خواجہ سرا ثوبیہ خان کو پی ٹی آئی حکومت نے بڑے عہدے سے نواز دیا

پشاور(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا سے پہلی خواجہ سرا کو جرگہ ممبر منتخب کر لیا گیا۔پشاور پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پشاور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سراء ثوبیہ خان کو پشاور میں تمام ڈی آر سیز کا ممبر منتخب کرلیا گیا ہے۔خواجہ سراء ثوبیہ نے بات چیت کے

دوران بتایا کہ خواجہ سراء کمیونٹی کے مسائل اور تنازعات کے حل کیلئے محکمہ پولیس کی جانب سے مجھے ممبر بنانا ایک احسن اقدام ہے‘ ٹرانس کمیونٹی کے لئے ہر جگہ آوازااٹھاوں گی۔ثوبیہ خان خواجہ سراؤں اور پولیس کے درمیان ایک ‘پل کا کردار’ ادا کریں گی۔ ثوبیہ خان خواجہ سراؤں کے سماجی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اس لیے ان کو پولیس اور خواجہ سراؤں کے درمیان بطور ڈی آرسیز ممبر اہم کردار ادا کرنے کے لیے چنا گیا ہے۔انھیں پولیس میں بھرتی نہیں کیا گیا اور نہ ہی تنخواہ یا ماہانہ الاؤنس کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پشاور میں قائم ڈی آر سیز مرکز میں تعیناتی کا مقصد خواجہ سراؤٰں کے تحفظات کو دور کرنا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں ڈی آر سیزمیں خواجہ سراؤں کو سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ کامیاب ہوا تو اس کو پورے صوبے میں توسیع دی جائے گی۔ پشاور پولیس کا خواجہ سراؤں کے ڈی آر سیز میں ذمہ داریاں سونپنے کا مقصدپولیس کی خدمات کو آسان اور قابل احترام انداز میں پیش کرنا ہے۔ثوبیہ خان پشاور کے علاقہ گلبرگ کی رہائشی ہیں‘خواجہ سراؤں کو عمومی طور پر معاشرے تو درکنار والدین کی جانب سے بھی قبول نہیں کیا جاتا۔لیکن ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ کا شمار ان خواجہ سراؤں میں ہوتا ہے جنہیں والدین نے قبول کیا اور وہ ان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ثوبیہ خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے والدین نے ہمیشہ سپورٹ کیا ۔ میں اپنے

والدین کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ میں اپنے والدین کے لیے قابل فخر بیٹی ہوں اور میری زندگی کا مقصد خواجہ سراء کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنا ہے۔خواجہ سراء ثوبیہ خان نے کہا کہ میں اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ اپنی کمیونٹی کی بہتری کے لیے کردار ادا کروں اور انہیں ہر لحاظ سے سہولت فراہم کروں۔ میں چاہتی ہوں کہ خواجہ سراؤں کے جو پولیس کے ساتھ براہ راست تحفظات اور خدشات ہیں ان کو ختم کر سکوں۔ اس کے علاوہ اپنی کیمونٹی کے مختلف مسائل اور تنازعات کے حل کیلئے اہم کردار ادا کروں۔ایس ایس پی پشاور یاسر آفریدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراوں کو تحفظ فراہم کرنا ھماری ذمہ داری ہے۔ پشاور پولیس نے پہلے بھی ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے ہیں ، ان کے اپنے حققوق ہیں۔ جلد ہی اقلیتی بردادری ، خواتین ، اور خواجہ سراوں کے لئے پولیس ڈیسک کے قیام بھی عمل میں لایا جائے گا تاکہ ان کی آواز اور مسائل وون ونڈو اسسٹم کے ذریعے سنے اور حل کئے جائیں ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.