دفاع کے حوالے سے وہ ایک شعبہ جس میں بھارت کو چین پر سبقت حاصل ہے ؟

لندن (ویب ڈیسک) گلوبل فائر پاور نے 138 ممالک کی فوجی افرادی قوت، بری، بحری اور فضائی قوت، دفاعی بجٹ سمیت سات پہلوؤں کا جائزہ کر ان کی درجہ بندی کی۔ اس مفصل درجہ بندی میں امریکا پہلے اور روس دوسرے نمبر پر ہے، جب کہ چین کو تیسرے اور بھارت چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

چین ایک ارب 38 کروڑ نفوس کے ساتھ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ بھارت بھی چین سے کچھ ہی پیچھے ہے اور اس کی آبادی ایک ارب 30 کروڑ کے قریب ہے۔گلوبل فائر پاور کے مطابق اس وقت چین کے فعال فوجیوں کی تعداد 22 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارتی فعال فورسز کی تعداد قریب ساڑھے چودہ لاکھ ہے۔دوسری جانب ریزرو میں بھارت کے پاس 21 لاکھ اور چین کے پاس پانچ لاکھ سے کچھ زائد فوجی دستیاب ہیں۔چین کا دفاعی بجٹ بھارت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ چین کا بجٹ دو کھرب 37 ارب امریکی ڈالر ہے اور اس کے مقابلے میں بھارتی دفاعی بجٹ 61 ارب امریکی ڈالر ہے۔عسکری طاقت کا جائزہ لیتے وقت ممالک کی معاشی صورت حال، قوت خرید، غیر ملکی ذخائر اور بیرونی قرضوں کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔ چین کو اس ضمن میں بھارت پر واضح برتری حاصل ہے۔بھارت کے غیر ملکی ذخائر چار کھرب امریکی ڈالر سے زائد ہیں تو چینی فارن ریزرو 32 کھرب امریکی ڈالر سے زائد ہے۔بھارتی فضائیہ کے پاس دستیاب مجموعی ایئر کرافٹس کی تعداد 2123 ہے، جب کہ چین کے مجموعی ایئر کرافٹس کی تعداد 3210 ہے۔لڑاکا طیاروں کی بات کی جائے تو چین کو واضح برتری حاصل ہے، جس کے پاس 1232 جب کہ بھارت کے پاس 538 لڑاکا طیارے ہیں۔لڑاکا ہیلی کاپٹرز کے حوالے سے بھی چین ایسے 281 ہیلی کاپٹرز کے ساتھ برتر پوزیشن پر ہے۔ بھارتی ہیلی کاپٹرز کی تعداد محض 23 ہے۔ تربیتی طیارے بھارت کے پاس چین کی نسبت کچھ زیادہ ہیں۔

مجموعی اعتبار سے چین کے پاس لڑاکا اور فضائی مشینوں کی تعداد 1500 کے قریب بنتی ہے جب کہ بھارت کے پاس یہ تعداد 600 سے کم ہے۔بری عسکری طاقت میں ٹینک، آرٹلری، آرمڈ گاڑیاں اور میزائل کلیدی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔بھارت کو کامبیٹ ٹینکوں کے حوالے سے برتری حاصل ہے۔ بھارت کے پاس ایسے 4292 ٹینک ہیں جب کہ چین کے پاس 3500 ٹینک ہیں۔دوسری جانب خودکار آرٹلری کی بات کی جائے تو چین 3800 ‘سیلف پروپیلڈ آرٹلری‘ کے ساتھ بھارت پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ بھارت کے پاس ایسی محض 235 آرٹلری ہیں۔فیلڈ آرٹلری کی بات کی جائے تو بھارت کے پاس 4060 اور چین کے پاس 3600 ہیں۔ راکٹ پروجیکٹرز بھارت کے پاس محض 266 ہیں اور چین کے پاس 2650 ہیں۔بحری حوالوں سے بھی چین کی فوجی طاقت بھارت سے کم از کم دگنی ہے۔ بھارت کے مجموعی بحری فلیٹ 285 اور چین کی فلیٹ 777 ہیں۔آبدوزیں بھی چین کے پاس 74 ہیں اور اس کے برعکس بھارتی بحریہ کے پاس 16 آبدوزیں ہیں۔ چینی ایئر کرافٹ کیریئرز دو ہیں اور بھارت کے پاس ایک ہے۔مختلف نوعیت کے بحری جہازوں میں بھی چین کو سبقت حاصل ہے۔دیگر پہلوؤں میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر اور وسائل میں بھی چین کی صلاحیتیں بھارت سے کہیں بہتر ہیں۔ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کی تعداد، سڑکوں اور ریلوے ٹریکس کی طوالت، ملک کے اندر دریاؤں اور نہروں کے ذریعے عسکری نقل و حرکت، ملک میں تیل کی پیدوار اور ریزرو جیسے معاملات، ان سب حوالوں سے چین کو برتری حاصل ہے۔بھارت کی نسبت چین کی زمینی اور بحری ملکی سرحدوں کے دفاع کی یا ان کے ذریعے اٹیک کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.