خواتین کو بھوک زیادہ لگتی ہے یا سردی :

لاہور (ویب ڈیسک) سردی کے موسم میں تقریبات میں جائیں تو مردوں نے بھاری بھرکم کوٹ اور جیکٹس وغیرہ پہن رکھی ہوتی ہیں جبکہ خواتین ایسے میں بھی سردی کا کم اور اپنے فیشن کا زیادہ خیال کرتی ہیں اور ایسے ملبوسات پہنے نظر آتی ہیں جیسے انہیں سردی لگتی ہی نہ ہو۔

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ماہرین نے بھی اس حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف کر دیا ہے۔ رواں سال اگست میں برٹش جرنل آف سائیکالوجی میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ خواتین کو واقعی مردوں کی نسبت کم سردی لگتی ہے اور اس کا تعلق نفسیات سے ہوتا ہے۔ اس تحقیقاتی ٹیم کی ایک رکن روزینی فیلنگ نے اب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس حوالے سے بتایا ہے کہ خواتین کے لیے سردی لگنے سے زیادہ یہ بات اہم ہوتی ہے کہ وہ کتنی خوبصورت نظر آتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ہم کسی ایک چیز پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اسے اولین ترجیح بنا لیتے ہیں تو ہمارے جسم کی دیگر انتہائی ضرورتیں بھی پس پشت چلی جاتی ہیں۔ یہی صورتحال خواتین اور انہیں سردی کم لگنے کے معاملے میں ہوتی ہیں۔ خواتین کے لیے پہلی ترجیح خوبصورت نظر آنا ہوتا ہے، وہ کتنی بھوکی ہیں اور انہیں کتنی سردی لگتی ہے وغیرہ جیسی باتیں ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو سردی کم محسوس ہوتی ہے۔کم خوابی یا نیند کاروٹھ جانا، اس کی شکایت ہمیں بھی ہے۔ پوری رات نیند نہیں آتی،شاید یہ کوئی عارضہ ہی ہے۔ گزشتہ تیس برس سے راتوں کو چاروں طرف گردن گھمانے والے پرندے کی طرح جاگتے رہتے ہیں، (اگر آپ کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ پرندہ کون سا ہوتا ہے

تو پھر ہماری طرف سے خود کو ’’الو‘‘ ہی سمجھیں)۔۔بہترین نیند کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ٹک ٹاک سے شہرت پانے والے ایک برطانوی ڈاکٹر نے اب اس سوال کا بہترین جواب دے دیا ہے۔ اپنی ایک ویڈیو میں ڈاکٹرصاحب بتاتے ہیں کہ رات کو بہترین نیند لینے کے لیے کبھی بھی سہ پہر 4بجے کے بعد قیلولہ مت کریں، اس طرح آپ کو رات کو نیند مشکل سے آئے گی۔ اس کے بعد روشنی سے بچنے کے لیے ’سلیپ ماسک‘ کا استعمال کریں۔ اندھیرا جتنا زیادہ ہو، دماغ اتنا ہی زیادہ میلاٹونین پیدا کرتا ہے جس سے نیند کامعیار بہتر ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کا مزید کہنا ہے کہ سونے سے کئی گھنٹے قبل چائے، کافی اور شوگری مشروبات وغیرہ کا استعمال ہرگز مت کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ رات 10بجے سوتے ہیں تو دن 12بجے کے بعد ان تمام چیزوں سے اجتناب برتیں۔ سونے سے 3گھنٹے کے دوران کوئی بڑا کھانا مت کھائیں۔ اپنے بیڈروم کا ماحول پرسکون رکھیں۔ سونے سے 2گھنٹے قبل ہر طرح کے کام بند کر دیں اور صرف آرام کریں اور سونے سے ایک گھنٹے قبل موبائل فون سمیت ہر طرح کی سکرین کا استعمال بند کر دیں۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔سانحہ سیالکوٹ کے حوالے سے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔۔ نیوٹن کے سرپرایک سیب گرا تو وہ سب کچھ سمجھ گیا اور دنیا کو ایک نئی تھیوری دے گیا،ہماری قوم پر کتنے ہی مصائب اور آفات گرچکیں لیکن ہم آج تک کچھ نہیں سمجھ پائے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔( ش س م)

Comments are closed.