دنگ کر ڈالنے والے مشورے پر مبنی صف اول کے صحافی کا سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) چھت پر بیٹھا کوا جنگل کے تازہ ترین حالات سے آگاہ کر رہا تھا تو میں نے اسے ٹوک کر پوچھا،تم سچ کہہ رہے ہو ناں ؟کہیں اپنے ڈونکی کنگ کی طرح لمبی لمبی تو نہیں پھینک رہے؟کوے کو کر غصہ آگیا۔ پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا،راج کپور کی فلم ’’بوبی‘‘دیکھی

ہے؟نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے جواب دیا کہ یہ فلم تو غالباً1973ء میں آئی تھی اور میں تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ کوا بھی حاضر جوابی کے جوبن پر تھا، طنزیہ انداز میں کہنے لگا، یہ جو آپ تاریخی واقعات سناتے ہیں، بتاتے ہیں کہ 1857ء کی آزادی کی لڑائی میں کیا ہوا تھا؟کس نے انگریزوں کا ساتھ دیا، کیا تب آپ پترکار تھے ؟کسی بات کا علم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اس دور میں بنفس نفیس موجود تھے۔اس فلم میں رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیا پر فلمایاگیا ایک مشہور گیت جو نغمہ نگار آنند بخشی نے لکھا، لتا منگیشکر اور شیلندھر سنگھ نے اپنی مدھر آواز میں گایا اور موسیقار تھے لکشمی کانت پیارے لال۔ اس کے بول یاد کرو،جھوٹ بولے کوا کاٹے، کالے کوے سے ڈریو۔ اگر کالا کوا جھوٹ بولنے والوں کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے تو خود جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟کوے کی بات میں وزن تھا، اس لئے میں دوبارہ اسے ٹوکنے کے بجائے جنگل کے حالات چپ چاپ سنتا رہا۔ معلوم ہوا کہ جنگل میں بہت بڑا دنگل ہونے جا رہا ہے۔ شیر کو نکال باہر کرنے والے طاقتور اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں، اس لئے وہ کسی احتجاجی تحریک کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگل میں پکڑ دھکڑ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہونے کو ہے۔تلبیس اطلاعات کی لڑائی میں ایک بار پھر یہ ڈھنڈورا پیٹنے کی کوشش بھی کی گئی کہ شیر اور اسکے قبیلے کے دیگر افراد غدار ہیں کیونکہ وہ جنگل کو تباہ و برباد

کرنے والے شکاریوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور انہیں صرف اپنا کاروبار عزیز ہے۔ لیکن جنگل کے باسی اب اس پروپیگنڈے کے جھانسے میں نہیں آنے والے کیونکہ غداری کے الزامات برسہابرس سے تواتر کیساتھ لگائے جانے کے باعث اپنی اہمیت و افادیت کھوچکے ہیں اور پھر ماضی میں یہ الزامات ایسے معتبروں پرلگائے گئے کہ اب توغداری کا الزام اعزاز، ایوارڈ اور تمغہ محسوس ہونے لگا ہے۔سفید اور سیاہ دھاریوں والے زیبروں کا سردار جسے بوڑھے شیر اور معمر ہاتھی نے اپنے نئے اتحاد کا سربراہ بنایا ہے، اسے بھی سبق سکھانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ کوے کا کہنا ہے کہ شیروں اور زیبروں سے تو کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہو سکتی، اس لئے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ معمر ہاتھی کو کوئی سبز باغ دکھا کر اپنے ساتھ ملالیا جائے۔ماضی میں جنگل کے باسیوں کے مختلف گروہوں کو تقسیم کرکے ایک دوسرے سے لڑوانے کی پالیسی کامیاب رہی اور اگر اب بھی یہ کوشش کامیاب رہی تو پھر اس لڑائی کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے فیصلہ ہو جائے گا۔اگر ڈونکی راجہ کو اس کے حلیف اس بار بچانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر اس کا اقتدار اس قدر مستحکم ہو جائے گا کہ اسے آئندہ 8سال تک نہیں ہلایا جاسکے گا اور 10سالہ منصوبہ کامیاب ہو جائے گا۔ ابھی تک تو نئی صف بندی کے تحت اکٹھے ہونے والے تمام جانوروں میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم ہے۔ پنجاب کے جنگلات میں پائے جارہے شیر، سندھ کے ہاتھی،خیبرپختونخوا کے زیبرے اور سُرخ ہرن،بلوچستان کے چیتے سمیت سبھی جنگل کے اس دنگل میں زورِبازو آزمانے کو تیار ہیں۔

منصوبہ یہ ہے کہ احتجاج کے ذریعے بتدریج سیاسی حدت میں اضافہ کیا جائے اور دبائو بڑھایا جائے اور جب ماحول سازگار ہو تو پھر بوڑھے شیر کی طرف سے جنگل واپسی کا اعلان کردیا جائے۔میں نے کوے سے پوچھا، آخر جنگل میں اس انتشار اور زورآزمائی کی وجہ کیا ہے؟سب جانور اپنی اپنی کچھار،نیستاں اور بھٹ تک محدود کیوں نہیں ہو جاتے اور ایک دوسرے سے برسرپیکار کیوں رہتے ہیں؟کوے نے فلسفیانہ انداز میں میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، تم نے جارج آرویل کا ناول ’اینمل فارم‘پڑھا ہے؟’’تم نے 9جولائی2018ء کو جنگ میں شائع ہونے والا میرا کالم ’جانور فارم‘ پڑھا ہے؟‘‘میں نے جواب دینے کے بجائے اُلٹا کوے سے سوال پوچھ لیا؟اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا، جنگل کے اتنے سیاپے ہوتے ہیں کہ شہروں سے متعلق چھپنے والے کالم پڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔بہر حال تمہارے جواب سے لگتا ہے کہ تم نے یہ ناول پڑھ رکھا ہے۔ اس میں سب جانور مل کر آئین مرتب کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ آئندہ وہاں کے سب معاملات ان قوانین کی روشنی میں طے پائیں گے لیکن منہ زور جانور ان قوانین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ ہر قانون کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جانوروں کے تیارکردہ متفقہ آئین میں لکھا ہوتا ہے کہ All animals are equalیعنی سب جانور برابر ہیں۔ وہ اس جملے کو تبدیل کرکے یوں کردیتے ہیں کہ All animals are equal but some are more equal۔ ہمارے ہاں بھی یہی ہوا ہے۔ ہم جنگل کے قانون کے تحت زندگی بسر کر رہے تھے۔ مگر بعض منہ زور اور طاقتور جانوروں نے جنگل کے اس قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور وہ خود کو کسی ضابطے کا پابند نہیں سمجھتے۔ انہوں نے جنگل کے بادشاہ شیر کے خلاف سازش کرکے اسے اقتدار سے نکال باہر کیا اور اپنی مرضی سے ڈونکی راجہ کو تخت پر بٹھا دیا۔ یہ تو طے ہے کہ ایک جنگل میں دوشیر نہیں ہو سکتے۔لہٰذا موجودہ دنگل میںیہ طے ہوگا کہ اس جنگل میں کونسا شیر رہے گا؟کوے کے رُخصت ہونے کا وقت تھا، میں نے آخری سوال پوچھا،کوے میاں !یہ بتائو، تمہارے خیال میں اس لڑائی میں جیت کس کی ہو گی؟ آپ نے مجھے روٹی کے چند ٹکڑے کھلائے، چوری ڈالی ہوتی تو شاید بتا بھی دیتا، اس سوال کا جواب حاصل کرنا ہے تو کسی روز دعوت شیراز کا بندوبست کریں،یہ کہتے ہوئے کوے نے اُڑان بھری اور جنگل کی طرف چلا گیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *