دلائل کے ساتھ پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر دیا ہے اور اب ساری دنیا کی نظریں کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے پر لگی ہوئی ہیں جیسا کہ میں اپنے گزشتہ کالم میں بھی تحریر کر چکا ہوں کہ کراچی کا جلسہ نہ صرف پی ڈی ایم کی

تحریک کے خدوخال کو نمایاں کرے گا بلکہ پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا بھی تعین کرے گا۔ نامور کالم نگار عباس مہکری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔مختلف وجوہ کی بنا پر یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ کراچی میں پی ڈی ایم 18 اکتوبر کو اپنی بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے گی اور یہ جلسہ عام لوگوں کی شرکت کے حوالے سے نئے ریکارڈ قائم کر سکتا ہے لیکن کراچی کے جلسے کے بعد اپوزیشن کا یہ سیاسی اتحاد اسی قوتِ رفتار ( Momentum ) کو برقرار رکھ سکے گا اور اس اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں ثابت قدم رہ سکیں گی کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والی قوتیں پی ڈی ایم کو توڑنے یا کمزور کرنے کی اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیں گی۔دو عوامل ایسے ہیں، جو پی ڈی ایم کی تحریک کے حق میں ہیں۔ پہلا عامل یہ ہے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے فضا سازگار ہو رہی ہے، جو امریکا کے نائن الیون کے واقعہ کے بعد بدامنی کے خلاف لڑائی کے ماحول میں بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔ گزشتہ دو عشروں میں نہ صرف سیاسی سرگرمیوں کا ماحول نہیں تھا بلکہ ترک ِسیاست ( Depoliticization ) کا ماحول بنا دیا گیا تھا، اس ماحول میں مقامی اور عالمی ہیئت مقتدرہ کی مخالف سیاسی قوتوں کے لیے سیاست مشکل تر بنا دی گئی جبکہ حامی قوتوں کے لیے میدان خالی کرکے دے دیا گیا۔ اب کسی حد تک یہ حالات نہیں رہے۔ اگرچہ پاکستان میں بدامنی اب بھی ہے اور سیاسی رہنماؤں کے لیے خطرات کی بھی مختلف ادارے نشاندہی کر رہے ہیں، اس کے باوجود سیاسی جماعتیں وہ رسک لے رہی ہیں۔جو کچھ عرصہ پہلے نہیں لے سکتی تھیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی پالیسیوں، انداز حکمرانی اور غیر لچکدار سیاسی بیانیے کی وجہ سے اپنی وہ عوامی حمایت کھو رہی ہے، جو اسے جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے حاصل تھی۔ مہنگائی اور بیروزگاری میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے لوگوں میں شدید سیاسی بے چینی پیدا کر دی ہے۔جسے پی ڈی ایم اپنی تحریک کی قوت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں کے بعد یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ اپوزیشن کے پاس اسٹریٹ پاور ہے۔ وہ اگر تحریک کے اگلے مرحلے یعنی دھرنوں کی طرف جانا چاہےتو وہ ایسا کر سکتی ہے۔مذکورہ بالا دو عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی تحریک کے لیے نہ صرف داخلی بلکہ خارجی حالات بھی سازگار ہیں لیکن ماضی کے سیاسی اتحادوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ان اتحادوں کی احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ پاکستان کے حقیقی مقتدر حلقوں کا حالات کے مطابق کیا فیصلہ ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *