خان صاحب : فیر اسی ناں سمجھیے ۔۔۔۔؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ابھی ابھی ایک دوست کا فون آیا ہے کہنے لگا چودھری صاحب وزیراعظم صاحب ولوں جواب ای سمجھو نہ تے چوری مکنی جے، نہ نواز شریف تے آصف زرداری دے پیسے واپس آنے جے، نہ کوئی وعدہ پورا ہونا جے تے

نہ کوئی بہتری ہونی جے۔ اساں کوئی ایس واسطے ووٹ پایا سی کہ تن سال بعد وزیراعظم مہنگائی نوں آصف زرداری تے نواز شریف دے پیسیاں نال جوڑ دیوے ایہدا مطلب اے اساں ناں ای سمجھیے۔میں نے کہا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اس پر میں کیا جواب دیتا کیونکہ حقیقت تو یہی ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا سب سے بڑا نعرہ بدعنوانی کے خاتمے کا تھا لیکن تین سال میں حکومت میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری ایک روپیہ نہیں نکلوا سکی، پیسے واپس لینا تو دور کی بات دونوں حکومت کی پہنچ سے اتنی دور ہیں انہیں چھونا بھی ممکن نہیں رہا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بائیس سال تک بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے محض تین سال میں ہی یو ٹرن لے لیا ہے۔ تین سال تک تمام تر طاقت اور اختیار کے باوجود میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سے کچھ بھی واپس نہیں لیا جا سکا اور اب انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر دونوں بڑے خاندان پیسے واپس لے آتے ہیں تو کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں پچاس فیصد کمی کر دوں گا۔ وزیراعظم عمران خان کی اس پیشکش کا مطلب ہے کہ نہ ان کے پیسے واپس آنے ہیں نہ مہنگائی کم ہونی ہے یعنی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ چلیں ایک بات تو واضح ہوئی کہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری اب حکومت کی پہنچ سے باہر ہیں۔ حکومت ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔

اگر حکومت کچھ اچھا بھی کرنا چاہتی ہے تو اسے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی خدمات ہی حاصل کرنا پڑیں گی۔ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ کچھ بھی حکومت کے قابو میں نہیں ہے۔ ملک بھر میں چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پشاور میں چینی نے بڑھتی ہوئی قیمت میں پیٹرول کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔پشاور میں کریانہ پر ایک کلو چینی کی قیمت ایک سو چالیس سے ایک سو پینتالیس روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ کراچی اور کوئٹہ میں ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت ایک سو چوبیس روپے تک جا پہنچی ہے۔ لاہور میں ہول سیل مارکیٹ میں چینی کے نرخ ایک سو بیس سے ایک سو چوبیس روپے جب کہ ریٹیل میں چینی ایک سو تیس روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ لاہور میں اکثر دکانوں پر پاکستانی چینی دستیاب ہی نہیں ہے۔ دکاندار کہتے ہیں کہ ایک سو پچیس روپے کلو تھوک میں چینی خرید کر کیسے سستی بیچی جا سکتی ہے۔درآمدی چینی نوے روپے کلو مخصوص دکانوں پر دستیاب ہے، مگر یہ چینی باریک، مٹھاس میں کم ہے اور زیادہ استعمال کرنا پڑتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ وہ عوام کے لیے بہت بڑا ریلیف لا رہے ہیں۔ شاید وہ ریلیف یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس مرتبہ وزیراعظم نے خود قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ تین سے چار مہینے میں تیل کی قیمتیں سو فیصد بھی بڑھ گئی ہیں

لیکن ہمارے ملک میں تینتیس فیصد بڑھی ہے۔ بھارت میں تیل کی قیمت دو سو پچاس روپے، بنگلا دیش میں دو سو روپے اور پاکستان میں ایک سو اڑتیس روپے ہے۔ وزیراعظم نے عوام کو خبر دی ہے کہ ابھی سے بتا رہا ہوں کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔ جناب وزیراعظم قوم کو یہ ضرور بتا دیں کہ دو خاندانوں کی دولت کا مہنگائی سے کیا تعلق ہے، آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ بدعنوانی ختم کریں گے اور لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی۔ قوم نے آپکی باتوں کو سچ مانا سمجھا اور اس پر عمل کرتے ہوئے جنہیں آپ چور کہتے تھے انہیں چور مان کر اقتدار سے باہر کر دیا اور آپ کو ایوانِ وزیراعظم میں پہنچا دیا تھا اس کے بعد سارا کام آپ نے کرنا تھا۔ عوام نے اپنی ذمہ داری نبھائی لیکن کیا آپ اپنا وعدہ نبھانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ پاکستان کے ووٹرز نے ملک میں تبدیلی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، ووٹر نے موسموں کی سختیاں برداشت کیں لیکن اس نے پاکستان تحریکِ انصاف کو وہاں پہنچایا جس کے لیے بائیس سال محنت ہوتی رہی لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی عام آدمی کے خواب چکنا چور ہونا شروع ہو گئے اور آج یہ حالت ہے کہ لوگ تبدیلی اور خواب کے نام سے ہی ڈرنے لگے ہیں۔ اس تبدیلی نے اچھے بھلے لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ گاڑیوں والے پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل پر آ گئے ہیں اور حکومت اسے اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے، جب آپ عالمی وبا کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند کریں گے تو لوگ متبادل ذرائع کی طرف ہی جائیں گے۔ بدقسمتی سے حقائق کو سمجھنے کے بجائے آپ اسے اپنے فائدے کے بیانیے کے لیے استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت یہ تو کہتی ہے کہ فلاں کام پر بین الاقوامی ادارے اس کی تعریف کر رہے ہیں، حوولہ افزائی کر رہے ہیں لیکن حکومت کو اپنے ووٹرز کی چیخ و پکار کیوں سنائی نہیں دیتی، کیا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کوئی عالمی ادارہ اپنے ووٹرز سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ عام آدمی بد دعاؤں سے دن کا آغاز اور اختتام کرتا ہے، وہ ہر روز جیتا اور جان سے جاتا ہے لیکن کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس پر خوشیاں منائیں لیکن اپنے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.