دوسری شادی کا دورہ اکثر مرد حضرات کو 45 سے 55 سال کی عمر میں ہی کیوں پڑتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔دوستو،سیانے کہتے ہیں نخرے ہرجگہ دکھائے نہیں جاتے ورنہ لینے کے دینے پڑجاتے ہیں، ایسا ہی ایک واقعہ اردن میں ہوا،جہاں شادی کے موقع پر دلہن نے نخرہ دکھایا تو دلہا نے نکاح کے فوری بعد دلہن کو طلاق دے دی۔۔

عرب میڈیا نے یہ واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ اردن میں ایک نکاح کی تقریب کے دوران ماسک نہ پہننے پر دلہا اور دلہن میں بحث ہوگئی۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دلہن کے ماسک نہ پہننے پر دلہا نے طیش میں آکر نکاح کرتے ہی دلہن کو طلاق دے دی، دلہن کے ماسک نہ پہننے کی وجہ اس کی لپ اسٹک تھی، دلہن نہیں چاہتی تھی کہ ماسک پہننے کی وجہ سے اس کی سرخی خراب ہو۔رپورٹس کے مطابق دلہا نے دلہن کو 2 سے 3 بار ماسک پہننے کا کہا مگر دلہن نے انکار کردیا جس کی وجہ سے شوہر نے غصے میں آکر اپنی نئی نویلی دلہن کو طلاق دے دی۔اسی طرح سے مکہ مکرمہ میں ایک سعودی خاتون نے فسخ نکاح کیلئے عدالت سے رابطہ کرلیا، خاتون نے کہا کہ شوہر سوشل میڈیا پر آنے سے روکتاہے۔عربی اخبارالعربیہ کے مطابق خاتون کی شادی کئی برس قبل ہوئی تھی، خاتون کے شوہر نے اسے سوشل میڈیا پر اشتہارات میں نمودار ہونے سے روکا تا کہ ان کی پرائیویسی محفوظ رہے مگر نکاح نامے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اسے کام کرنے سے نہیں روکا جائے گا، اب روک ٹوک کی جا رہی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق فریقین کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی معاہدے میں کسی قسم کی دھوکہ دہی شامل کرے کیونکہ شریعت نے ہر قسم کے معاہدے میں دھوکہ دہی سے روکا ہے۔ ان معاہدوں میں نکاح بھی شامل ہے۔کہتے ہیں کہ عاشق اپنے محبوب کے لئے ہر وقت قربانی دینے پر آمادہ رہتے ہیں

باباجی کہتے ہیں کہ کم عمری کی شادی،جی کا جنجال ہوتی ہے، باباجی اکثر ایسی الٹی باتیں کرجاتے ہیں جو پبلک میں پاپولر تو ہوتی ہیں لیکن باباجی کے نزدیک پبلک غلط کررہی ہوتی ہے، کم عمری کی شادی ہمارے معاشرے میں عام ہے،لیکن باباجی اس کے مخالف ہیں، باباجی فرماتے ہیں کہ۔۔ کم عمری کی شادی کی سب سے بڑی پرابلم یہ ہوتی ہے کہ جب تک زندگی کی سمجھ آنے لگتی ہے اس وقت تین،چار بچے پیدا ہوجاتے ہیں۔پھر بیوی سے چخ چخ میں عمر کے پچاس سال پورے ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بیس سے پچیس سال کی عمر میں شادی کرتے ہیں جب پچاس سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ان کے اپنے بچے ان کی نصف عمر کے ساتھ ساتھ شادی کے قابل ہوجاتے ہیں، اسی دوران بیوی بھی ایزی ہوجاتی ہے کہ چلو اولاد جوان ہوگئی ہے اب ڈر کاہے کا؟؟حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بیویوں کو الرٹ رہنا چاہیئے، وہ شوہر کو گھر کی مرغی سمجھ رہی ہوتی ہے لیکن وہ اندر سے محلے کا مرغا ہوتا ہے۔۔ عین اس وقت جب عورت اپنے بچوں کی فکر میں ”فیگر“ کھو بیٹھتی ہے، خو دسے غافل ہوجاتی ہے، اسی دوران شوہر پر دوسری شادی کا شدید ”اٹیک“ پڑتا ہے، یہ اٹیک اکثروبیشتر چالیس سے پچاس سال کی عمر کے دوران پاگل پن کی حد یا جنونی کیفیت تک ہوتا ہے،اسی پاگل پن یا جنونی کیفیت میں شوہر دوسری شادی کی نوے فیصد پلاننگ بھی کرلیتا ہے لیکن پھر کسی نہ کسی وجہ سے رہ جاتا ہے۔۔

باباجی فرماتے ہیں کہ ننانوے فیصد مرد دوسری شادی کا سوچتے ہیں اور باقی فیصد جھوٹ بولتے ہیں کہ انہوں نے کبھی دوسری شادی کا سوچا ہی نہیں۔۔باباجی کاہی کہنا ہے کہ ہر مرد کے اندر ایک بوم بوم آفریدی چھپاہوتا ہے۔جوزندگی کے آخری اوورز میں آؤٹ کروا دینے والے چھکے لگانے کو بے تاب ہوتا ہے۔۔شوہر اگر مالی اعتبار سے مضبوط ہو تو یہ مالی استحکام بیوی کے حق میں منفی گردانا جاتا ہے، ایک طرف بچوں کی تعلیم مکمل ہوجاتی ہے اور وہ سیٹ ہوجاتے ہیں، بیوی سمجھتی ہے کہ منزل قریب ہے لیکن شوہر تو فرنٹ سیٹ پر دوسری سواری بٹھانے کے چکرمیں لگا ہوتا ہے۔ بیوی اگر بچوں کے لئے رشتہ ڈھونڈ رہی ہوتی ہے تو شوہر اپنے چکر میں لگاہوتا ہے۔۔ اسی چکر میں قدرت اپنا کھیل کھیلتی ہے اور اپنا آپ یاد کراتی ہے یا تو ہارٹ اٹیک آن پہنچتا ہے اور یا پھر فالج۔ پھر سے وہی مرد اپنے ہمسفر کے پاس آتا ہے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرلیتا ہے کیوں کہ جوان اولاد کے پاس ہمیشہ سے وقت کی کمی ہی رہتی ہے۔ہمارے معاشرے میں ریٹائرمنٹ کے بعد مرد کی زندگی ختم ہوکر رہ جاتی ہے جب کہ مغرب میں مرد کی اصل زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتی ہے، وہ زندگی کھوجنے نکلتا ہے، خود کو فٹ رکھتا ہے اور خوب تفریح کرتا ہے۔۔باباجی نے نوجوانوں کو پُرمغزنصیحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔محبوبہ جب بدتمیزی کرنے لگ جائے تو سمجھ لینا کہ وہ اب بیوی بننے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوچکی ہے۔۔انہوں نے نوجوانوں کو مزید مفت مشورہ دیا ہے کہ۔۔اگر آپ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی تو شادی کرلیں،آپ کی یہ بیماری ٹھیک ہوجائے گی۔۔ایک سوٹ پسند کرنے کیلیے دکان کا تہس نہس کرنیوالی اگر آپکو پسند کرتی ہے تو رب تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور قدر کرو اس کی۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔باباجی کا اقوال ذریں ہے، جب پیسہ بولتا ہے تو اس کی گرامر اور اسپیلنگ کوئی چیک نہیں کرتا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.