خان صاحب کی وہ غلطی جسے پوری دنیا نے نوٹ کر لیا ہے :

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ذہن سازوں نے ہمیں فروعات میں الجھا کر کنوئیں کے مینڈک بنارکھا ہے۔15اگست 2021کے دن سے امریکہ اور اس کے اتحادی جس ذلت آمیز انداز میں افغانستان سے فرار ہوئے اس نے واشنگٹن میں بیٹھی اشرافیہ کو چراغ پا کردیا۔امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بیٹھے

کئی سرکردہ اراکین نے ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دکھائے اجلاسوں کے دوران اپنے جرنیلوں کو سخت ترین سوالات اٹھاتے ہوئے دیوار سے لگائے رکھا۔نامور صحافی نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔امریکی صدر بائیڈن کی بھی اس ضمن میں مسلسل بھد اڑائی جارہی ہے۔ایسے حالات میں فقط تالبان ہی نہیں پاکستان کو بھی ان کا سرپرست بتاتے ہوئے امریکی ذلت ورسوائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔طیش وغضب کے اس عالم میں سفاک اشرافیہ انسانی مسائل پر غور کے قابل نہیں رہتی۔امریکہ کی فیصلہ ساز اشرافیہ کی اجتماعی سوچ کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیں تو بآسانی دریافت کیا جاسکتا ہے کہ وہ افغانستان کو اپنا درد سر تصور نہیں کرتی۔ وہ مصر ہے کہ تالبان اور ان کے حامی امریکہ کو افغانستان کا قابض ملک شمار کرتے تھے۔اس قبضے سے نجات کے لئے 20سال تک پھیلی لڑائی ہوئی۔اس لڑائی کے دوران جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔ فریقین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے بربریت کی آخری حدوں تک چلے گئے۔بالآخر امریکہ کو ذلت ورسوا ہوکر افغانستان سے فرار ہونا پڑا۔ذاتی طورپر عرصہ ہوا میں نے خارجہ امور کی بابت عملی رپورٹنگ ترک کررکھی ہے۔میرے جو ساتھی ان پر نگاہ رکھتے ہیں ان میں سے کئی ذمہ دار افراد نے کامل پریشانی سے مجھے بتایا ہے کہ کابل ،اسلام آباد یا واشنگٹن میں جب ان کی امریکی حکام سے گفتگو ہوئی تو ان کا اجتماعی رویہ پاکستان کے بارے میں شدید مخاصمانہ تھا۔تالبان کی کابل میں فاتحانہ واپسی کے بعد ہمارے وزیر اعظم نے ایک بیان دیا تھا۔

اس کے ذریعے انہوں نے اعلان کیا کہ افغانوں نے بالآخر غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔میرے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ واشنگٹن میں بیٹھے کئی اہم فیصلہ سازوں نے مذکورہ بیان کو واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا۔ان فیصلہ سازوں کا عمومی رویہ اب یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کو جدید جمہوری ملک بنانے میں یقینا ناکام رہا ہے۔امریکی شکست کو مکارانہ انداز میں تسلیم کرنے کے بعد مگروہ کندھے اچکا کر یہ پیغام دینے کو بھی بضد رہتے ہیں کہ افغانستان چونکہ طویل مزاحمت کے بعد آزاد وخودمختار ملک بن گیا ہے تو اب وہاں جو مسائل ابھررہے ہیں ان کا حل فراہم کرنابھی تالبانی بندوبست کی ذمہ دار ی ہے۔تالبانی بندوبست اگر اپنے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو نئی بدامنی کے اثرات یقینا افغانستان کے ہمسایہ ممالک تک بھی پہنچیں گے۔پاکستان،ایران،ازبکستان اور تاجکستان اس ضمن میں سرفہرست ہیں۔روس اور چین کے لئے بھی وہ تشویش کا باعث ہوں گے۔ امریکہ سات سمندر پار ہوتے ہوئے لیکن ممکنہ اثرات سے محفوظ رہے گا۔اسے افغانستان کی بابت فکر مند ہونے کی لہٰذا ضرورت نہیں۔اب افغانستان جانے اور اس کے ہمسائے۔امریکہ اس کے حالات سدھارنے کے لئے مزید وقت اور سرمایہ ضائع کیوں کرے۔مجھے ہرگز خبر نہیں کہ اسلام آباد میں بہت تگ ودو کے ذریعے ہونے والا او آئی سی کا وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس مذکورہ بالا رویے کو کیسے بد ل سکتا ہے۔

Comments are closed.