خبردار ہوشیار: کورونا سے مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں پر نہ چلے ورنہ ۔۔۔۔۔ مشہور امریکی اخبار کی حکومت پاکستان کو وارننگ

نیویارک (ویب ڈیسک) جنوبی ایشیا کے ممالک میں کورونا پھیلائو کے شدید اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے دوماہرین نے اپنے مشترکہ مضمون میں پاکستان کا ذکرکرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے معاملے میں پاکستان امریکا اور یورپ کے مالدار ممالک کی حکمت عملی کی نقل نہ کرے بلکہ سیرالیون جیسےمحدود وسائل رکھنے والے ممالک کی کامیاب

اور کم خرچ حکمت عملی کا جائزہ لے۔نامور صحافی عظیم ایم میاں اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں دونوں ماہرین معاشیات نے کہا ہے کہ مالدار اور ترقی یافتہ امریکا و کینیڈا لاک ڈائون کے متاثر عوام میں ڈالرز تقسیم کرنے اور کورونا سے ہونےوالے معاشی نقصان کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک کو ان مالدار ملکوں کی تقلید کرنے سے بڑا نقصان ہوگا۔ مضمون کے مصنف ماہر معیشت نکولو میریگی (Nicolo Merigi) اور امریکی یونیورسٹی YALE، سے وابستہ پروفیسر آف اکنامکس احمد مشفق مبارک نے افریقی ملک سیرالیون کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سیرالیون نے 2014ء میں ’’ایبولا‘‘Ebola نامی وائرس کی خطرناک بیماری کے بحرانی ایام میں اپنائی گئی کامیاب حکمت عملی سے اب کورونا وائرس کے بارے میں بھی اپنے محدود وسائل کے باوجود کم لاگت حکمت عملی اپنا رہا ہے اور 15 جون 2020ء تک سیرالیون میں صرف 51 اموات اور 1176 کورونا کے کیسوں کی تصدیق ہوئی۔ سیرالیون نے 11؍ اپریل سے ’’سافٹ‘‘ لاک ڈائون شروع کرتے ہوئے اپنے اضلاع کے درمیان سفر پر پابندیاں عائد کیں اورکام کرنے کے اوقات میں کمی اور تبدیلی کرکے روزگار کے سلسلے قائم رکھے، ایئرپورٹ پر اسکریننگ اور قرنطینہ کا نظام قائم کیا، چہروں پر ماسک اور پلاسٹک کی بالٹیاں اور ڈرم پانی سے بھر کر جگہ جگہ ہاتھ دھونے کیلئے صابن کا انتظام کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.