دنیا بھر میں اموات اور بڑا جانی نقصان : مگر کورونا وائرس سے پہلے اور آج کے دنوں میں سب سے بڑا فرق کیا ہے ؟ ماہرین کیا مثبت تبدیلیاں دیکھ چکے ہیں ؟ جاوید چوہدری کی ایک زبردست معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کورونا اور گلوبل لاک ڈائون زمین کو انیسویں صدی میں لے گیا ہے‘ فضا دھل گئی ہے اور ہوائوں میں سبزے کی مہک واپس آ چکی ہے اور یہ کوئی چھوٹا معجزہ نہیں‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے

دنیا میں پچھلے ایک مہینے میں اموات کی شرح میں 70 فیصد کمی آ گئی ہے‘کیوں؟ کیوں کہ دنیا میں موت کی دس بڑی جوہات ہیں‘ دل کے امراض‘ کینسر‘ ایکسیڈنٹس‘ سانس کی بیماریاں‘ دورے‘ الزائمر‘ شوگر‘ انفلوئنزا‘ گردوں کے امراض اور خودکشی‘ 2019 میں ان دس وجوہات سے سات کروڑ 52 لاکھ لوگ فوت ہوئے ‘ ان میں سے آدھے بزرگ تھے‘ کرہ ارض پر روز ڈیڑھ لاکھ لوگ مرتے ہیں لیکن پھر کورونا آیا اور شرح اموات میں کمی آ گئی۔اموات میں کمی کی اب تک تین بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں‘ پہلی وجہ پالوشن ہے‘ خودکشی اور ایکسیڈنٹس کے علاوہ اموات کی باقی آٹھوں وجوہات کے پیچھے ماحولیاتی آلودگی تھی‘ گاڑیاں‘ فیکٹریوں کا دھواں‘ گلاس ہائوس ایفیکٹ‘ ساڑھے سات ارب لوگوں کی روزانہ کی موومنٹ اور جنگلوں کی کمی نے فضا میں آلودگی پھیلا رکھی تھی‘ یہ آلودگی سانس کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتی تھی اور ہم بیمار ہوتے چلے جاتے تھے‘ ہماری ہوا میں دو قسم کی آلودگیاں ہوتی ہیں‘ بادلوں کے نیچے کی آلودگی اور بادلوں کے اوپر کی آلودگی‘ بادلوں سے نیچے کی آلودگی بارش سے کم ہو جاتی ہے جب کہ بادلوں سے اوپر کی آلودگی کی واحد وجہ ہوائی جہاز ہیں‘ دنیا میں روزانہ تین لاکھ جہاز اڑتے تھے۔فضا میں سب سے زیادہ پالوشن یہ جہاز پھیلاتے تھے اور یہ پالوشن آندھی‘ طوفان اور بارش سے بھی ختم نہیں ہوتی تھی‘ وجہ؟ یہ بادلوں سے اوپر ہوتی تھی اور اس نے زمین کی پوری فضا تباہ کر دی تھی‘ کورونا کی وجہ سے ایئر ٹریفک بھی بند ہو گئی

اور زمینی ٹریفک بھی‘ فیکٹریوں کا دھواں اور انسانی موومنٹ کا پالوشن بھی کم ہو گیا چناں چہ ہماری جسمانی شکست وریخت میں کمی آ گئی‘ دوسری وجہ ہماری خوراک تھی‘ ہم سب جانوروں کی طرح کھاتے تھے‘ ہم ضرورت سے دس گنا تیل‘ 15 گنا چینی اور 21 گنا زیادہ آٹا استعمال کرتے تھے۔ہم انسانی ضرورت سے زیادہ گوشت بھی کھاتے تھے اور چائے‘ کافی اور مشروبات بھی پیتے تھے‘ یہ خوراک بھی ہمیں بیمار کرتی تھی اور ہماری اموات کی تیسری بڑی وجہ ریٹ ریس (چوہا دوڑ) تھی‘ آپ نے کبھی چوہوں کو دیکھا‘ چوہوں کا پنجرہ کھول دیں یہ پوری طاقت کے ساتھ سرپٹ دوڑیں گے لیکن دوڑتے ہوئے انھیں یہ پتا نہیں ہوتا ’’ہم نے جانا کہاں ہے‘‘ چوہے ہمیشہ منزل کا تعین کیے بغیر دوڑتے ہیں‘ دوسرا اگر کوئی چوہا خوراک کے لالچ میں کسی پنجرے میں گر جائے یا ٹکٹکی میں پھنس جائے تو دوسرے چوہے اس کا حشر دیکھنے کے باوجود باز نہیں آتے‘ وہ بھی اس کے باوجود ٹکٹکی میں پھنستے اور پنجرے میں گرتے چلے جاتے ہیں اور آخر میں سارے مارے جاتے ہیں۔نفسیات دان چوہوں کی اس حرکت کو ریٹ ریس یا چوہا دوڑ کہتے ہیں‘ ہم انسان بھی چوہے ہیں‘ ہم بھی منزل کا تعین کیے بغیر سرپٹ بھاگتے چلے جاتے ہیں‘ ہم بھی دوسروں کے گرنے اور پھنسنے سے سبق نہیں سیکھتے اور ہم بھی گڑھوں میں گرتے اور مرتے چلے جاتے ہیں‘ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ماہرین حسد کو اس کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں‘ حسد انسان کا سب سے بڑا جذبہ ہے‘

ہم دوسروں کو جلانے اور چڑانے کے لیے پھانسی تک چڑھ جاتے ہیں‘ یہ ریٹ ریس‘ یہ حسد اموات کی تیسری بڑی وجہ تھی‘ ہم دوڑ دوڑ کر‘ تھک تھک کر مر رہے تھے لیکن پھر کورونا آیا اور دوڑنے اور دوڑنے والوں کو دیکھ کر دوڑنے والے دونوں رک گئے‘ ریس بند ہو گئی۔سارے چوہے سہم کر اپنے اپنے بلوں کے اندر قرنطینہ لینے پر مجبور ہو گئے یوں حسد کا لیول یک دم نیچے آ گیا چناں چہ ہم اگر دیکھیں تو پالوشن کم ہو گیا‘ ہم نے خوراک بھی کم کر دی‘ چائے خانے‘ کافی ہائوسز‘ بیکریاں‘ ریستوران اور شراب خانے بند ہونے کی وجہ سے لوگ گھروں کا کھانا بھی کھانے لگے اور ہم نے ایک دوسرے سے حسد کرنابھی بند کر دیا‘ کیوں؟ کیوں کہ محل والا ہو یا کوٹھڑی والا دونوں اندر بند ہیں‘ بڑی گاڑی بھی گیراج سے نہیں نکل رہی اور چھوٹی گاڑی بھی گلی میں کھڑی ہے لہٰذا کون کس سے حسد کرے گا‘ کون کس سے جیلس ہو گا؟اس دوران دو اور چیزیں بھی ہوئیں‘ ہمارے دماغوں پر دفتروں اور کام کا اسٹریس بھی تھا‘ ہم مانیں یا نہ مانیں ہم اس دبائو کے نیچے بھی روز کچلے جاتے تھے‘ آپ ڈیٹا نکال کر دیکھ لیجیے‘ دنیا میں سب سے زیادہ ہارٹ اٹیکس سوموار کی صبح ہوتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ چھٹی گزارنے کے بعد کام کے خیال ہی سے لوگوں کے دل میں ہول اٹھتے تھے اور یہ دفتر جاتے جاتے راستے میں انتقال کر جاتے تھے‘ دوسرا سماجی نفسا نفسی ہمیں چیریٹی اور فلاح سے دور لے گئی تھی۔انسان انسان کے درد سے ناواقف ہو گیا تھا اور یہ حقیقت ہے انسان جب کسی دوسرے انسان کی مدد کرتا ہے تو اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوجاتا ہے‘

یہ اندر سے مضبوط ہو جاتا ہے‘ کورونا نے ہمیں کام اور دفتر کے اسٹریس سے بھی نکال دیا اور ہمیں دوسرے انسانوں کے قریب بھی لے آیا چناں چہ دنیا میں شرح اموات کم ہو گئیں اور یہ کورونا کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔دنیا یقینا جلد یا بدیر کورونا وائرس کے خطرے سے نکل آئے گی‘ ہم انسان لاکھوں سال سے ہر قسم کی وبا‘ ہر قسم کی آزمائش کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں‘ دنیا میں ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب کرہ ارض پر صرف دو ہزار لوگ رہ گئے تھے لیکن ہم انسان دوبارہ دو ہزار سے ساڑھے سات ارب ہو گئے‘ ہم ان شاء اللہ کورونا کو بھی شکست دے دیں گے لیکن کورونا کے بعد اقوام متحدہ کو پوری دنیا سے ایک’’گلوبل لاک ڈائون چارٹر‘‘ سائن کروانا چاہیے‘اس چارٹر کے مطابق پوری دنیا تین‘ تین ماہ بعد ایک ‘ایک ہفتے کے لیے لاک ڈائون کر دی جائے‘ دنیا کے تمام ایئرپورٹس‘ بندر گاہیں‘ روڈز‘ ریلوے اسٹیشن‘ دفتر‘ فیکٹریاں‘ اسکول‘ پارکس‘ مارکیٹیں اور میٹنگز بند کر دی جائیں‘ انسان جہاں ہو وہ وہاں روک دیا جائے‘ ریستوران‘بیکریاں اور چائے خانے بھی بند کر دیے جائیں اور موبائل فونز‘ انٹرنیٹ‘ ٹیلی ویژن‘ ریڈیو اور اخبارات بھی‘ یہ سہ ماہی لاک ڈائون اس کرہ ارض کو ایک بار پھر چارج کر دے گا۔یہ زمین رہنے کے قابل ہو جائے گی ورنہ اگلا کورونا سپر کورونا ثابت ہو گا اور یہ دنیا کی آبادی کو ایک بار پھر ساڑھے سات ارب سے دو ہزار پر لے جائے گا اور انسان ایک بار پھر پتھر کے دور سے زندگی اسٹارٹ کرنے پر مجبور ہو جائے گا لہٰذا زمین اور زندگی بچانے کے لیے لاک ڈائون کے بعد لاک ڈائون لازم کر دیا جائے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Articles You May Like

Comments are closed.