دنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں :

میانوالی (ویب ڈیسک) نامور صحافی عزیز اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔والدین کے لیے اپنے بچوں سے زیادہ اہم کوئی نہیں ہوتا اور وہ انھیں پل بھر کے لیے بھی اپنی نظروں سے اوجھل ہونے نہیں دیتے۔ تو تصور کریں سوات کے علاقے کے رہائشی محمد قیوم

اور باچا بی بی کا جن کا دس، بارہ سال کا قوت گویائی سے محروم بچہ ایک سال قبل گُم گیا تھا۔لیکن فیس بک، پولیس اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی مدد سے وہ اپنے بیٹے محمد اسلام، جس کو وہ ایک سال سے تلاش کر رہے تھے، سے بالآخر سنیچر کے روز ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئے۔بی بی سی نے اس حوالے سے جب محمد اسلام کی والدہ باچا بی بی سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک سال پہلے گھر سے چلا گیا تھا اور پھر واپس نہیں آیا۔’ہم نے اسے بہت تلاش کیا۔ منگورہ اور قریب کے علاقوں میں گئے اور حتیٰ کہ لاہور تک اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن مل نہیں پایا۔‘محمد اسلام کی والدہ یاد کرتی ہیں کہ ’جب یہ بچہ چلا گیا تو میری راتوں کی نیند چلی گئی تھی۔ میں نے کھانا چھوڑ دیا اور مجھے بس ہر وقت اس کی یاد آ رہی تھی۔‘وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے محمد اسلام کا پتا لگانے کے لیے پولیس میں بھی رپورٹ دائر کی تھی مگر ایک سال تک کوئی اتا پتا نہیں ملا۔باچا بی بی نے کہا کہ چند روز قبل انھیں اطلاع ملی کہ انٹرنیٹ پر کوئی پیغام ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ میاں والی کے علاقے ہرنولی میں کسی ٹائر والے کی دکان پر یہ کام کر رہا ہے جس کے بعد ہمارے جاننے والے لوگ ادھر گئے اور رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔’جب یہ واپس میرے پاس آیا تو مجھے دیکھتے ہی رونے لگا۔

میرے ساتھ لپٹ گیا اور میں بھی رونے لگی۔’ان کا کہنا تھا کہ والدین کی اپنے بچے سے ہفتے کے روز ملاقات ہوئی اور اب وہ واپس اپنے گھر سوات جا رہے ہیں۔گذشتہ سال پنجاب کے ضلع میاںوالی کے علاقے ہرنولی میں لوگوں نے جب ایک لاوارث بچے کو ٹائر شاپ پر بیٹھا دیکھا تو ایسے ہی سوال ان کے ذہنوں میں جنم لینے لگے کہ یہ 12، 13 کا بچہ کس کا ہے، اور یہاں روز اکیلا کیوں ہوتا ہے؟جب بچے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ بولنے یا سننے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ایسی صورتحال میں تو یہ مشکل تھا کہ اسے اپنے والدین سے کیسے ملایا جائے لیکن ہرنولی کے رہائشی عارف رشید ساندھو سے اس بچے کی تکلیف برداشت نہ ہوئی اور جولائی 2020 کو انھوں نے فیس بُک پر اپنی پوسٹ میں اس بچے کی مدد کرنے کی غرض سے فیس بک پوسٹ کی۔انھوں نے لکھا کہ ‘یہ بچہ گونگا ہے، بول نہیں سکتا۔ چھ ماہ سے ہرنولی کے پاس ایک ٹائر شاپ پہ ہے۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ بچہ اپنے ماں باپ سے مل سکے۔’ان کو دیکھ کر کئی مزید صارفین نے سوشل میڈیا کا راستہ اپنایا اور اس بچے کی مشکل دور کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا رُخ کیا۔میانوالی پولیس کو جب اس بچے کی خبر ہوئی تو انھوں نے اس سلسلے میں خصوصی اقدامات کیے۔پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق ‘ فیس بک پر کسی اللہ کے بندے نے پوسٹ لگائی کہ یہ گونگا بہرہ بچہ پچھلے ایک سال سے اپنے گھر والوں سے بچھڑ کر ہرنولی آیا ہوا ہے

اور کسی پنکچر کی دکان پر رہ رہا ہے۔’میانوالی پولیس کے نائب پی آر او عرفان کا کہنا ہے کہ یہ بچہ ایک سال سے یہاں موجود ہے اور اسے تھانے میں لایا گیا تھا جس کے بعد کئی علاقوں کی تصاویر دکھا کر بچے سے یہ پوچھا گیا کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے۔’ اس بچے کو ایک ایسے شخص سے ملوایا گیا جو اشاروں کی زبان سمجھتا تھا۔ بچے کو ملک کے مختلف حصوں کی تصاویر دکھائیں گئیں تاکہ اپنے علاقے کو پہچان سکے۔’پولیس کا یہ منصوبہ اس وقت کامیاب ہوا جب اس نے خوبصورت وادی سوات کو پہچان لیا اور اس تصویر پر ردعمل دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ‘تمام لوگوں کی کوششوں سے اس بچے کے والدین کا سوات میں پتا لگا لیا گیا اور ایک سال دور رہنے کے بعد آج اسے اپنے والدین سے ملا دیا گیا ہے۔’ڈسرکٹ پولیس آفیسر میانوالی مستنصر فیروز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ‘یہ ایک معجزہ ہے۔’وہ بتاتے ہیں کہ انھیں محمد اسلام کے بارے میں فیس بُک پر میانوالی سٹی نیوز کے پیج کے ذریعے معلوم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ بچہ پچھلے ایک سال سے ہرنولی کے علاقے میں ٹائر شاپ پر رہ رہا تھا اور اس کے والدین یا گھر کے بارے میں پتا نہیں چل پا رہا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پی آر او کی ٹیم کو یہ کام دیا اور دوسری طرف اشاروں کی زبان سمجھنے والے ایک فرد سے کہا کہ بچے کو ملک کے مختلف علاقوں کی تصاویر دکھا کر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اسی دوران بچے نے سوات کی تصویر پہچان لی اور پھر سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے مختلف گروپس میں اسے بات کو پھیلا کر بچے کو اس کے والدین سے ملوایا گیا۔ڈی پی او میانوالی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں کئی لاوارث بچے موجود ہیں اور اس کامیاب تجربے کے بعد آئندہ بھی سوشل میڈیا پر ایک ٹیم کے ذریعے ان بچوں کی مدد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Comments are closed.