دن میں کتنی بار کھانا کھانا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ایک عجمی (غیرعرب) بادشاہ نے ایک طبیبِ حاذق حضور اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ وہ کوئی ایک سال دیارِ عرب میں رہا۔ اس دوران کوئی بیمار اس کے پاس نہ آیا اور اس سے علاج کیلئے نہ کہا۔

وہ حضورؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکوہ کیا کہ ’’مجھے تو اصحابؓ کے علاج معالجے کیلئے بھیجا گیا ہے لیکن اس مدت میں کسی نے بھی ادھر توجہ نہیں کی کہ میں جس خدمت کیلئے آیا ہوں وہ بجا لائوں‘‘۔ رسولﷺ نے فرمایا کہ ’’ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب تک بھوک غالب نہ ہو وہ نہیں کھاتے (اور جب کھانے لگتے ہیں تو) بھوک ابھی باقی ہوتی ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں‘‘۔ طبیب بولا ’’تو یہی ان کی صحت و تندرستی کا سبب ہے‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے زمین چومی اور چلا گیا۔ترجمۂ اشعار:طبیب اس وقت بات (علاج) کا آغاز کرتا ہے جب یا تو کھانے پر ہاتھ دراز ہوں (کھانا بہت کھایا جائے) کہ جسکے نہ کہنے سے خلل پیدا ہوتا ہے، یا پھر نہ کھانے سے جان جاتی ہو؛ مجبوراً اسکی حکمت (محض) گفتار رہ جاتی وہی مراد ہے۔(5) ارد شیر بابکان کی سیرت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے (ایک موقع پر) ایک عرب حکیم سے پوچھا کہ ’’روزانہ کتنا کھانا (کتنی مقدار میں) کھانا چاہئے؟‘‘ اس حکیم نے جواب میں کہا: ’’سو درم سنگ (پرندے کی ایک قسم) کافی ہے‘‘۔ ارد شیر نے کہا کہ: ’’اس قدر (تھوڑی) خوراک سے کیا طاقت حاصل ہوگی؟ حکیم نے (عربی میں جواب دیا جس کا ترجمہ ہے): اس قدر خوراک تجھے پائوں پر کھڑا رکھے گی (یعنی تو چل پھر سکے گا، تجھ میں طاقت آئے گی) اس مقدار سے تو جتنا زیادہ کھائے گا تو اس کا بوجھ تجھے اٹھانا پڑے گا (تیری صحت خراب ہوتی جائے گی)۔ترجمۂ شعر: کھانا زندگی بسر کرنے اور (خدا تعالیٰ کا) ذکر کرنے کے لئے ہے، جبکہ تو یہ سمجھتا ہے کہ زندگی کھانا کھانے ہی کے لئے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *