دنیا کا عقل مند ترین آدمی

کہتے ہیں ایک ہوائی جہاز میں 4 مسافرسفر کر رہے تھے جن میں ایک ڈاکٹر ، ایک وکیل ، ایک طالب علم اور بزرگ مولوی صاحب تھے سفر بخیریت تھا لیکن اچانک اس جہاز کو بادلوں نے گھیر لیا جو انتہائی خطرناک طوفان خود میں سموئے ہوئے تھے ۔ جہاز ا س میں

ہچکوے کھانے لگا تھا ۔ بالآخر پائلٹ اپنے کیبن سے نکلا اور ایک بری خبر سنا دی پائلٹ : میں نے جہاز کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن مجھے جنہیں نہیں لگتا کہ ہم بچ جائے گے اس لئے پیراشوٹ لے کر کھود جاؤ۔ یہ کہ کر پائلٹ کھود گیا اچانک ڈاکٹر نے ایک پیرا شوٹ لیا اور ییہ کہ کر کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور انسانیت کو میری ضرورت ہے اور چھلانگ لگا دی ۔ ڈاکٹر کو دیکھ وکیل نے ایک پیراشوٹ اچھک لیا اور باہر کھودنے سے پہلے کہنا لگا : میں دنیا کا عقل مند انسان ہوں اس لئے میرا زیادہ حق ہے کہ جی سکوں اب ایک پراشوٹ رہ چکا تھا تو مولوی صاحب نے طالب علم کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ بیٹا میں اپنی زندگی گزار چکا ہوں تم پیراشوٹ لے جاو قوم کو تمہاری زیادہ ضرورت ہے ۔ اس پر طلاب علم ہنسنے ہوئےکہنے لگا ۔ مولوی صاحب : پریشان نہ ہو وکیل پیراشوٹ کی جگہ میرا بستہ لے گیا ہے۔ نتیجہ : خود کو زیادہ عقل مند نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ دوسروں کا بھی خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔دوسری جانب انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ہے، مگر بڑھاپا آتا ہےاور اس کئ بہترین بناوٹ کو کھا جاتا ہے، انسان کو اعلیٰ ترین لذتوں کا احساس دیا گیا ہے، مگر ہزار کوشش کے بعد جب وہ ان لذتوں کو پالیتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنی پیدائشی محدودیتوں کی وجہ سے وہ ان لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا، انسان کو ایک ایسی زمین دی گئی ہےجو اپنی حسین فضاؤں اور قیمتی سازوسامان کے ساتھ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر استثناء ہےمگر آدمی اس دنیا کو استعمال نہیں کرپاتا کہ موت آتی ہے اور اس کو اس کی پسند کی دنیا سے جدا کردیتی ہے، ایسا کیوں ہے- اس کی وجہ یہ ہےکہ موجودہ دنیا ہماری اصل دنیا نہیں ہے- اصل دنیا وہ ہےجو موت کے بعد آنے والی ہے، موجودہ دنیا اس آئندہ آنے والی دنیا کا ابتدائی تعارف ہے- یہ لذتوں کے اصل خزانہ کا لمحاتی تجربہ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.