خوش فہمیاں دور : ناقابل یقین تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک) افغانستان کی 32خواتین فٹ بال کھلاڑی تالبان کے خوف سے افغانستان چھوڑ کر فیملی سمیت پاکستان آ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق یہ لوگ طورخم بارڈر سے پاکستان داخل ہوئے جہاں سے انہیں لاہور پہنچایا گیا۔ خواتین فٹ بالرز اور ان کے خاندانوں سمیت مجموعی طور پر 115لوگ لاہور پہنچے

جہاں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی طرف سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیااور ان پر گل پاشی کی گئی۔ ان افغان فٹ بال کھلاڑیوں میں ریجنل اور ضلعی سطح کی جونیئر فٹ بال ٹیموں کی کھلاڑی شامل ہیں۔ انہیں بنیادی طور پر برطانوی تنظیم اور ایک اینجیاوکےتعاونسےپاکستانلایاگیاہے۔تنظیم کے پاکستان میں نمائندے سردار نوید نے بتایا کہ ”افغان فٹ بالرز نے پہلے فاﺅنڈیشنسےرابطہکیاجسکےبعدفاﺅنڈیشننےہمارےساتھرابطہکیااوردونوںتنظیموںکیمشترکہکوششوںسےکھلاڑیوںاورانکےاہلخانہکوپاکستانلایاگیا۔ھلاڑیوںنےحکومتپاکستانکوویزےکیدرخواستیںدیتھیںجوقبولکرتےہوئےکھلاڑیوںاورانکےخاندان کے لوگوں کو 30روزہ ویزا جاری کردیا گیا۔ خواتین کھلاڑی یہ عرصہ لاہور میں گزاریں گی اور اس دوران خود فیصلہ کریں گی کہ انہیں پاکستان میں فٹ بال کھیلنا ہے یا کسی اور ملک منتقل ہونا ہے۔ یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہیں۔ایک افغان فٹ بالر سویتا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”ہمارے ساتھ پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے بہت اچھا برتاﺅکیا۔ہماپنےپاکستان بہن بھائیوں سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے ہمارے لیے ہر چیز کا انتظام کیا ہے۔ یہاں سب کچھ بہت اچھا لگ رہا ہے۔“ ایک اور کھلاڑی رویا اللہ یار کا کہنا تھا کہ ”ہم فیفا اور پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری مدد کیے اور ہمارے لیے بہت اچھا انتظام کیا۔“ واضح رہے کہ افغانستان کی قومی خواتین فٹ بال ٹیم کی کھلاڑیوں کو آسٹریلوی حکومت نے اگست کے آخری ہفتے میں افغانستان سے نکال لیا تھا تاہم کابل ایئرپورٹ پر حالات خراب ہونے کی وجہ سے یہ جونیئر کھلاڑی افغانستان میں پھنس گئی تھیں اور تالبان سے چھپ کر رہ رہی تھیں۔

Comments are closed.