دودھ کا دودھ اور پانی کا پا نی ہو گیا :

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پولیس تفتیش میں سینیٹر رحمان ملک کو سنتھیا رچی کے الزامات سے بری الذمہ قرار دیدیا گیا ہے ، پولیس رپورٹ کے مطابق سنتھیا رچی درخواست میں نہ پیشی کے دوران کوئی ثبوت پیش کرسکی، اس کے علاوہ دھمکیوں کے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے سنتھیا رچی

نہ کسی کا فون نمبر نہ تاریخ اور نہ دھمکی کا وقت بتا سکی، مزید کہا گیا ہے کہ سنتھیا رچی کسی بھی فون کنندہ کا نام اور دھمکی کی نوعیت بھی نہیں بتا سکی، پولیس رپورٹ کے مطابق پولیس کو یوسف رضا گیلانی اور سینیٹر رحمان ملک کیخلاف الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور سارا معاملہ بدنیتی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔یاد رہے کہ سنتھیا رچی نے آج سے نو سال پہلے 2011 شرمناک الزام لگایا ہے، ریکارڈ چیک کرنے پر پایا گیا ہے کہ خاتون نے واقعے کی بابت نہ اسوقت تھانہ میں کوئی درخواست خود دی نہ اسکی متعلقہ ایمبسی کیطرف سے ایسی کوئی اطلاع دی گئی، پولیس رپورٹ کے مطابق سنتھیا رچی نے پولیس یا کسی دیگر فورم پر تحریری یا زبانی شکایت درج نہیں کروائی ہے ، دوسرا یہ کہ خاتون کے پاس کوئی میڈیکل سرٹیفیکیٹ نہیں ہے، پولیس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سنتھیا رچی کی درخواست نہایت مشکوک ‘ بدنیتی پر مبنی اور ناقابل کاروائی ہے، اطلاعات ہے کہ حکومت نے متعلقہ تھانے کا روزنامچہ دو دن تک بند رکھا تاکہ رحمان ملک کیخلاف ثبوت جمع کر سکے، عدم ثبوت کی بنیاد پر پولیس رحمان ملک کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام رہی، یاد رہے کہ سینیٹر رحمان ملک سنتھیا رچی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پاکستان میں قیام کے دوران سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے بھی وزارت داخلہ کو لکھ چکے ہیں، سینیٹر رحمان ملک پہلے ہی سنتھیا رچی کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.