دبنگ پاکستانی خاتون صحافی نے حقیقت قوم کے سامنے رکھ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ نوازشریف کی بغل میں چھپا بیٹھا ہے۔ سیاہ فام افراد قانونی دستاویزات کی فائل لے کر ناصربٹ کے تعاقب میں گئے تھے اور ناصر بٹ نے جب دیکھا اس کا فراڈ بے نقاب ہو جائے گا تو اس نے اپنی مجرمانہ سوچ

کو بروئے کار لاتے ہوئے اس واقعہ کو نوازشریف کے نام پر کیش کرانے کی ناکام چول ماری۔ ناصربٹ نوازشریف کا ٹائوٹ ایک مجرم، فراڈی اور چور انسان ہے۔ ناصر بٹ ایسے لوگ ہر جماعت کے اندر ہوتے ہیں اور پھر ایک دن لیڈران انہی آستین کے سانپوں کے ہاتھ جان سے جاتے ہیں۔ ملک کی تقدیر کیسے کیسے فنکاروں کے ہاتھ کھیلتی چلی آرہی ہے۔ معیشت سے متعلق بری خبریں الگ سے مایوسی پھیلا رہی تھیں۔ وزیرخزانہ شوکت ترین بھی کسی پانڈے کا ڈھکن نہیں ، پہلے کہا معیشت 2018ء کے وقت پر واپس لانے کی کوشش کریں گے۔ اب وزیراعظم سے ملاقات پر انہیں اور ان کی ٹیم کوگروتھ بڑھانے پر مبارکباد پیش کر رہے ہیں؟معیشت کی بحالی مثبت خبر ہے مگر اس کی سچائی کا تب یقین ہو گا جب مہنگائی قابو کی جا سکے گی۔ عوام کو ریلیف ملے گا۔ عمران خان کی تھیوری اوپر ٹھیک ہو نیچے سب ٹھیک ہوتا ہے،رنگ روڈ نے مسترد کر دی۔ اپوزیشن میں عمران دوستوں کو استعمال کرتے رہے، اب دوست انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ جہانگیر ترین فارورڈ بلاک جوش سے اٹھا ہوش سے بیٹھ گیا ہے ، لگتا ہے وزیر اعظم نے جون بجٹ ٹپانے کے لئے تھپکی دے دی ہے۔ اسے عرف عام میں این آر او کہا جاتا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ ریلیف چاہتا ہے ۔ اپنے احسانات کا بدلہ مانگ رہا ہے۔ بجٹ کی تلوار ٹل جائے عمران خان یو ٹرن بھی لے سکتے ہیں۔ ترین فارورڈ بلاک بھی وقت کا انتظار کرے گا۔ مذکورہ گھسی پٹی خبروں سے قطع نظر اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ’’PDM ہوا کرتی‘‘ تھی۔ زبانی کلامی مارچ جلوس جلسے استعفوں کے دعوے کیا کرتی تھی۔ کسی کو خبر ہے کب اور کہاں دفن کر دی گئی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *