دور دراز علاقوں میں کیا حیران کن مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بہت بچپن کی سینکڑوں یادوں میں سے ایک یاد میرے ذہن میں کچھ اس طرح موجود ہے کہ اس شہر ملتان میں میرے والد محترم سرکاری ملازمت کیا کرتے تھے اور ان کا دفتر سرکاری گھر کے ساتھ ہی تھا ،

ایک دن انکے سپرنٹنڈنگ انجینئر اظہر ارشاد چوہدری ان سے ملنے انکے دفتر آئے تو وہ سامنے کرسی پر بیٹھے۔ میرے والد اپنی کرسی پر ہی موجود رہے اور کافی دیر دونوں کے درمیان سرکاری امور پر گفتگو جاری رہی جسے میں نے کھڑکی سے دیکھا۔ وہ باہر نکلے تو میرے والد گاڑی تک انہیں چھوڑنے گئے اور واپس آ کر اپنی کرسی پر بیٹھے تو سوال کرنے کی اپنی عادت سے مجبور ہو کر میں نے ان سے پوچھا کیا کہ یہ آپ سے بڑے آفیسر تھے وہ آفیسر کی کرسی پر کیوں نہیں بیٹھے‘ سامنے کیوں بیٹھے۔ والد مرحوم کی عادت تھی ہر بات کا مدلل جواب دیتے اور تفصیل سے سمجھاتے۔ کہنے لگے کہ یہ کرسی جس آفیسر کی ہوتی ہے، اس پر وہی بیٹھ سکتا ہے، کوئی دوسرا نہیں، خواہ وہ اس کرسی والے سے کتنا ہی بڑا آفیسر کیوں نہ ہو۔ کہنے لگے کرسی کا بھرم اور احترام ہوتا ہے۔ مزید کہا کہ جس منبر پر نبی کریمؐ بیٹھتے تھے، اس پر ان کی زندگی میں کوئی بھی نہیں بیٹھا۔ یہ انگریزوں نے سارے کا سارا سوشل سیٹ اپ اور نظام احترام اسلام اور نبی پاکؐ کی تعلیمات ہی سے لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کافروں نے لے لیا مگر نبی پاکؐ کے امتیوں نے چھوڑ دیا۔ہماری کوتاہیاں ہمیں کس نہج پر لے آئیں۔۔۔ ہماری عمر کے سب لوگوں اور ہم سے بڑوں کو خوب یاد ہو گا کہ چالیس پچاس طالب علموں کی کلاس کو محض ایک مانیٹر ہی سنبھال لیا کرتا ہے۔ کلاس انچارج کی تو بہت بعد میں باری آتی تھی۔

ہماری عمر کے لوگ زمانہ طالب علمی میں تو مانیٹر ہی کو خوش رکھتے تھے کہ ماسٹر صاحب کو شکایت نہ لگ جائے۔ محض ایک مانیٹر جو کہ ہم ہی میں سے ہوتا تھا، کلاس کو بہت حد تک کنٹرول کر لیتا تھا کہ تب کنٹرول فرد کا نہیں سسٹم کا ہوتا ہے اور ہمارا ہی ہم جماعت ہم ہی میں سے چن کر اس سسٹم کا حصہ بنا دیا جاتا تھا۔ آج ہزاروں افسران پر مشتمل مانیٹرنگ ٹیمیں ہیں مگر نظام تباہ اس لئے ہوتا جا رہا ہے کہ سسٹم کو ہم برقرار نہ رکھ سکے۔عینی شاہد ہوں کہ بہت سے محکمے اور ادارے جہاں مانیٹرنگ ٹیمیں آئیں وہاں نظام زیادہ خراب برباد اور تباہ ہوا اور جس بھی محکمے کے ملازمین پر ان کے اصل کام اور ان کی اصل ذمہ داری سے ہٹ کر کوئی بھی اور ذمہ داریاں ڈالی گئیں وہ اپنے کام سے بھی گئے۔ کیا دور تھا جب سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی حاضریاں 100 فیصد اور انکی کلاسوں کا رزلٹ بھی 60 سے 70 فیصد بلکہ اس سے بھی زائد ہوتا تھا۔ پھر اساتذہ کو دیگر کاموں پر لگایا گیا۔ کبھی وہ مردم شماری کر رہے ہیں‘ کبھی وہ پولیو مہم چلا رہے ہیں‘ کبھی انہیں انتخابی فہرستوں کی تیاری کا کام سونپا جا رہا ہے تو کبھی انہیں کوئی اور ذمہ داریاں دیکر باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے اور پھر آخرکار اساتذہ نے باہر کا راستہ دیکھ ہی لیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے اپنے انتخابی حلقے ڈیرہ غازی خان کے

پہاڑی علاقوں کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری 10 فیصد بھی نہیں اور آج بھی ان کے علاقوں کے بعض بند سکولوں میں محض کاغذی خانہ پوری کی بنیاد پر پڑھائی جاری ہے۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی ایک دور میں بڑی تعداد میں نچلے درجے کے ریٹائرڈ ملازمین کو سکولوں کی مانیٹرنگ اور حاضریاں چیک کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان ذمہ داریوں کے نتیجے میں ایسی ایسی شرمناک کہانیاں سننے کو ملیں کہ قلم لکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ آج معزز ججوں کو سکولوں کی مانیٹرنگ پر لگانے والے یہ کیوں بھول چکے ہیں کہ ان کے فوری عدل اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے اپنے فرائض کتنے عظیم تر ہیں۔ اگر یہ عظیم تر نہ ہوتے تو نبی کریمؐ صادق‘ امین اور انصاف کرنیوالے اعلان نبوت سے پہلے کیوں کر قرار پاتے اور جب مکہ کے علاوہ دوردراز کے لوگ اپنے فیصلے ان کے پاس لیکر آیا کرتے تھے تب تو قرآن مجید بھی نازل نہ ہوا تھا اور نمازیں بھی فرض نہ ہوئی تھیں حتی کی وحی بھی نہیں آئی تھی۔یہیں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کو انصاف اور عدل کتنا پسند ہے اور مالک کائنات کے نزدیک اس کی س قدر اہمیت ہے۔