگ تھے اور یہ سعودی عرب میں پہلی بار نہیں ہوا۔ اسی ولی عہد کے دور میں کئی بڑی اہم اور بین الاقوامی حلقوں میں معروف شخصیات کو گرفتار کیا گیا۔ ان سے ’مالِ مسروقہ‘ برآمد بھی کر لیا گیا لیکن پھر ان کو چھوڑ دیا گیا کہ ”جاؤ جوانیاں مانو اور موجیں اڑاؤ“۔ وہ گرفتاریاں اور اب حالیہ ایام کی گرفتاریاں ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنے کی غرض سے کی گئیں …… پہلی گرفتاریوں کی تعداد 72بھی نہیں تھی لیکن موجودہ گرفتاریوں کی تعداد تو 172ہے۔ کیا کسی گرفتاری یا سزا یا چوری کے مال کی بازیابی سے چوری کی ”مقدار یا تعداد“ کم ہوئی؟…… ہرگز نہیں ……!اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ: نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے۔یہ تو اس ریاستِ مدینہ کا موجودہ حال ہے جس کی پیروی کو وزیراعظم عمران خان نے حرزِ جاں بنا رکھا ہے۔ لاہور میں چینی کے ذخیرہ اندوز یا سندھ میں گندم کے ذخیرہ اندوز بڑی وافر تعداد میں پائے جا رہے ہیں لیکن غریب عوام مہنگائی کا رونا رو کر میڈیا کے پرائم ٹائم کی آبیاری کرتے ہیں یا PDM کے رہنما نشستندو خوردندد برخاستند کی کارروائی مکمل کرکے دسمبر کی کوئی تاریخ دے دیتے ہیں …… ہاں البتہ سال اور سن کا ذکر نہیں کرتے!اُدھر مسلم امہ کی سب سے طاقتور اور مال دار ریاست سعودی عرب کا یہ حال ہے

تو دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت (انڈیا) کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ کل ہی ایک طیارہ ساز کمپنی ڈسالٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 75لاکھ یورو کا ”خفیہ کمیشن“ اسی شخص کو ادا کیا ہے جو آگسٹا ویسٹ لینڈ طیارہ ساز کمپنی میں 36لڑاکا طیاروں کی فروخت میں ملوث تھا۔ اس کی تفصیل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔ کیا یہ کرپشن نہیں؟ اگر ہے تو پھر جس ملک نے رشوت دی ہے وہ بھی بدعنوان ٹھہرا اور جس نے لی ہے وہ بھی بدعنوان ہے۔ ہتھیاروں کی سیلز میں اگر کِک بیک یا کمیشن روا ہے تو باقی اشیائے خرید و فروخت میں روا کیوں نہیں؟…… اور یہ فرانس اور انڈیا یا اٹلی کی بات نہیں۔ سارا یورپ، ایشیا، افریقہ، امریکہ اور آسٹریلیا اسی ”دھندے“ میں ملوث ہیں۔یہ بڑے بڑے اور جدید ترقی یافتہ ممالک اگر آج ترقی کے بامِ عروج پر ہیں تو یہ سب بدعنوانی کی برکتیں ہیں۔وہ اقوام اس کو بدعنوانی نہیں ”تجارتی ضرورت“ کا نام دیتی ہیں۔ لیکن ہم اور ہمارا وزیراعظم نجانے کس بدعنوانی کی بات کرتا ہے…… سوال ہے ملک کو آگے لے جانے کا…… عوام کو خوشحال بنانے کا…… دفاع کو مضبوط کرنے کا…… تجارتی حجم بڑھانے کا…… بدعنوانی کا پیسہ استعمال کرکے مزید دولت کمانے کا…… اور ملک کے باقی محکمہ جات سب کے سب اسی چور کلچر کے پیروکار ہیں۔ ساڑھے تین سال کے بعد اگر خان صاحب کو ہوش آ جائے کہ بدعنوانی پاکستان کا مسئلہ نہیں …… جو ہو چکا وہ ہو چکا…… اسے بھول جائیں …… اور خواہ مخواہ عوام کوگمراہ نہ کریں۔ صرف اس بات کو سمجھیں کہ کوئی ملک، کوئی معاشرہ اور کوئی قوم ترقی کی سیڑھی پر چڑھتی ہے تو اس کے سارے زینے (Steps)زمین سے لے کر چھت تک کرپشن کی بدولت بنائے اور قائم کئے جاتے ہیں۔ اللہ بس، باقی ہوس!!……اس دنیا کی ریت یہی ہے کہ بدعنوانی کرو لیکن اپنے عوام کو جینے کا سہارا دو۔ خواہ وہ ریاست مدینہ ہو یا ریاستِ پاکستان سب کا ماٹو یہی ہونا چاہیے کہ:نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں ۔۔۔ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں ۔۔