دنگ کر ڈالنے والے اعداد وشمار پر مبنی رپورٹ

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان اور بھارت اب بنگلادیش سے غریب ہوگئے،بنگلادیش کی فی کس آمدنی، تین لاکھ 44ہزار، پاکستان کی دو لاکھ38ہزار اور بھارت کی تین لاکھ روپے ہوگئی۔گزشتہ سال بنگلا دیش کی جی ڈی پی نمو میں نو فی صد اضافہ ہوا۔سن1971 میں، پاکستان بنگلا دیش سے 70 فیصد امیر تھا

آج بنگلا دیش پاکستان سے 45 فی صد امیر ہے ۔ بنگلا دیش کئی بھارتی ریاستوں سے کہیں زیادہ امیر ہے ،گزشتہ عشرے بنگلا دیش کی برآمدات میں آٹھ عشاریہ چھ فیصدسالانہ اضافہ جب کہ دنیا کی برآمدات میںصرف اوسط عشاریہ چار فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔بھارت اور پاکستان کو اپنے ایک غریب ہمسایہ بنگلا دیش سے بہت کچھ سیکھنا ہوگا ۔ بنگلادیش نے قرض ٹو جی ڈی پی کا تناسب تیس اور چالیس فی صد کے درمیان برقرار رکھاہے۔بھارت اور پاکستان دونوں وبا سے جی ڈی پی کے نوے فیصد قرض کے قریب تناسب سے ابھریں گے۔ مالیاتی کنٹرول نے بنگلا دیش کے نجی شعبے کو قرض لینے اور سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹ کے تفصیلی رپورٹ کے مطابق نصف صدی قبل بنگلا دیش پاکستان سے الگ ہوا ،اس کی تخلیق قحط اور لڑائی کے دوران ہوئی ،اس وقت یو ں لگا کہ بنگلادیش ناکام ہو جائے گا ۔حال ہی میں بنگلہ دیش کے کابینہ سیکرٹری نے بتایا کہ گذشتہ سال جی ڈی پی نمو میں 9 فیصداضافہ ہوا اور فی کس آمدنی تین لاکھ 44ہزار روپے( 2227 ڈالر) ہو گئی۔ اس دوران پاکستان کی فی کس آمدنی دو لاکھ 38 روپے (1543ڈالر) ہے۔ 1971 میں، پاکستان بنگلا دیش سے 70 فیصد امیر تھا ،آج بنگلا دیش پاکستان سے 45 فی صد امیر ہے۔ایک پاکستانی ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ امکان کہ پاکستان2030 میں بنگلہ دیش سے امداد حاصل کرے۔ بھارت جوجنوبی ایشیائی معیشت میں ہمیشہ سے پراعتماد رہا ، اب اس حقیقت سے اسے بھی دوچار ہونا چاہئے کہ وہ بھی فی کس آمدنی کے لحاظ سے بنگلہ دیش سے غریب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *