خاکروبوں کی بھرتی کے لیے بھی پیسے لیے جانے کا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مجھے اِس کا ادراک ہے وطن عزیز کے ہرشعبے کی ان گنت خرابیاں راتوں رات درست نہیں ہوسکتیں۔ پر میں یہ بات بھی پوری کوشش کے باوجود ذہن سے نہیں نکال پارہامیرے دوست وزیراعظم نہ صرف اقتدار سنبھالنے سے

پہلے بلکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی بارہا زوردے کر فرماتے رہے ” سودِنوں بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا“۔ہمیں پتہ تھا یہ نہیں ہوگا، ہم اُن سے گزارش کرتے رہے یہ بات کہنا وہ چھوڑدیں، وہ اپنی ضِد پر مگر اڑے رہے، نتیجہ یہ ہے اڑھائی برس اُن کے اقتدار کے بیت گئے سب کچھ ٹھیک ہونے کے بجائے جو کچھ ٹھیک تھا وہ بھی خراب ہوگیا، شکرہے اپنے کسی ”بے وقوف دوست“ کے بار بار سمجھانے پر اب پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ بنانے کی بات وہ نہیں کرتے، وہ شخص پاکستان کو ریاست مدینہ کیسے بناسکتا ہے جس کی ٹیم میں مالی واخلاقی بُرائیوں سے لبالب بھرے ہوئے لوگ ہوں؟،”ٹیم“ سے یاد آیا اکثر لوگ سسٹم کے مزید تباہ ہونے کی ساری ذمہ داری خان صاحب کی ٹیم پر ڈال دیتے ہیں، پہلی بات یہ ہے اُن کی ٹیم کسی اور نے نہیں خود اُنہوں نے منتخب کی ہے، دوسری بات یہ ہے خان صاحب کی ٹیم کو ”ناتجربہ کار“ ٹیم اِس لیے نہیں کہا جاسکتا اُن کی ٹیم کے اکثر ”کھلاڑیوں“ نے کئی کئی ”وزارتیں“ ہنڈائی ہوئی ہیں، اُن کے بہت سے وزراءتقریباً ہرحکومت کے وزراءہوتے ہیں، سو اُن کی ٹیم کو ”ناتجربہ کار ٹیم“ نہیں کہا جاسکتا، نااہل ضرور کہا جاسکتا ہے، جس طرح سابقہ حکومتوں میں وہ نااہلی کا مظاہرہ کرتے رہے، اُسی طرح یہ ”فرض“ موجودہ حکومت میں رہ کر بھی وہ نبھا رہے ہیں، لہٰذا قوی امکان ہے اِس ٹیم کے ساتھ کوئی بہتری نہیں لائی جاسکتی، البتہ یہ بات من وعن تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں

کہ اِس ٹیم کے ساتھ مزید خرابیاں ضرور لائی جاسکتی ہیں، خان صاحب اِس ٹیم کو ساتھ رکھنے کے لیے مجبور ہیں، کوئی مجبور شخص یا مجبوریوں اور مصلحتوں کا مارا ہوا کوئی شخص سسٹم میں کوئی تبدیلی کیسے لاسکتا ہے؟ وہ سسٹم تبدیل کرنے آئے تھے سسٹم نے اُنہیں تبدیل کردیا، نقصان ہم جیسوں کا ہوا، اِک آخری اُمید پر یہاں بیٹھے تھے وہ بھی اُٹھ گئی، ہم جب لوگوں کو بلکہ مصیبتوں اور دُکھوں کے ستائے ہوئے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں اگلے ایک دوبرسوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، وہ فرماتے ہیں ”آپ کے پچھلے ایک دوبرسوں میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا، اگلے ایک دوبرسوں میں کیسے ہوگا، ویسے بھی آپ نے تو ”سودِنوں“ میں سب کچھ ٹھیک کرنا تھا، کیا اگلے ایک دوبرسوں میں خان صاحب اپنے اِردگرد موجود کچھ غلیظ اور بدنیت لوگوں سے جان چھڑوالیں گے؟۔کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی ہے اِس ملک کی ”اصلی قوتیں“ خان صاحب کو چلنے نہیں دے رہیں“، ممکن ہے اِس مُلک کی ”اصلی قوتوں“ کے چند شعبوں میں کچھ ”انٹرسٹ “ ہوں، پر یہ کیسے ہوسکتاہے اِس مُلک کی ”اصلی قوتیں“ کسی حکمران کو کوئی ایک شعبہ ٹھیک نہ کرنے دیں؟۔ اِن ”اصلی قوتوں“ کے شعبہ تعلیم یا صحت کے انتہائی بگڑے ہوئے معاملات کو درست نہ کرنے میں کیا انٹرسٹ ہوسکتا ہے؟۔ حکومتی ترجمان تو ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہارہے ہیں، بلکہ مسلسل بہاتے چلے جارہے ہیں، کتنے عام لوگ ہیں جو دِل سے یہ اعتراف کریں گزشتہ اڑھائی برسوں میں کوئی ایک شعبہ مکمل طورپر نہ سہی، تھوڑا بہت ہی درست ہوگیا ہے؟،

لوگوں کے منہ تو کوئی بند نہیں کرسکتا جو یہ کہتے ہیں اگر ٹھیک ہونا ہوتا پہلے سال ہی کوئی جھلک اِس کی دکھائی دینے لگتی،…. چلیں مان لیتے ہیں اُوپر کی چوری لوٹ مار رُک گئی ہے، مگر نیچے کی جوچوری اور لوٹ مار بڑھ گئی ہے، بلکہ کئی گنا بڑھ گئی ہے، حتیٰ کہ وزیراعظم خود اِس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں، اِس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟یہ بھی سوچنے والی بات ہے اگر اُوپراتنی چوری یا مالی بدعنوانی کی نہیں ہورہی تو نیچے اتنی کیسے ہورہی ہے؟، فیصل آباد کے کچھ اعلیٰ افسروں نے بتایا پی ٹی آئی کے کچھ منتخب لوگوں نے یہاں ”اندھیر نگری“ مچائی ہوئی ہے، حتیٰ کہ ”خاکروبوں“ کی بھرتی کے بھی پیسے لیے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت کی جو ”کارکردگی“ ہے پی ٹی آئی کے کچھ منتخب لوگ شاید اِسی یقین میں مبتلا ہوں گے“یہ اُن کی پہلی اور آخری حکومت ہے سوجتنا مال وہ اکٹھا کرسکتے ہیں کرلیں“….صرف نون لیگ یا اپنے سیاسی مخالفین پر لگنے والے ہر جھوٹے سچے الزام کو سننے کے عادی حکمران اپنی جماعت کے لوگوں کی خبرگیری شروع کردیں اُن کے ہوش ٹھکانے آجائیں کہ اُن کی جماعت میں موجود کچھ سانپ، ٹھویں اور مگرمچھ اُن کے اور اُن کی جماعت و حکومت کے وقار کو کیسے کیسے ”سائٹیفیک “ انداز میں ڈنگ رہے ہیں؟۔ سیاسی حکومتوں کو نہ چلنے دینے میں کچھ کردار ”اصلی قوتوں“ کا بھی یقیناً ہوگا پر سیاسی حکومتوں کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان ”آستین کے سانپ“ یعنی سیاسی حکومتوں کے کچھ اپنے لوگ ہی پہنچاتے ہیں۔۔

Comments are closed.