دلیپ کمار خود کیا چاہتے ہیں ؟

پشاور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد زبیر خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پشاور میں بالی وڈ اداکار دلیپ کمار کے گھر اور کپور خاندان کی رہائش گاہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی خبر سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اس اقدام میں اب

بھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔دلیپ کمار کے ترجمان فیصل فاروقی نے پشاور میں دلیپ کمار اور کپور خاندان کے آبائی گھروں کے حوالے سے موجودہ مالکان اور حکومت کے درمیان تنازع کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب سے حکومت پاکستان کی جانب سے دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی کو محفوظ کرنے اور میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس حوالے سے عملی کام کا آغاز ہوا ہے، تب سے ان فنکاروں کے چاہنے والے کافی خوش ہیں۔فیصل فاروقی نے انڈیا کے شہر ممبئی سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اور گھروں کے موجودہ مالکان کو چاہیے کہ وہ ’مل کر باہمی اتفاق سے قیمتوں کا تعین کریں تاکہ میوزیم قائم کرنے کا منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔‘یاد رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ دلیپ کمار کے اس گھر کے موجودہ مالک نے اسے حکومت کو 80 لاکھ روپے میں فروخت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ سال دلیپ کمار اور کپور فیملی کے آبائی گھروں کو محفوظ آثاثہ قرار دے کر ان کو حاصل کرنے کا نوٹفیکیشن جاری کیا تھا۔ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر نے ان دونوں گھروں اور ملبے کی الگ الگ قیمتیں مقرر کی ہیں۔ کپور فیملی کا گھر ڈھکی دالگراں پشاور میں اپنے دور کی ایک شاندار عمارت تھی۔ اس کا کل رقبہ لگ بھگ چھ مرلے سے کچھ زیادہ بتایا گیا ہے اور جس حصے پر عمارت کا ملبہ

کھڑا ہے اس کا رقبہ 5184 مربع فٹ ہے۔گھر کی زمین کی قیمت ایک کروڑ پندرہ لاکھ سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ ملبے کی قیمت کا تخمینہ 34 لاکھ سے زیادہ لگایا گیا ہے۔دوسری طرف دلیپ کمار کا مکان پشاور کے قصہ خوانی بازار میں محلہ خداداد میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ چار مرلے بتایا گیا ہے۔اس کا تعمیرات والا حصہ 1077 مربع فٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ اس زمین کی قیمت 72 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ اس مکان کے ملبے کی قیمت کا تخمینہ 7 لاکھ 76 ہزار سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس حساب سے دلیپ کمار کے گھر کی قیمت 80 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔ان دونوں جائیدادوں کی کل قیمت 2 کروڑ 30 لاکھ اور 56 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر دونوں گھروں کے موجودہ مالکان کو شدید اعتراضات ہیں۔دریں اثنا دلیپ کمار والے گھر اور کپور حویلی کے مالکان حاجی لال محمد اور علی قادر نے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیموں پر گھروں کو فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے۔دونوں گھروں کے مالکان نے حکومت کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس حوالے سے تیاری کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔پشاور کے مقامی میڈیا کے مطابق حاجی لال محمد کا کہنا ہے کہ گھر کی موجودہ قیمت کم از کم 25 کروڑ ہے جبکہ علی قادر نے دو ارب روپے قیمت مانگی ہے۔دلیپ کمار اور کپور فیملی کے خاندانوں کی یادیں ان دونوں گھروں سے جڑی ہوئی ہیں۔دلیپ کمار کے نام سے مشہور محمد یوسف خان کی پیدائش 11 دسمبر 1922 کو اسی گھر میں ہوئی تھی اور 1930 میں دلیپ کمار اپنے خاندان کے ہمراہ بمبئی چلے گئے تھے۔2013 میں دلیپ کمار کے اس گھر کو وفاقی حکومت نے قومی ورثہ قرار دیا تھا۔ سنہ 1988 میں دلیپ کمار نے اپنے اس آبائی گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت انھوں نے اپنے گھر کی دہلیز کو چوما تھا اور میڈیا کے سامنے اپنے بچپن کی یادیں دہراتے رہے تھے۔سنہ 1997 میں دلیپ کمار کو پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز ‘نشان امتیاز’ سے نوازا گیا تھا۔ اس موقع پر بھی وہ پشاور میں اپنے آبائی گھر جانا چاہتے تھے مگر استقبال کے لیے آنے والے عوام کی بے پناہ بھیڑ کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔انڈیا میں بالی وڈ کو متعدد سپر سٹارز دینے والے کپور خاندان کی ایک نسل پشاور کے اس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کو 1918 سے لے کر 1922 کے درمیان میں راج کپور کے والد دیوان کپور نے تعمیر کروایا تھا۔

Sharing is caring!

One response to “دلیپ کمار خود کیا چاہتے ہیں ؟”

  1. Yaqootkhan shinwari says:

    ھھھھ پشتو زبان کی معروف گولوکارہ(سینگر) گلنار بیگم کا ضلع بنوں میں واقع گھر جو تقریباً دس مرلہ پر مشتمل تھا دس مرتبہ فروخت ہوچکھاہے لیکن محکمہ ثقافت کے اہلکاروں کو ابھی تک پتہ بھی نہیں ہے کہ گلنار گیم کون تھی اور کہاں سے اسکی تعلق تھی۔ لیکن دلیپ کمار ہندو اور کپور خاندان کے ملکیت کو میوزیم میں تبدیل کرنا ان نااہلیوں کے لئے فرض عین ہیں۔ لعنت سو بار۔ راستی شہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *