دبلی پتلی مسرت شاہین اداکارہ کیسے بنی اور وہ اتنی منہ پھٹ کیوں تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) میں جانتا ہوں اِس کالم کا عنوان دیکھ کر آپ کا دھیان کدھر گیا ہوگا لیکن ایسا کچھ نہیں ہے مگر جو کچھ بھی ہے دلچسپ بہت ہے۔ 2020 میں مجھے ایک آپ بیتی کا مسودہ موصول ہوا۔ یہ پشتو کے ایک اداکار کی سوانح تھی اور یہ خوب صورت نوجوان چاہتاتھا کہ

میں اس کی کتاب پر دیباچہ ٹائپ کوئی شے لکھوں۔ میں نے مسودہ پڑھا اور جو سمجھ آیا، لکھ دیا۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔بات آئی گئی ہو گئی کہ چند ہفتے قبل وہی مسودہ کتابی شکل میں میرےسامنے تھا جس کےسرورق پر فلم، ٹی وی سٹار امان کی تصویر کے ساتھ عنوان تھا۔’’میں ایک فلاپ ہیرو….لیکن؟‘‘ بیک ٹائیٹل پر میرا ’’دیباچہ‘‘۔باقی تو جو ہے سو ہے ہی ’’جنرل نالج‘‘ کے لئے چند مشہور پشتو اداکاروں کے پروفائلز اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں جن میں قتیل شفائی مرحوم جیسے لازوال نغمہ نگار بھی شامل ہیں۔ جن لوگوں بارے امان نے لکھا ، سوائے قتیل صاحب کے میں ان میں سے کسی کو نہیں جانتا، ملاقات تو دور کی بات، میں نے کسی کی کوئی فلم بھی نہیں دیکھی، لیکن ایک زمانہ تھا جب بدرمنیر، یاسمین خان، نعمت سرحدی، مسرت شاہین، ہمایوں قریشی وغیرہ پرنٹ میڈیا پر بھی چھائے ہوئےتھے۔ بدر منیر بارے امان لکھتا ہے۔’’بدرمنیر ایک لیجنڈ آرٹسٹ تھے لیکن ورسٹائل نہیں تھے۔ فلم ’’یوسف خان شیر بانو‘‘ کی کامیابی کےبعد مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ہردلعزیزی کی یہ حالت تھی کہ جب بھی نئی فلم مارکیٹ میںآتی تو اس کے چاہنے والے پوچھتے ’’بدرے پہ کے آشتہ‘‘ یعنی کیا بدر فلم میں ہے؟ بدر منیر کے چاہنے والے بدرمنیر کو بدرمنیر نہیں پیار سے ’’بدرے‘‘ کہتے تھے۔ مجھے بدر ’’خان‘‘ کے نام سے پکارتا تھا حالانکہ میں نے اپنے نام کے ساتھ کبھی خان نہیں لکھا۔ ایک بار خرم مرحوم نے کہا ’’امان! بدر تمہیں خان کہہ کر کیوں پکارتا ہے؟

‘‘ ’’نہیں معلوم‘‘ . .. ’’وہ تمہیں طنز کے انداز میں پکارتا ہے‘‘۔ایک دو مواقع پر میرے نالج میں یہ بات آئی کہ بدرمنیر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مجھے کاسٹ نہ کیا جائے۔ پشتو فلموں کے ایک ڈائریکٹر نے کسی فلم کے پریمیئر پر مجھے کہا ’’میں تو آپ کوفلم میں کاسٹ کرنا چاہتا تھا لیکن بدر نہیں چاہتا‘‘ ’’مسرت شاہین نےمجھے اپنی ذاتی فلم (جو شاہ نور سٹوڈیو میں بن رہی تھی) کاسٹ کیا اور پھر بتایا، اس … نے، میں وہ لفظ نہیں لکھ سکتا جو مسرت شاہین نے ادا کیاتھا، تمہاری جگہ عمر دراز کو کاسٹ کرنے کا کہا ہے۔ میں نے مجبوراً اسے سائن کرلیا کیونکہ بدر کے بغیر فلم سیل کرنے میں دشواری ہوتی ہے‘‘۔یاسمین خان کے بارے میں امان لکھتے ہیں:’’یاسمین خان ایک ورسٹائل آرٹسٹ تھیں۔ ابتدا میں ایکسٹرا گرل کےطور پر چند اردو فلموں میں آئی۔ بس دیر تھی تو ایک چانس کی جب لاہور میں میری پہلی فلم ’’کلہ خزاں کلہ بہار‘‘ شروع ہوئی تھی۔ کراچی میں نذیر حسین پشتو فلم ’’یوسف خان شیر بانو‘‘ کی ابتدا کر رہے تھے ان کو مرکزی اداکارہ کی ضرورت تھی۔ یہ مسئلہ اداکارساقی نے حل کردیا۔ نذیر حسین کو یاسمین خان کے روپ میں شیر بانو ملی۔ پھر ایسی شیر بانو بنی کہ فلم بین طبقہ کی نیندیں چرا لیں‘‘۔نعمت سرحدی کے بارے ’’انکشاف ‘‘ کیا کہ ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ نماز کے وقت بہانے بنانے والا نعمت سرحدی اب تبلیغی جماعت میں شامل ہوگیا ہے جس کے بارے مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے،

ہم کوئی جماعت نہیں، مجھے یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ ’’سوٹا‘‘ اب بھی لگاتا ہے‘‘۔اب مسرت شاہین کے بارے پڑھیے۔’’1970 کا ذکر ہے ’’دل اور دنیا‘‘ کے لئے رنگیلا صاحب نے ایورنیو سٹوڈیوز کے اندرون گیٹ میں ایک چھوٹا سا سیٹ لگایا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ فلم کی عکسبندی کے لئے جو فلورز بنے تھے ان کے لئے پروڈیوسرز کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس انتظار کی زحمت سےبچنے کے لئے رنگیلا صاحب نے اندرون گیٹ میں ہی سیٹ لگا لیا۔ ہمایوں قریشی اور مجھے بطور گیسٹ آرٹسٹ گانے میں بیٹھنے کو کہا۔ عکسبندی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ ایک دبلی پتلی حسینہ رنگیلا صاحب سے ملنے آئی۔ تھوڑی دیر دونوں باتوں میں مصروف رہے۔ اس کے بعد چلی گئی۔ رنگیلا صاحب سے فری گپ شپ تھی۔ میں نے پوچھا ’’یہ پٹاخہ کون تھی؟‘‘ رنگیلا صاحب مسکرا کر بولے ’’اس کا نام مسرت شاہین ہے اور فلیٹیز ہوٹل میں ڈانسر ہے لیکن خیال کرنابڑی منہ پھٹ ہے‘‘۔ابتدائی چند سالوں میںاس کے جسمانی خد و خال بہت دلکش تھے۔ پھر رفتہ رفتہ پاکستانی ہیروئینز کی طرح فربہ ہوگئی‘‘۔اور اب ہمایوں قریشی سے ملئے بذریعہ اداکار قلمکار امان :’’دلہن ایک رات کی‘‘ میں سگریٹ کو اچھال کر منہ میں پکڑنا ہمایوں کے فلمی کیریئر میں ممد ثابت ہوا۔ پنجابی فلموں میں اپنےلئے اک خاص جگہ بنالی۔ سلطان راہی کی طرح دن میں چار چار فلموں کی عکسبندی کرتا تھا۔ سنگیتا سے شادی کے لئے بڑا زبردست ڈرامہ رچایا۔ جس طرح شادی کے لئے زبردست ڈرامہ کیا، اسی حساب سے اس کا ڈراپ سین بھی ہوا، جس کو سلجھانے کے لئے آخر مجھے میدان میں کودنا پڑا۔میں سنگیتا کے گھر گیا۔ سنگیتا نے کہا ’’میں تمہاری بات اس شرط پر مان لیتی ہوں کہ آئندہ ہمایوں کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گا‘‘۔ میں نے کہا ’’اس حرکت کے بارے میں آگاہی حاصل کرسکتا ہوں؟‘‘’’مجھے تھپڑرسید کیا کہ تم لوگوں سے کیوں ملتی ہو‘‘۔ سنگیتا نے کہا ’’ٹھیک ہے میں کسی سے نہیں ۔ ہمایوں مجھے گھربٹھائے اور خود کمائے‘‘۔میری کوشش رائیگاں گئی۔ طلاق کی نوبت آگئی جبکہ وہ ایک بچی کا باپ بن چکا تھا۔کیسی کیسی دنیائیں اور کیسے کیسے لوگ!