خفیہ ہاتھ والے اپنی عادت بدل کیوں نہیں لیتے ۔۔۔۔؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ رشید وفاقی وزیر داخلہ ہیں، عمران خان حکومت میں اُنہیں ایک اہمیت حاصل ہے، وہ خود کو اسٹیبلشمنٹ اور فوج کا نمائندہ بھی کہتے ہیں۔ شیخ صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی عمران خان حکومت کے سر سے ہاتھ نہیں آُٹھا۔

یعنی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ابھی بھی تحریک انصاف کی حکومت پر ہے، اس لیے اُسے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں اُن کی حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ کی پالیسیاں 20دن کی نہیں بلکہ 20سال کے لیے ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے یہ کہہ کر سب کو بتا دیا کہ عمران خان کہیں نہیں جا رہے۔ یعنی وفاقی وزیر داخلہ اُس Perceptionکو تقویت دے رہے ہیں جس کے مطابق عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا ایک پروجیکٹ ہیں اور اس پروجیکٹ کو 20سال کے لیے بنایا گیا ہے۔ آصف علی زرداری نے حال ہی میں جب کہا کہ اُن کے پاس فارمولے (یعنی اسٹیبلشمنٹ) والے آئے تھے، مدد مانگنے، کہ اِس ملک کو موجودہ صورتحال سے کیسے نکالا جائے؟ جس پر اُنہوں نے کہا کہ پہلے اِس (یعنی عمران خان) کو نکالو پھر بات کریں گے۔ زرداری صاحب کی اِس بات پر اسٹیبلشمنٹ ناراض تھی، یہ بھی کہا کہ اگر زرداری سچے ہیں تو پھر نام لیں اُس فارمولے والے کا جو اُن کے پاس مدد مانگنے آیا تھا لیکن اب تو ایک وفاقی وزیر نے وہ الزام اسٹیبلشمنٹ پر لگا دیا، جس کی شکایت اپوزیشن کرتی ہے۔ شیخ صاحب نے تو جو بولا وہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو ثابت کرتا ہے۔ اس پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی تردید، کوئی وضاحت ضرور آنی چاہیے تھی۔ اگرچہ کچھ عرصہ قبل میری ایک اہم عسکری شخصیت سے ملاقات ہوئی جس میں اُنہوں نے کہا کہ شیخ صاحب جو کہتے ہیں کہ وہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے Spokesmanہیں، ایسا بالکل نہیں۔

اب تو شیخ صاحب نے حکومت کے سر پر ہاتھ کے رکھے رہنے اور 20سال کی پالیسی کا بھی ذکر کر دیا، جو دراصل فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو متنازعہ بنانے کے مترادف ہیں لیکن افسوس اِس بات کا ہے کہ اگر شیخ صاحب اور دوسرے حکومتی وزراء اور رہنما اِس کوشش میں ہیں کہ یہ ہاتھ اُن کے سر پر ہی رہے۔چاہے ہاتھ رکھنے والوں کے بارے میں دوسرے جو مرضی سوچیں اور جو مرضی کہیں، تو المیہ یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری اسی ہاتھ سے تقاضا کررہے ہیں کہ نہ صرف عمران خان حکومت کے سر سے ہٹ جائے بلکہ اُس حکومت کو چلتا بھی کر دے۔ اور پھر اسی ہاتھ سے پیپلز پارٹی کو یہ بھی توقع ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں کوئی ایسا فارمولا بنائے کہ زرداری صاحب آئندہ حکومت بنا لیں اور بعد میں بھی یہ ہاتھ اُن کے سر پر رہے۔ جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے تو اُن کو اس ہاتھ پر اعتراض ہے کہ وہ ابھی تک عمران خان کے سر پر کیوں موجود ہے۔ ن لیگ یہ بھی چاہتی ہے کہ یہ ہاتھ نہ صرف عمران خان حکومت کے سر سے ہٹ جائے بلکہ یہ ہاتھ عمران خان حکومت کو فارغ بھی کردے اور پھر نیوٹرل ہو جائے، الیکشن آزادانہ ہونے دے، کوئی مداخلت نہ ہو، کوئی پولیٹیکل انجینئرنگ بھی نہ ہو تاکہ عوام کے ووٹ سے ن لیگ حکومت بنا لے۔ گویا تینوں فریقین کو اپنے اپنے Interest میں اُس ہاتھ کی مدد چاہیے اور یاد رہے یہ وہی ہاتھ ہے جس کے سیاسی کردار پر اپنی تقریروں میں، منشوروں میں سب اعتراض کرتے ہیں۔ ویسے ہاتھ والوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ اگر واقعی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے اور رہنے کے لیے اُن کی مدد اور حمایت کی اتنی عادی ہو چکی ہیں تو اس سب کا ہاتھ والوں کو خود، اس ملک اور اداروں کو کتنا نقصان ہوا؟ یہ ہاتھ جس کام کے لیے بنا اگر وہی کرے تو یہی ملک اور قوم کے مفاد میں ہے۔ سیاستدان اپنی عادت بدلیں، ہاتھ والے بھی اپنی عادت بدلیں پاکستان کے لیے۔