خود تو ڈوبے ہو ہمیں بھی لے ڈوبو گے :

لاہور (ویب ڈیسسک)سبی دربار کے موقع پر انگریز لیفٹیننٹ جنرل جس بگھی پر سوار ہوتے ‘بلوچستان کے سردار گھوڑوں کی جگہ اسے کھینچ کر منزل مقصود تک پہنچاتے اور خلعت شاہی حاصل کرتے جبکہ پنجاب کو پشاور بیچنے والے پشتون حکمرانوں کے بارے میں بھی سب کو علم ہے‘ میاں نوازشریف نے

انہی محمود اچکزئی‘ عبدالغفار خان کے خانوادے اور دیگر پنجاب دشمن قوم پرستوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی منزل کھوٹی کی۔ نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیف قائداعظم کے نام لیوا مسلم لیگی قائدین اور کارکنوں پر کہ محض عمران خان کی دشمنی میں وہ ایک کینہ پرور‘ متعصب اور تنگ نظر پشتون رہنما کی منافرت انگیز گفتگو سنتے اور تالیاں پیٹتے رہے‘ کسی کی رگ حمیّت پھڑکی نہ پنجاب اور لاہور کے روادار‘ کشادہ قلب‘ مہمان نواز عوام سے وفا کا تقاضہ یاد رہا: تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو! شنید ہے کہمسلم لیگ کے سی ای سی اجلاس میں جلسے میں عوام کی عدم شرکت کا جائزہ لیا اور ذمہ دار رہنمائوں کی بازپرس کا فیصلہ ہوا مگر کیا مریم نواز ازسرنو تنظیم سازی کی پوزیشن میں ہیں‘ کیا وہ ناکامی کا ذمہ دار نوازشریف کے نامزد عہدیداروں کو قرار دے کر بڑے پیمانے پر تطہیر کرسکتی ہیں؟۔ یہ بنیادی سوال ہے۔ لانگ مارچ‘ دھرنے اور استعفوں کا فیصلہ فروری میں ہوا تو ڈیڑھ دو ماہ کا جمود اب تک کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دے گا اور مینار پاکستان میں ’’جمع عوامی مقبولیت‘‘ کے زاد راہ کے ساتھ پی ڈی ایم نے کوئی انتہائی فیصلہ کیا تو نتیجہ معلوم‘ عمران حکومت تو درکنار اس جلسے سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی بھی شاید مرعوب نہ ہوں اور وہ اپنے استعفے قیادت کے حوالے کرنے سے انکار کردیں کہ انہیں قیادت کی مقبولیت‘ احتجاجی تحریک میں عوام کی دلچسپی کا پتہ چل گیا۔ارکان اسمبلی کواگلا الیکشن عزیز ہے اور اپنے حلقہ جاتی مفادات مقدم‘ جان بوجھ کر ایسا کون کرتا ہے‘ ایسی موت کا شوق کسی جنونی مہم جو کو ہو سکتا ہے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی میں بھلادنیا و مافیہا سے بے خبر ایسے مجنوں کتنے ہیں۔؟کوئی سوچے تو

Comments are closed.