دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نان سٹاپ پرواز:

لندن (ویب ڈیسک) آسٹریلیا کی سرکاری فضائی کمپنی قنطاس ایئر ویز کی گزشتہ روز 15 ہزار 37 کلو میٹر کا سفر 17 گھنٹے 26 منٹ میں طے کرنے والی نان اسٹاپ طویل ترین فلائٹ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ قنطاس ایئر ویز کے تحت پرواز کیو ایف 14 اس فضائی کمپنی

کی 99 سالہ تاریخ کی طویل ترین تجارتی مسافر پرواز قرار پائی ہے جس کے ذریعے جنوبی امریکا سے آسٹریلیا کے شہریوں کو وطن واپس پہنچایا گیا۔یہ پرواز ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس سے روانہ ہوئی جس نے 107 مسافروں، 4 پائلٹس، 17 کیبن کریو اور انجینئرنگ کے عملے کے ہمراہ 15 ہزار 37 کلو میٹر کا طویل ترین فاصلہ 17 گھنٹے اور 26 منٹ میں طے کیا۔ پروازوں کا ریکارڈ رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق اس سفر کے دوران یہ پرواز انٹارکٹیکا کے اوپر سے گزری اور 75 ڈگری جنوبی عرضِ بلد کے بالکل شمال تک پہنچ گئی۔اس سے قبل نیویارک اور لندن سے سڈنی جانے والی پروجیکٹ سن رائز ٹیسٹ پروازیں اس سے زیادہ طویل تھیں لیکن ان جہازوں سے عام مسافروں کے لیے سیٹ خریدنا ممکن نہیں تھا۔ بوئنگ 787 نائن ڈریم لائنرز طیارے کے ذریعے آپریٹ کی گئی قنطاس کی اب تک کی سب سے طویل نان اسٹاپ پرواز کیو ایف 14 کے لیے عام مسافر بھی ٹکٹ خرید سکتے تھے۔وکی پیڈیا کے مطابق آسٹریلیا کی سرکاری فضائی کمپنی قنطاس ایئر ویز فضائی بیڑے کے سائز، بین الاقوامی پروازوں اور بین الاقوامی مقامات کے لحاظ سے سب سے بڑی ایئر لائن ہے۔ قنطاس دنیا کی تیسری سب سے پرانی ایئر لائن ہے جو ابھی تک کام کر رہی ہے۔ اپنی سروسز کے حوالے سے یہ دنیا میں مقبول ہے نومبر 1920ء میں اس فضائی کمپنی کی بنیاد رکھی گئی تھی، کوئنز لینڈ اور شمالی علاقے کی فضائی خدمات کی وجہ سے اسے ’دی فلائنگ کینگرو‘ کا لقب دیا گیا ہے۔

Comments are closed.