دن بھر سے بھوکی ‘‘ سید زادی”۔۔۔

چار دن کا فاقہ اور سید زادی‘‘ربیع بن سلیمان رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حج کے لیے جا رہا تھا، میرے ساتھ میرے ساتھی بھی تھے جب ہم کوفہ پہنچے’ تو وہاں ضروریات سفر خریدنے کے لیے بازاروں میں گھوم رہا تھا کہ دیکھا، ایک ویران سی جگہ میں ایک خچر

مرا ہوا تھا اور ایک عورت جس کے کپڑے بہت پرانے بوسیدہ سے تھے’ چاقو لیے ہوئے اْس کے گوشت کےٹکڑے کاٹ کاٹ کر ایک زنبیل میں رکھ رہی تھی مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ مردار گوشت لے جا رہی ہے،اس پر سکوت کرنا ہر گز نہ چاہئے ،شاید یہ عورت لوگوں کو یہ ہی پکا کر کھلاتی ہو، سو، میں چپکے سے اسکے پیچھے ہو لیا،.جاری ہے . اس طرح کہ وہ مجھے نہ دیکھے.وہ عورت ایک بڑے مکان میں پہنچی جس کا دروازہ جس کا دروازہ بھی اونچا تھا اس نے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا! اندر سے آواز آئی کون ہے؟ اس نے کہا کھولو، میں بد حال ہوں، دروازہ کھولا گیا اور گھر میں چار لڑکیاں نظر آئیں’ جن کے چہرے سے بد حالی اور مصیبت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے’ وہ عورت اندر آ گئی اور زنبیل اْن لڑکیوں کے سامنے رکھ دی.میں کواڑوں کی درزوں سے جھانک رہا تھا، میں نے دیکھا اندر سے گھر بلکہ برباد اور خالی تھااْس عورت نے روتے ہوئے لڑکیوں سے کہا، ’’اِس کو پکا لو اور اللہ کا شکر ادا کرو‘‘.وہ لڑکیاں گوشت کاٹ کاٹ کر اْس کو آگ پر بھوننے لگیں.مجھے بہت تکلیف ہوئی!میں نے باہر سے آواز دی.اے اللہ کی بندی اللہ کے واسطے اِسکو نہ کھا.وہ کہنے لگی،تو کون ہے؟..میں نے کہا ، میں ایک پردیسی آدمی ہوں اْس نے جواب دیا،توہم سے کیا چاہتا ہے؟ 3 سال سے نہ ہمارا کوئی عین نہ مدد گارتو کیا چاہتا ہے؟میں نے کہا ، مجوسیوں کے ایک فرقہ کے سِوا مردار

کا کھانا کسی مذہب میں جائز نہیں، وہ کہنے لگی،’’ہم خاندان نبوت کے شریف (سید) ہیں.اِن لڑکیوں کا باپ بڑا شریف تھا، وہ اپنے ہی جیسوں سے اِن کا نکاح کرنا چاہتا تھا.نوبت نہ آئی،اْس کا انتقال ہو گیا’ جو ترکہ اس نے چھوڑا تھا وہ ختم ہو گیا.ہمیں معلوم ہے کہ مردار کھانا جائز نہیں لیکن اضطرار میں جائز ہوتا ہے.ہمارا چار دن کا فاقہ ہے.ربیع کہتے ہیں’ اس کے حالات سْن کر میں بے چین ہو گیا اور اپنے ساتھیوں سے آکر کہا “میرا تو حج کا ارادہ نہیں رہا” سب نے سمجھایا، لیکن میں نے کسی کی نہیں سنی..میں نے اپنے کپڑے اور احرام کی چادریں اور جو سامان میرے ساتھ تھا، وہ سب لیا اور نقد چھ سو درم تھے وہ لیے. ، اور ان میں سے سو درم کا آٹا خریدا اور باقی درم آٹے میں چْھپا کر اْس بڑھیا کے گھر پہنچا اور یہ سب سامان اور آٹا وغیرا اس کو دے دیا…اس نے شکر ادا کیا اور کہنے لگی ،اے ابنِ سلیمان، اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف کرے اور تجھے حج کا ثواب عطا کرے، اور اپنی جنت میں تجھے جگہ عطا فرمائے،اور ایسا بدل عطا فرماے جو تجھے بھی ظاھر جو جائے.”ربیع کہتے ہیں،.جاری ہے . حج کا قافلہ روانہ ہو گیا، میں اْن کے استقبال کے لیے کوفہ ہی رْکا رہا، تا کہ اْن سے اپنے لیے دعا بھی کروائوں.. جب. حجاج کا ایک قافلہ میری آنکھوں کے سامنے سے گزرا’ تو مجھے اپنے حج سے محرومی پر بہت افسوس ہوا اور رنج سے

میرے آنسو نکل آئے…جب میں اْن سے ملا تو میں نے کہا “اللہ تمہارا حج قبول کرے اور تمہارے اخراجات کا بدلہ عطا فرمائے”.. اْن میں سے ایک نے کہا کہ یہ کیسی دْعا ہے..؟؟ میں نے کہا،اْس شخص کی دعا جو دروازہ تک کی حاضری سے محروم ہو’ وہ کہنے لگے بڑے تعجب کی بات ہے’ اب. تْو اِس سے بھی انکار کرتا نے.. تْو ہمارے ساتھ عرفات کے میدان میں نہیں تھا’ تْو نے ھمارے ساتھ رمی جمرات نہیں کی’ تْو نے ہمارے ساتھ طواف نہیں کیے.؟میں اپنے دل میں سوچنے لگا،یہ اللہ کا لْطف ہے..اتنے میں میرے شہر کے حاجیوں کا قافلہ آ گیا.. میں نے کہا ‘اللہ تمہاری سعی مشکور فرمائے، تمہارا حج قبول فرمائے..وہ بھی کہنے لگے، تْو ہمارے ساتھ عرفات پر نہیں تھا،.جاری ہے .رمی جمرات نہیں کی تْو نے ہمارے ساتھ .؟؟ اب انکار کر رھا ہے.. اْن میںسے ایک شخص آگے بڑھا اور کہنے لگا’. بھائی انکار کیوں کرتے ہو..؟؟ تم ہمارے ساتھ مکہ میں نہیں تھے یا مدینہ میں نہیں تھے.؟ جب ھم قبر اطہر کی زیارت کر کے بابِ جبرئیل سے باہر کو آ رہے تھے، اْس وقت اژدھام کی کثرت کی وجہ سے تم نے یہ تھیلی میرے پاس امانت رکھوائی تھی… “جس کی مہر پر لکھا ہوا ہے.، مَن عَاملَنَا رَبَحَ (جو ہم سے معاملہ کرتا ہے’ نفع کماتا نے)” اس نے کہا یہ لو اپنی ..ربیع رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں،میں نے اْس تھیلی کو کبھی اس سے پہلے دیکھا بھی نہ تھا..اس کو لے کر میں گھر واپس آیا’ عشاء کی نماز پڑھی..اپنا وظیفہ پورا کیا..اِسی سوچ میں جاگتا رہا کہ، آخر یہ قصہ کیا ہے’ اِسی کشمکش میں آنکھ لگ گئی’ تو میں نے حضور اقدس کی خواب میں زیارت کی’ حضور ﷺنے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا… “اے ربیع رحمت اللہ علیہ ، آخر ھم کتنے گواہ اِس پر قائم کریں کہ، تْو نے حج کیا ہے.؟.جاری ہے . تْو مانتا ہی نہیں..بات یہ ہے کہ، جب تْو نے اْس عورت پر، جو میری اولاد تھی،خرچ کیا اور اپنا حج کا ارادہ ملتوی کیا’ تو اللہ نے اسکا نعم البدل تجھے عطا فرمایا”اللہ نے ایک فرشتہ تیری صورت بنا کر، اْس کو حکم دیا کہ وہ قیامت تک ہر سال تیری طرف سے حج کیا کرے اور دنیا میں تجھے یہ عوض دیا کہ چھ سو درم کے بدلے چھ سو دینار (اشرفیاں) عطا کیں..” ربیع رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں، جب میں سو کر اٹھا تو اس تھیلی کو کھول کر دیکھا تو اس میں چھ سو اشرفیاں تھیں.ماشاءاللہ..باقی جہاں تک سید زادوں کا تعلق ابتدائی دور میں ان کی حالت اور انکا ایمان مثالی رہا ہے۔

Comments are closed.