خصوصی معلوماتی تحریر : اوریا مقبول جان

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔زنِ بازاری جسے عرفِ عام میں ’’طوائف‘‘ اور بازاری زبان میں ’’رنڈی‘‘ کہا جاتا تھا، انسانی تہذیب کے اوّلین دَور سے اپنی شکلیں، رُوپ اور انداز بدلتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طوائف انسانی تاریخ کا پہلا پیشہ، دھندا یا کاروبار ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس میں لطافت، باریکی اور نفاست آتی گئی، یوں جو اس دھندے کا اصل مقصد تھا، وہ سات پردوں میں چھپا دیا گیا اور بازارِ حُسن کے ظاہری ماحول کو رنگین، دلچسپ اور دلآویز بنانے پر تمام توانائیاں صرف کر دی گئیں۔ برصغیر پاک و ہند میں طوائف کے کوٹھے کی اپنی ایک مسحور کن دُنیا تھی، جس میں زبان و بیان کی نزاکت، آدابِ محفل کے رسم و رواج، شاعری کا ذوق، موسیقی اور رقص کی رنگینی اور سب سے بڑھ کر طوائف کے نخرے، عشوے اور نازو ادائ۔ بازارِ حُسن کی دُنیا، انسانی معاشرے میں ایک ایسا جزیرہ تھی، جس کی اخلاقیات اور خاندانی زندگی باقی دُنیا سے بالکل الگ ہوتی۔ شرم و حیاء کو عام معاشرے میں عورت کا زیور سمجھا جاتا تھا تو بے باکی، دِلربائی اور ادائوں کی دلکشی طوائف کی پہچان تھی۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ نے ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ میں اس تہذیبی تفاوت یعنی عام معاشرے کی اقدار کا بازارِ حُسن کی دلربائی سے موازنہ کرنے کو ایک مصرعے کے ساتھ بے شمار گرہیں لگا کر اس طرح واضح کیا ہے۔ بَلا جانے ہم بہو بیٹیاں، یہ کیا جانے عشق کی بات، بیسوا جانے ہم بہو بیٹیاں، یہ کیا جانے ناز و انداز ، عشوۂ طرازی، نمائشِ حُسن، آواز کی لوچ، رقص کی دُنیا اور موسیقی کا جادو، یہ سب دراصل زنِ بازاری کی ایک نپی تُلی اشتہاری مہم ہوا کرتی تھی، جس کی تربیت، طوائف کو پیدا ہوتے ہی ملنا شروع ہو جاتی تھی۔ اسی اشتہاری مہم کے جال میں بڑے بڑے نواب،

رئیس اور دولت مند لوگ کچے دھاگے سے بندھے چلے آتے تھے۔ ان رئیس زادوں کو جسمانی تلذذ کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کی حویلیوں اور گھروں میں موجود بہو بیٹیاں ویسے عشوۂ و ناز و انداز اور بے باکی سے ناواقف تھیں جو طوائفوں کا خاصہ تھا اور وہ تہذیبی شرم و حیاء کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے، گھروں کی چار دیواری میں اپنی زندگی گزارتی تھیں۔ ان شریف زادیوں کو طوائفوں جیسی ادائوں سے لبھانا آتا تھا نہ ایسا بہروپ بھرنا جس پر ریجھ کر ان کا خاوند گھر کا ہی ہو رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان گھریلو عورتوں کی زندگی کی پہچان عمر بھر کی وفا اور پاکبازی تھی، جبکہ طوائف کے کوٹھے پر ایک نواب کی عزت و توقیر بس اتنے دن تک ہی رہتی تھی، جب تک اس کی مالی حیثیت طوائف کی ادائوں کی قیمت چکانے کے قابل ہوتی۔ کتنے ہی کنگال نواب اور رئیس ایسے ہوتے، جو سب کچھ لٹانے کے بعد ایسے تباہ حال ہو جاتے کہ اسی بازار میں پڑے رہتے اور آنے والے تماش بینوں کے حُقّے تازہ کرتے اور پان کی گلوریاں پیش کرتے۔ جس طرح جسم فروشی قدیم ترین پیشہ ہے، اسی طرح اس سے منسلک اشتہاری مہم یا ایڈورٹائزنگ کا ہنر بھی اتنا ہی قدیم ہے۔ طوائف کے غمزۂ و عشوۂ و اداء کی اشتہاری مہم کا کمال یہ تھا کہ ایک شخص ضرورت نہ ہونے کے باوجود اس بازار کی چکا چوند میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ ایک ایسے مال کا خریدار بن جاتا ہے جو سراسر دھوکہ، ناقابلِ اعتبار حد تک بے وفاء اور لیپا پوتی سے اس کے عیوب بھی چھپائے ہوئے ہے۔

عام زندگی میں نوابوں اور رئیسوں کو اس کی چنداں ضرورت نہ ہوتی لیکن جو اس دام میں پھنس گیا، پھر نہ نکل سکا۔ انسانی تاریخ کی معلوم کہانی پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ مؤرخین نے ان پانچ ہزار سالوں کی تحریری تاریخ مرتب کی ہے، جبکہ ان سے پہلے کے لاکھوں سال کی نشانیاں، آثارِ قدیمہ کی صورت میں ملتی ہیں جن پر تحقیق سے مسلسل تاریخ مرتب ہوتی رہتی ہے۔ لاکھوں سال کے اس تاریخی سفر میں حیران کن بات یہ ہے کہ آج سے صرف ڈیڑھ سو سال قبل عورت کو اشیاء کی فروخت کیلئے ایک اشتہار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔ اس سے پہلے انسان کاروبار بھی کرتا تھا اور عالیشان تہذیبوں کا خالق بھی تھا۔ بابل کی تہذیب کے لٹکتے باغات، دریائے نیل کے کنارے اہرامِ مصر، چین کے پہاڑوں میں طویل دیوارِ چین، اجنتا اور ایلورا کی غاریں اور ماضی قریب کے عجائبات جیسے تاج محل اور پیسا ٹاور، یہ سب زمین پر انسانی ترقی کی علامتیں ہیں۔ ہر طرح کے بازار سجتے تھے، جن میں ریشم و اطلس و کمخواب سے لے کر کوزہ گر کے ظروف تک سب کچھ بِکتا تھا۔ منقش درودیوار اور منبت کاری سے کشیدہ کاری تک ہر ہنر مند اپنا ہنر بازار میں لے کر آتا اور لوگ اس کی مہارت ، صلاحیت اور کام کی نفاست کی داد دیتے ہوئے اس کی اشیاء خریدتے۔ محنت کش، آرٹسٹ اور ہنر مند کا ہنر بولتا اور وہ بذاتِ خود اپنی تشہیر خود ہوتا۔ لیکن گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے جدید کارپوریٹ مغربی تہذیب نے زنِ بازاری کے قدیم پیشے سے

اس چیز کو بالکل علیحدہ کر کے اسے خالصتاً ایک جسمانی ضرورت کا بازار بنا کر مساج پارلروں، رقص گاہوں اور نائٹ لائف سے وابستہ کر دیا اور وہاں کام کرنے والی خواتین جنہیں سیکس ورکر کہا جاتا ہے، ان کی صدیوں پرانی نزاکت اور عشوۂ طرازی چھین کر ان کا جسمانی لذّت والا کھردرا پن نمایاں کر دیا گیا۔ جبکہ ناز و انداز، عشوۂ و اداء اور دل لبھانے کے تمام آداب جو کبھی زنِ بازاری کی بے باکی کا خاصہ ہوتے تھے وہ سب اشتہارات کی دُنیا کا حصہ بنا دیئے گئے۔ اب کسی ہنر مند کی ہنر مندی، کسی محنت کش کی محنت اور کسی کاریگر کی صناعی اس وقت تک مقبولیت کا درجہ حاصل نہیں کر پاتی، جب تک اسے مقبولِ عام بنانے، اس کی طرف مائل کرنے اور لوگوں کو اسے خریدنے کیلئے قائل کرنے کے واسطے حُسن و اداء کی دولت سے مالا مال ’’ماڈل‘‘ اس کی تشہیر نہ کرے۔ عورتوں کے غمزۂ و عشوۂ و اداء کو بازار کی زینت بنانے کا آغاز بیسویں صدی یعنی ٹھیک سن 1900ء میں ہوا اور اس ’’بازاری مہم جوئی‘‘ کا آغاز بھی کارپوریٹ دُنیا کے مرکز و منبع امریکہ ہی سے ہوا۔ عورت کے حُسن و اداء کو بازار میں لانا اور اس کی چکا چوند کے ذریعے اشیائے صرف کا بازار گرم کرنا، انسانی تہذیبی تاریخ کا نقطۂ عود “Turning Point” تھا۔ سب سے پہلا اشتہار بظاہر بہت مختصر سا تھا جس میں ایک خاتون کے ہاتھ میں سگریٹ تھمایا گیا تھا اور اس کے نیچے لکھا تھا۔”I wish I were a Man” (کاش میں ایک مَرد ہوتی)۔ لیکن اس آغاز نے کاروبار کی دُنیا اور مارکیٹ کی تاریخ ہی بدل دی۔ یہ اشتہار نیبو سگریٹ(Nebo Cigarette) نے 1911ء میں شائع کیا تھا۔ اس وقت اخبارات میں اس اشتہار پر جو تبصرے شائع ہوئے تھے ان کا خلاصہ یہ ہے۔پہلی ورلڈ وار سے قبل سگریٹ پینے کو طوائفوں کی اخلاقی پستی یا گمراہ خواتین کے تلون مزاج کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن شاطر مارکیٹنگ نے اسے زوال اور پستی کی علامت کی بجائے عورتوں کی آزادی و خود مختاری کی علامت بنا دیا‘‘۔ یہ تھا وہ موہوم اور چھوٹا سا آغاز جس میں عورت کو آزادی کا خوبصورت جھانسہ دے کر اس کے صدیوں پرانے دل لبھانے اور ریجھانے کے تصور اور عشوۂ و اداء کو رونقِ بازار میں گرمئی بازار پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا گیا

Comments are closed.