دلچسپ لطیفوں سے سجی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) سنتا سنگھ کورونا سے ناراض ہے وہ اسے ایک لادین وائرس قرار دیتا ہے سنتا کہتا ہے کہ اس لا دین جراثیم نے کعبہ سے کلیسا تک سب کو متاثر کیا جبکہ بنتا سنگھ سمجھتا ہے کہ کورونا ایک انسان دوست جراثیم ہے جس نے تمام انسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے،

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہندو کیا مسلمان کیا عیسائی کیا یہودی سب کورونا کے خلاف ایک ہی دہائی دے رہے ہیں جبکہ اپنا بابا بوٹا مسلسل گالیاں نکال رہا ہے وہ کہتا ہے کہ کرونا صرف ڈالر کا یار اور تیل کا دشمن ہے اور میرا یہ حال ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کورونا کا رونا کس کے سامنے رؤں، اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا نے سب سے زیادہ متاثر میرا جسم میری مرضی والیوں کو کیا۔ آج وہ بھی ماسک کی شکل میں نقاب لینے پر مجبور ہیں لیکن بھائیو تے بہنو،یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا آج جتنی غیر محفوظ ہے شاید کبھی نہیں رہی۔ جب تک ہمیں ٹھوکر نہ لگے ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ جب اللہ فرماتا ہے کہ دنیا ایک کھیل تماشا ہے تو ہم مانتے نہیں کیا آج دنیا ایک معمولی سے جراثیم کے سامنے کھیل تماشا نہیں۔ ہم صفائی نصف ایمان پر یقین نہیں رکھتے لیکن ایک حقیرسے جراثیم نے ہمیں (senetizer) سینی ٹائزر کو چوم چوم کر ہاتھوں پر لگانے پر مجبور کر دیا اس طرح تو مرشد کے بچے کو نہیں چومتے جس طرح ہم ”سیٹی ٹائزر“ کو چوم رہے ہیں۔ آج پوری دنیا لاک ڈاؤن ہے۔ ابھی ‘سٹ نوّی نوّی’ ہے،تتّی تتّی ہے۔ دنیا کو چند دنوں بعد احساس ہو گا کہ لاک ڈا?ن کیا ہوتا ہے پھر شاید انہیں احساس ہو گا کہ دنیا کے ایک خطے میں لاکھوں کشمیری کئی سو دنوں سے لاک ڈاؤن میں ہیں۔

لیکن دنیا کا ضمیر ان بے بسوں کا رونا نہیں جگا پایا تو یہ کورونا بھی نہیں جگا پائے گا۔ گا?ں میں سیلاب آ گیا سب اپنا اپنا سامان اٹھا کر محفوظ مقام کی طرف بھاگ رہے تھے۔ سنتا سنگھ اپنی چھت پر حقہ پی۔ رہا تھا اور ساتھ گانا گا رہا تھا۔تیرے آن تے کھڑاک بڑے ہون گے۔۔مزے تے ماہیا ہن آن گے۔۔کسی نے کہا سنتا سنگھ سیلاب آ رہا ہے۔ سامان اٹھا اور بھاگ لے۔ سنتا سنگھ بولا غربت کا آج ہی تو مزا آ رہا ہے نہ اپنے پاس سامان ہے نہ بھاگنے کی فکر۔ میرا دل کرتا ہے اس کو رونا کی ایک پپّی ادھر اور ایک پپّی ادھر لوں۔ ڈریں اس سے وہ جنہیں کچھ کھونے کا فکر ہے، سجنو تے بیلیو ڈونٹ ووری یہ وائرس غریبوں کو کچھ نہیں کہتا۔ یہ امیروں کا ویری ہے اب بتائیں جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ سے زیادہ کون اپنی حفاظت کرتا ہو گا یہ انہیں بھی چمّڑ گیا اور تو پولینڈ کے آرمی چیف کی چھڑی کو چمڑ گیا اور انہیں بھی لے بیٹھا۔ اب امیر بھاگ کے دکھائے کہاں جائے گا۔ امریکہ برطانیہ، یورپ، سب جگہ موت آپ کا پیچھا کرے گی۔بنتا سنگھ کو شادی سے ایک دن پہلے منگیتر کا موبائل پر میسج آیا، سوری جانو میں تم سے شادی نہیں کر سکتی میری شادی کسی اور سے ہو رہی ہے، بنتا سنگھ صدمے سے بے ہوش ہو گیا۔ ہوش آیا تو منگیتر کا دوسرا میسج دیکھ کر پھر بے ہوش ہو گیا اب کی بار مسیج تھا سوری بنتا سنگھ وہ مسیج آپ کے لئے نہیں کسی اور کے لئے تھا،

سو میرے ڈینگی، یرقان، ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے والے بہادر پاکستانیوں اس حقیر فقیر وائرس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو گٹر کا ملا پانی پی کر زندہ رہتے ہیں، زہریلی سبزیاں، مردہ جانوروں کا گوشت، کیمیکل ملا دودھ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو اس کورونا وائرس کی کیا اوقات، اب چاہے ڈینگی کا مسیج آئے، چاہے کورونا کا آپ نے بے ہوش نہیں ہونا۔ گھبرانا نہیں اور گھبرانے سے شرمانا ہی نہیں۔ تسی کنّے بھولے او سمجھتے ہو حکومتی اقدامات ہم کیڑے مکوڑوں کی فلاح کیلئے ہیں، بھیا میرے جیسے ہی آئی ایم ایف کے تنخواہ دار مشیر خزانہ نے کابینہ کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے کورونا کی روک تھام کے لئے کروڑوں ڈالر رکھے ہیں ہماری ٹلیّاں کھڑک گئیں اور چاروں طرف ایمرجنسی ایمرجنسی کی پھڑ لو پھڑ لو مچ گئی، اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں،فنڈز کے نام پر تو ہم بھیک جیسا کینسر قوم میں لے آتے ہیں یہ تو پھر ایبگری سیمی ینگ مین خلیل الرحمان قمر کے بقول دو ٹکے کا کورونا ہے میرا یقین ہے اگر فنڈز کا چکر نہ ہوتا تو حکومت کورونا کے خلاف کسی ایمرجنسی ویمرجنسی لگانے کے بجائے ڈبل سواری پر پابندی لگاتی یا شہر کے مختلف مقامات پر پولیس ناکے لگاتی بہت زیادہ کرتی تو موبائل سروس بند کر دیتی ہے، اچھا ہے اس چکر میں آئی ایم ایف سے جتنے پیسے مْچھ لئے جائیں بہتر ہے، جلد یا بدیر کورونا نے ختم ہو جانا ہے لیکن انسان یہ کبھی نہیں سمجھے گا کہ قدرت نے اسے ایک بار سوچنے کا موقع دیا ہے کہ اس خطہ ارض پر کمزور بے بس،بے نوا بری طرح پس رہے ہیں طاقتور غریبوں محتاجوں اور محکموموں کے خون سے ہاتھ رنگ کر جشن مناتے ہیں، معصوم بچوں کو اقتصادی جنگ میں ما?ں کے پیٹ میں مار دیا جاتا ہے،

روزانہ ہزاروں انسان بھوک، بیماری اور کسمپرسی سے مر جاتے ہیں جبکہ دنیاکے ٹھیکیدار اپنے جنون میں جنگ کی آگ بھڑکائے جاتے ہیں کورونا آیا ہے چلا ہی جائے گا لیکن کورونا سے زیادہ بھیانک وائرس حرص،لالچ،طمع،خود غرضی،نفانفسی کا وائرس خاموشی سے زندگیوں سے کھیلتا رہے گا۔لگتا ہے مسلم لیگ ن میں فیصلہ کن جنگ اپنے منطقی انجام تک آ گئی ہے ہماری مریم نواز کی اچانک انٹری تو یہی بتاتی ہے کہ بیانئے کی جنگ میں انہوں نے ایک بار پھر شہباز شریف اینڈ کمپنی کو ٹھبّی کرائی ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ مسلم لیگ ن کا مطلب صرف اور صرف نواز شریف ہے اصلی بابے دی قلفی کے سامنے آپ جتنے مرضی کھوکھے کھول لیں۔اصل تے خالص قلفی بابے نواز کی ہے اور آپ جتنا مرضی دکان پر ‘ویل بوٹے وا’ لیں بلب لٹکا لیں جیل شیل لا کے بودے شودے وا کے بیٹھ جائیں ورکر نے صرف وڈے میاں کی دکان پرہی رکنا ہے، یہی وجہ ہے کہ مریم جب نکلیں گی مسلم لیگ کا مردہ گھوڑا انگڑائی ضرور لے گا۔ سنتا سنگھ آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو کہا’بھلی لوکے’ جب میں مر جا?ں تو تم دوسری شادی کر لینا اور میرے سارے کپڑے اور جوتے اپنے شوہر کر دے دینا، یہ سن کر بھلی لوکے زور زور سے رونے لگی سنتا سنگھ بولا پاگل ابھی میں زندہ ہوں تو کیوں رو رہی ہے، وہ بولی رو اس لئے رہی ہوں کہ دلیر سنگھ کو تیرے کپڑے اور جوتے ڈھلّے پڑیں گے، میرا بھی یہی کہنا ہے کہ مسلم لیگ میں اگرمیاں صاحب کا بیانیہ فوت بھی ہو گیا تو دوسرے گروپ کو کوئی اور بیانیہ فٹ نہیں آئے گا، میرا اصل رونا بھی یہی ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *