دن میں ایک حاضری ضرور

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار امان اللہ شادیزئی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔گوادر پہنچا توکچھ لمحات سکون کے تھے، مگر جب سمندر کی طرف جاتا یا اسے دیکھتا تو بہت کچھ بھول جا تا چند لمحات تو ایسے تھے کہ اس سے لطف اندوز ہو تا جب نو جوان دوست وعبدالماجد کے ساتھ پرانے گوادر

میں گھوم رہاتھا تو اس نے کہا کہ یہاں ایک پاگلوں کا ہوٹل ہے مجھے بڑی حیرت ہو ئی کہ گوادر میں کہ پا گلوں نے ہوٹل کھولا ہے تو اس نے بتلا یا کہ نہیں بلکہ یہاں گوادر کے جتنے بھی پا گل ہیں وہ چا ئے پینے ضرور آتے ہیں میرے سا تھ لاہور کے اخبار نئی بات کے رپورٹر بھی تھے وہ تحقیقاتی رپورٹنگ کیلئے گوادر آئے تھے انتہائی ذہین اور اپنے کا م سے کا م رکھنے والے صحافی ہیں ہم تینوں اس ہوٹل میں چائے پینے گئے گوادر کے لوگ کتنے نرم اور انسان دوست ہیں کہ پا گلوں کے ہوٹل میں آتے ہیں اور چائے پی کر چلے جا تے ہیں بیٹھتے بھی ہیں اور با ت چیت بھی کر تے ہیںہم تینوں نے وہا ں چائے پی یہ ہوٹل کر مو کے نا م سے بھی جا نا جا تا ہے یہ کو ئی قدیم ہوٹل ہے شاید 100 سال قدیم ہو یہ ہو ٹل پرانی طرز کا بنا ہو ا ہے اندر ایک بہت ہی پرانا سماوار موجود تھا وہاں ہم ہوٹل کے گا ہکوں کو بھی دیکھتے ر ہے یہ ایک لحاظ سے عوامی ہو ٹل ہے صبح شام لوگ اس ہوٹل میں چا ئے پینے ضرور آتے ہیں ہم نے یہاں بھی چند لمحے خوشگوار موڈ میں گزارے جا نے کے بعد ہم ہوٹل سے نکلے تو با ہر ہی ایک پا گل بیٹھا ہو اتھا اس سے ہا تھ ملایا خوش ہوا جب ہم چلے تو راستے میں ایک پا گل اور ملا اس سے بلوچی میں پو چھا کہ کہا ں جا رہے ہو تو اس نے ہنس کر کہا چا ئے پینے جا رہا ہوں خوش مزاج پاگل تھا اس سے مل کر خوشی بھی ہو ئی اور دل مغموم بھی ہو ا کہ یہ لوگ پا گل کیوں ہو ئے یہ ایسے کیوں ہوئے یہ ایسے کیوں بن گئے کچھ بھی ہوا بہرحال ہم نے پرانے گوادر کی سیر دوبارہ شروع کر دی اور میرے دونوں سا تھی فوٹو گرافی بھی کر تے ر ہے اس کے بعد ہم اپنی ر ہا ئش گا ہ پہنچ گئے۔ دوبارہ گوادر کو دیکھنے کیلئے دل آمادہ ہے دیکھیں کب پروگرام بنتا ہے پھر کو ئی کہا نی بیا ن کریں گے۔

Comments are closed.