دور حاضر میں یہ ملکر مسلمانوں کے خلاف کیوں صف آرا ہو چکے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں بحث چل رہی ہے کیا پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟ یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے علامہ اقبال اور قائداعظم اسرائیل کے خلاف تھے‘ یہ دعویٰ سو فیصد درست ہے بانیان پاکستان واقعی اسرائیل کے خلاف تھے لیکن دنیا میں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی بیک گراؤنڈ ہوتی ہے۔

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ اور ہم جب تک وہ بیک گراؤنڈ نہ جان لیں ہم ایشوز کو نہیں سمجھ سکتے اور علامہ اقبال اور قائداعظم کی مخالفت کی وجہ ترکی اور خلافت عثمانیہ تھی‘ فلسطین 1517ء سے لے کر 1917ء تک خلافت عثمانیہ کا حصہ رہاتھا‘ پہلی ورلڈ وار کے دوران برطانیہ نے اس پر قبضہ کر لیا‘ ہندوستان کے مسلمان خلافت کے حامی اور برطانوی راج کے خلاف تھے چناں چہ یہ فلسطین کے ایشو پر ترکی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔مصر نے 1979ء‘ ازبکستان‘ تاجکستان‘ قرغزستان اور قزاقستان نے1992ء اور اردن اور تیونس نے 1994ء میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا(تیونس کے 2000ء میں اسرائیل سے تعلقات ختم ہوگئے)‘ یو اے ای نے اب اسرائیل سے معاہدہ کر لیا ہے اور چند ماہ میں اومان اور سوڈان بھی اسے مان لیں گے‘ یہ ملک کیوں مان رہے ہیں؟ کیوں کہ یہ اس ایشو کو اسلام اور کفر کی لڑائی نہیں سمجھتے‘ یہ سفارتی اور سیاسی ایشو ہے اور سیاسی اور سفارتی ایشوز بالآخر اسی طرح سیٹل ہوتے ہیں۔ ہم اگر چند لمحوں کے لیے یہ بھی مان لیں یہ ایک مذہبی ایشو ہے تو پھر یہ ایشو عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا‘ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان نہیں ‘ کیوں؟ کیوں کہ حضرت عیسیٰ ؑکو یہودیوں نے مصلوب کروایا تھا‘ حضرت مریم ؑ اور مسیحی حواریوں کو بھی یہودیوں نے بیت المقدس سے نکالا تھا اور بعد ازاں عیسائی ڈیڑھ ہزار سال تک یہودیوں سے بدلے لیتے رہے‘ ہولوکاسٹ کے ذمے دار بھی عیسائی تھے مسلمان نہیں‘یہ درست ہے نبی اکرمؐ نے یہودیوں سے چار غزوات کیے تھے

لیکن آپؐ نے عیسائیوں کے خلاف کوئی بڑی لڑائی نہیں لڑی تھی‘اسلام کے ابتدائی دنوں میں مسلمان عیسائیوں کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ قرآن مجید کی سورۃ روم تک عیسائیوں کی حمایت میں اتری تھی لیکن پھر مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہوئے اور یہ دوسو سال تک صلیبی لڑائیاں لڑتے رہے جب کہ مسلمانوں نے 1970ء تک 14 سو سال میں یہودیوں کے خلاف کوئی بڑی لڑائی نہیں لڑی چناں چہ ہم اگر تاریخی لحاظ سے دیکھیں تو مسلمانوں کی عیسائیوں سے زیادہ اور طویل لڑائیاں ہوئیں اور یہ یہودیوں کو رعایتیں دیتے رہے لہٰذا ہم اگر دشمن ہو سکتے ہیں تو عیسائیوں کے ہو سکتے ہیں اور دوسری طرف یہودی اور عیسائی دو ہزار سال سے لڑ رہے ہیں لیکن عجیب بات ہے ہم آج صلیبی لڑائیوں کے باوجود عیسائیوں کے اتحادی ہیں اوریہودی اور عیسائی ہولوکاسٹ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو مصلوب کرنے کے باوجود ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ یہ مخالفت مذہبی نہیں سیاسی اور سفارتی ہے‘ ہمارے علماء کرام اکثرسورۃ المائدہ کی آیت نمبر51 کا حوالہ دیتے ہیں ’’اے لوگوجو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ‘ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انھی میں ہے‘ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے‘‘ یہ قرآن کا حکم ہے اور یہ برحق ہے‘ ہم میں سے کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا لیکن اس حکم میں تو ہمیں یہود اور نصاریٰ دونوں سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے

مگر ہم نے عیسائی دنیا کے تمام ممالک کو تسلیم بھی کر رکھا ہے اور ہمارے ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات بھی ہیں۔ ہم افغان لڑائی تک امریکی امداد سے لڑتے رہے ہیں جب کہ ہم اسرائیل کے خلاف ہیں‘ یہ بات بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم کسی حرام جانور کے بالائی حصے کو حلال قرار دے دیں اور نچلے حصے کو حرام لہٰذا ہم اگر اس آیت پر عمل کر رہے ہیں تو پھر ہمیں عیسائیوں سے بھی قطع تعلق کر لینا چاہیے اور تمام عیسائی ملکوں کو بھی مسترد کر دینا چاہیے مگر ہم یہ نہیں کر رہے‘ کیوں؟ میں جاہل ہوں لہٰذا میں علماء سے اس آیت کی تشریح اور بیک گراؤنڈ کی درخواست کرتا ہوں‘ مثلاً کیا یہ آیت واقعاتی ہے؟ کیا اس کے حکم کی وجہ وہ چند یہودی عرب قبیلے ہیں جو نبی اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ کے خلاف سازشیں کرتے تھے؟ کیا باقی عیسائی اور یہودی اس حکم سے مبریٰ ہیں؟ یہ فیصلہ علماء اور مفتیان ہی کر سکتے ہیں لیکن ہمیں آج یہ ماننا ہو گا ہم نے سفارتی اور سیاسی ایشو کو مذہبی بنا کر غلطی کی اور ہم آج خوف سے اس ایشو پر بات تک نہیں کررہے‘ ہم اپنا اسٹینڈ شدید کرتے چلے جارہے ہیں۔ہم اگر ملک ہیں تو پھر ہمیں اپنی سفارت کاری پر توجہ دینی ہو گی‘ یہ کیا بات ہوئی ہم نے جن کے لیے اسٹینڈ لیا وہ ہم سے سلام کے روادار ہیں اور نہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پہلے ہم سے مشورہ کرتے ہیں‘ کیا یہ زیادتی نہیں؟ ہم اسرائیل کو بے شک تسلیم نہ کریں لیکن اس کی وجہ خالصتاً ہم ہونے چاہییں‘ یہ کیا بات ہوئی ہم پہلے ترکی کی محبت میں انکار کرتے رہے اور آج ہم سعودی عرب کے پیچھے کھڑے ہیں‘ ہم اگر آزاد ہیں تو پھر ہمارے فیصلے بھی آزاد ہونے چاہییں‘ ہم کب تک دوسروں کے لیلے یا بچھڑے بنتے رہیں گے؟ کل کہیں ایسا نہ ہو جائے سارے عرب اسرائیل کو مان لیں اور اسرائیل ہمیں ماننے سے انکار کردے‘ایران اور ہم پر دھاوا بول دے اور ہمارے سارے برادر ملک غیر جانب دار ہو جائیں‘ ایک لمحے کے لیے سوچیے گا ضرور کیوں کہ بات اسی طرف جا رہی ہے۔

Comments are closed.