دنگ کر ڈالنے والے حقائق پر مبنی بی بی سی کی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔دبئی کے حکمراں کی بیٹی جس نے 2018 میں ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے بعد خفیہ ویڈیو پیغامات میں اپنے دوستوں کو بتایا کہ ان کو خطرہ ہے کیونکہ بقول ان کے، ان کے والد نے انھیں قیدی بنا رکھا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ شیئر کردہ ایک فوٹیج میں شہزادی لطیفہ المکتوم نے کہا ہے کہ جب وہ کشتی کے ذریعے فرار ہوئیں تو کمانڈوز نے انھیں ادویات دیں اور واپس لے آئے۔خفیہ پیغامات اب رک گئے ہیں اور ان کے دوست اب اقوام متحدہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ مداخلت کرے۔دبئی اور متحدہ عرب امارات پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ (شہزادی) اپنے خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق ایلچی میری رابنسن، جنھوں نے 2018 میں لطیفہ سے ملنے کے بعد انھیں ایک ’مصیبت زدہ نوجوان عورت‘ قرار دیا تھا ، اب کہتی ہیں کہ شہزادی کے خاندان نے ان کے ساتھ بڑا دھوکہ کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور آئرلینڈ کی سابق صدر نے لطیفہ کی موجودہ حالت اور ان کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی اقدامات پر زور دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’میں لطیفہ کے بارے میں بہت پریشان رہوں گی۔ معاملات آگے بڑھ چکے ہیں۔ اور اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘لطیفہ کے والد، شیخ محمد بن راشد المکتوم، دنیا کے امیر ترین حکمرانوں میں سے ایک ہیں، وہ دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر بھی ہیں۔یہ ویڈیوز کئی ماہ کے دوران ایک ایسے فون پر ریکارڈ کی گئیں جو لطیفہ کو ان کے گرفتاری اور دبئی واپس لانے کے ایک سال بعد خفیہ طور پر دیا گیا تھا۔ یہ پیغامات انھوں نے اپنے باتھ روم میں ریکارڈ کیے

کیونکہ صرف وہ ہی ایسی جگہ تھی جس کا دروازہ وہ لاک کر سکتی تھیں۔پیغامات میں انھوں نے تفصیل بتائی کہ کس طرح:انھوں نے ان فوجیوں سے اس وقت مزاحمت کی جب وہ انھیں کشتی سے اتار رہے تھے، انھیں لاتیں رسید کیں ، اور ایک اماراتی کمانڈو کے بازو پر دانت گاڑ دیت کہ وہ چیخ اٹھا۔بیہوشی کی دوا دیے جانے کے بعد انھیں پرائیویٹ جیٹ میں لے جایا گیا اور وہ اس وقت تک نہیں اٹھیں جب تک جہاز دبئی لینڈ نہیں ہو گیا۔انھیں تنہا بغیر کسی طبی اور قانونی مدد تک رسائی کے، ایک ایسے وِلا میں رکھا جا رہا تھا جس کے دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں اور اس کے باہر پولیس کا پہرا ہے۔شیخہ لطیفہ کے پکڑے جانے اور حراست کی داستان پینوراما کو ان کی ایک قریبی دوست ٹینا جوہینن، ایک کزن مارکس ایسباری اور ایک سرگرم کارکن ڈیوڈ ہیئے نے بتائی۔ یہ سبھی افراد ’فری لطیفہ‘ مہم چلا رہے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے یہ ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا مشکل فیصلہ لطیفہ کے تحفظ پر تشویش ہونے کے بعد کیا ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جو دبئی کے’وِلا‘ میں لطیفہ سے رابطہ قائم کر سکے، جہاں بقول ان کے کھڑکیوں پر باڑیں لگی ہوئی ہیں اور پولیس کا پہرہ ہے۔شیخ محمد نے ایک انتہائی کامیاب شہر بنایا ہے لیکن انسانی حقوق کے کارکنان کہتے ہیں کہ وہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور عدالتی نظام خواتین کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔شیخ محمد گھڑ دوڑ کے بہت شوقین ہیں اور رائل ایسکاٹ جیسے اہم ایونٹس میں ضرور شامل ہوتے ہیں، ۔لیکن ان کو شہزادی لطیفہ اور ان کی سوتیلی ماں شہزادی حیا بنت الحسین کی وجہ سے بہت تنقید کا سامنا ہے،

Comments are closed.