دلچسپ لطیفوں سے سجی سیاسی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آخر رضیہ کا قصور کیا ہے وہ ہر بار غنڈوں میں پھنس جاتی ہے۔1947ء سے وہ پاکستان کے کھیت،کھلیانوں،بازاروں،میدانوں میں مینو بچاؤ پکارتی پھر تی ہے اور ہر بار سسکتی سسکتی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں انتقال کر جاتی ہے۔جو عمران خان نے کیا اور جن کے ساتھ کیااب ان کی

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اولادیں سب کچھ وہی دہرا رہی ہیں کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔یہ پاکستان ہے بھیا جی، میاں اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے والا معاملہ ہے پی ٹی آئی آج ساس ہے تو کل بہو تھی۔ساس بہو کے کھیل میں سسر جی ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے ساس اور بہر کبھی منجھے تھلے ڈانگ نہیں پھیرے گی۔1947ء سے یہی رنڈی رونا ہے۔او بھائی ایک بار لڑ لو رج کے لڑ لو کوئی کٹی کٹا نکل ہی آنا چاہیے۔ہر بار ہم سمجھتے ہیں کہ اب ریل پٹری پر چڑھ گئی اور ہر بار پتہ چلتا ہے کہ دھت تری کی پھر ہوا نکل گئی۔بے نظیر کو نواز نہ چلنے دیں،نواز کو بے نظیر،نواز شریف گاؤن پہن کر گیلانی کو فارغ کرا دیں،زرداری،نواز شریف کی چھٹی کرا دیں اور الزام بابا بوٹے پر لگ جاتا ہے کہ وہ جمہوری حکومتوں کو گالا ں کڈتا ہے۔اور عوام بے چاری چیئر گیم دیکھتے ہیں تالیاں پیٹتے ہیں ”چک دے پھٹے“کے نعرے لگاتے ہیں اور جب بھی اس کی باری آنے لگتی ہے تو گھگو بول پڑتا ہے۔  میرا یقین ہے کہ پی ڈی ایم موجودہ حکومت کو گر ا کے رہے گی۔لیکن اگر آپ ان سے پوچھیں (what next) تو شاید اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہو گا۔آن لائن کلاس کے بعد ٹیچر نے پوچھا میری بات آپ کو سمجھ آرہی ہے، سنتا سنگھ بولا سر آپ سے زیادہ آواز تے گلی وچ سبزی ویچن والے دی اے۔او میرے سنتو،بنتو کن کھولو،گلی وچ سبزی بیچنے والے کی آواز سنو۔

انٹرنیشنل پلیئر ز نے 1948ء میں قائداعظم کی وفات کے بعد اس ملک میں جو بساط بچھائی اس پر اب تک کھیلنے والے سارے پاٹے خان تھے جو ان دیکھی انگلیوں پر ناچتے رہے اور عوام ان کے ساتھ ”میرے دل دے شیشے وچ سجنا،پئی دسدی اے تصویر تیری“گاتے رہے۔لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے رہے اور ان رہنماؤں کے سوئس اکاؤنٹس،برٹش فلیٹس،پاکستان میں محل چوبارے سجتے رہے ”رج کھان دیاں مستیاں“ چلتی رہیں اورعوام خون تھوکتے تھوکتے بھوکے مرتے رہے۔مائی گاڈ،میری باتیں تو کچھ زیادہ سنجیدہ اور علمی سی ہو گئی ہیں۔سوری جی سوری چلو فیر کل کا جلسہ جلسہ کھیڈتے ہیں۔ویسے حکومت کی حکمت عملی پر دل کرتا ہے کہ واری جاؤں اور واری واری جاؤں۔اسے کہتے ہیں عین انصاف یعنی انصاف کے دربار میں ڈی جے بٹ سے لے کر بٹ کڑاہی تک سب برابر ہیں۔یہ بھی وقت وقت کی بات ہے کل ڈی جے بٹ ”وے سب توں سوہنیا“بجاتا تھا آج وہ ”میں آں حُسن دی کلاشنکوف“ سنائے گا۔ہاں وہ بلاول کی فرمائش پر میں چھوٹا سا اک بچہ ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے بھی سنا سکتا ہے۔واہ کیا لیڈر شپ اور کیا اس کا وِژن،مریم نواز آزاد اور بٹ کڑاہی والا اندر۔بندہ چھوٹی بات کرے تو اتنی چھوٹی بھی نہ کرے۔بھیا اگر آپ کو غصہ ہی ہے تو اس میں کمہاروں کا کیا قصور؟۔اب تو مانناپڑے گا واقعی ہمارے شیخ بھیا کے پاس کوئی خاص گیڈر سنگھی ہے،کوئی اِچھا دھاری ناگ کا منکا ہے یہ تو گنیز بک میں ریکارڈ درج ہوناچاہیے یعنی انتیس سالوں میں پندرہ وزارتیں۔سنتا سنگھ بولا یار میریاں دو امّیاں ہیں،بنتا سنگھ بولا سیدھا سیدھا کہہ آپ کا ایک ابّا کم ہے۔شیخ صاحب کے پاس مزید وزارتوں کے لئے ایک آدھ نئی حکومت کا جنم لینا ضروری ہے میرا یقین ہے کہ اگلی حکومت جس کی بھی ہو وزیر وہی بنیں گے۔ویسے اگر ایوریج نکالی جائے تو وہ ہر پونے دو سال بعد منسٹر بنے۔یہ مجھ سے نہ پوچھیں کہ انہوں نے ان وزارتوں میں کیتا کی؟۔وہ ایسی فل ٹائم دلہن ہیں جو چاہے ایک رات کی بھی ہو پیا من بھاتی ہے, بس دعا یہ ہے کہ اس امتحان  کی گھڑی میں  وہ عمران خان کے ساتھ وہ نہ کریں جو چودھری نثار نے عمران خان تحریک کے دوران نواز شریف سے کیا۔لیکن وہ شیخ پُتر ہیں گھاٹے کا سودا نہیں کریں گے۔ویسے تو وہ جہاں کہیں بھی ہوں کم چک کے رکھتے ہیں دیکھ لیں انہوں نے آتے ہی کابینہ سے ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے والوں کے خلاف فوری مقدمات اور ایکشن کا قانون منظور کر ا لیا ہے۔یہ قانون جتنی عجلت میں پاس ہوا لگتا ہے شیخ جی نے اپوزیشن کے کڑاکے کڈ دینے ہیں۔

Comments are closed.