دنیا کے 2 ممالک نے ملکر بڑی طاقت کا روپ دھار لیا ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) افغانستان سے امریکہ کی پسپائی امریکی بلاک کی ایک سٹرٹیجک شکست ہے۔پچھلے برسوں میں امریکہ، افغانستان میں الجھا رہا تو چین اور روس نے اپنی لڑائی کی استعداد میں اس حجم کا اضافہ کر لیا کہ اب امریکہ اگر چاہے بھی تو ناٹو کو ساتھ ملا کر روسی اور چینی بلاک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

نامور کالم نگار اور پاک فوج سے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔روس اور چین دونوں مل کر ”وارسا پیکٹ“ سے کہیں زیادہ پاور فل عسکری قوت بن چکے ہیں اور اگرچہ رسمی طور پر چین اور روس نے اس کا اعلان نہیں کیا لیکن ’مغربی بلاک‘ کو معلوم ہے کہ مشرق میں ایک نیا ’مشرقی بلاک‘ قائم ہو چکا ہے جس میں روس، چین، پاکستان اور ایران بڑے بڑے ممالک ہوں گے۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ انڈیا شامل ہو چکا ہے اور اب آسٹریلیا بھی اسی راہ پر گامزن ہے لیکن امریکہ اب محسوس کرنے لگا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطوں میں اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس لئے اس نے جمہوریت کی ایک نئی سمٹ (Summit) کا داؤ کھیلا ہے۔ بائیڈن کا خیال تھا کہ پاکستان ”جمہوریت“ کے نام پر اس کانفرنس میں ضرور شریک ہوگا۔ لیکن جب پاکستان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو وہ ورچوایل سمٹ اگرچہ منعقد تو ہوگی لیکن اس میں روس، چین اور پاکستان شامل نہیں ہوں گے۔امریکہ اور انڈیا اب یہ شور مچا رہے ہیں کہ چونکہ اس کانفرنس میں روس اور چین شامل نہیں ہو رہے اس لئے پاکستان نے بھی اس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے…… یہی پس منظر تھا جس کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز، اسلام آباد میں یہ بیان دے رہے تھے کہ پاکستان اس ”نام نہاد جمہوری کانفرنس“ میں شرکت کرکے کسی نئی ’بلاک پالیٹکس‘ کا حصہ نہیں بنے گا۔ بلکہ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ دنیا شائد اب ایک نئی ”کولڈ وار “ کی دوڑ میں شامل ہو رہی ہے اور یہ کولڈ وار گزشتہ کولڈ وار سے بھی زیادہ ہولناک نتائج اپنے بطن میں لے کر آئے گی۔ پاکستان اس بلاک سسٹم سے کئی بار ڈسا جا چکا ہے اور اس نے اپنا بے محابا اور بے تحاشا نقصان کیا ہے لیکن وہ اب اس راستے پر ہرگز گامزن نہیں ہوگا۔ چین نے پاکستان کے اس اقدام کو سراہا ہے۔

Comments are closed.