دونوں بھائیوں نے ماں کو کیا کہا اور پھر کچھ عرصہ بعد کیا حیران کن واقعہ پیش آیا ؟

لاہور(ویب ڈیسک) سون سکیسر- یہ علاقہ پنجاب میں خوشاب کے قریب پہاڑوں پر واقع ہے لوگ سخت جان بھی ہیں اور اسی لحاظ سے اکھڑ مزاج بھی احمد ندیم قاسمی اور آج کل کے مقبول کالم نگار عبدالقادر حسن کا تعلق اسی علاقے سے ہے- یہ یہیں کا قصہ ہےوہاں دو بھائی اپنے غلط کاموں ،لوٹ مار

،غارت گیری کے لئے مشہور تھے – 302 کے کیس میں پکڑے گئے- پولیس نے جو کیس ان کے خلاف مرتب کیا اس کے مطابق کام انہی دو بھائوں نے کیا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس کا ان بھائیوں کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھاان دو بھائیوں کی ماں بھی اس بات کی رو رو کر قسمیں کھا کر لوگوں کو یقین دلا رہی تھی کہ واقعہ کی شب تو وہ سب دوسرے پنڈ میں اپنی بہن کے گھر میں اس ماں کے ہمراہ تھے – لیکں دوسری جانب پولیس کی اپنی تحقیقات تھیں ماں پیروں فقیروں کے پاس جا جا کرکہہ رہی تھی کہ اس کے بیٹوں کے لئے دعا کریں -وہ بالکل بے قصور ہیں -تب اس کی ماں کو کو کسی نے مشورہ دیا کہ ایک مجذوب سا فرد کہیں دور دوسرے گاؤں میں رہتا ہے – اس کے پاس جاؤ اور اس سے دعا کے لئے کہو – ماں کافی طویل فاصلہ طے کرکے اس پیر مجذوب کے پاس پہنچی اور ساری رواداد گوش گزار کی – مجذوب نے نگاہیں اوپر کیں اور کہا “پر میں اس بچھیری نوں کیہہ جواب دیواں ” ( یعنی میں اس بچھیری کو کیا جواب دوں ) –اس کے بعد با لکل خاموشی اختیار کر لی – ماں پوچھتی رہی لیکن اس کے بعد وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا– خاموشی —گھمبیر سناٹا — بچھیری چھوٹی عمر کی گھوڑ ی یا گھوڑی کے بچے کو کہتے ہیں – ماں پھر روتی دھوتی اپنے گاؤں پہنچی اور بچوں سے سارا ماجرا بیان کیا – اچانک چھوٹے بیٹے کو کچھ یاد آیا

اس نے ایک دم اپنے بڑے بھائی کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہا ‘بھرا یاد کر –ذرا یاد کر —– وہ ھم نے بڑے پنڈ میں جو چوری کی تھی -گھوڑی کے بچے کو کنویں میں پھینکا تھا “بڑا بھائی چونک پڑا – ماں کے پوچھنے پر چھوٹے بھائی نے بتایا کہ کافی عرصہ قبل کسی گاؤں میں واردات کر کے واپس آرہے تھے کہ کسی گھر کے باہر انہیں ایک سفید گھوڑی بندھی نظر آئی – سفید گھوڑی انکی کمزوری تھی – گھوڑی کو اسکے کھونٹے سے کھولا اور اپنے ساتھ لےکر روانہ ھو گئے لیکن وہ یہ دیکھ کر جھنجلارہے تھے کہ گھوڑی کی رفتار اتنی تیز نہیں ہے اور وہ بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ رہی ھے -انہوں نے بھی مڑ کر دیکھا تو انھیں اس گھوڑی کا بچہ نظر آیا جو لڑھکراتا ھوا پیچھے بھاگا آرہا تھا -اور گھوڑی اپنے اس بچے کے سبب پریشان تھی – ایک بھائی نے گھوڑی کو روکا اور اس کے بچے کو اٹھایا -بغل میں دابا اور پھر گھوڑی کوایڑ لگائی – اب گھوڑی صحیح رفتار سے بھاگ رھی تھی – اپنے گاؤں پہنچ کر انہوں نے گھوڑی کے بچے کو ایک کنوئیں میں پھینک دیا – گھوڑی کے بچے کے پانی میں گرنے کی ایک “شڑاپ “ سی آواز آئی اور فضا میں پھیل گئی – لیکن اس سے بھی زیادہ ہیبت ناک وہ چیخ کی آواز تھی جو گھوڑی کے منہ سے نکلی تھی – درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے دہل گئے اور گھوڑی کو اسکے کھونٹے سے کھولا اور اپنے ساتھ لےکر روانہ ھو گئےکیونکہ مختلف آوازیں نکالتے ہوئے ہوا میں بے چینی سے اڑنے لگے – ایک عجب سا شور مچ گیا لیکن دونوں بھائی ان سب سے لاپرواہ اپنی اگلی منزل کی طرف بڑھ گئے – مجذوب کا یہی کہنا تھا وہ گھوڑی سامنے کھڑی سوال کر رہی ہے کہ ان دو بھائیوں کو کب سزا ملے گی – اور یوں ایک ناکردہ کیس مٰیں پکڑے گئے ہیں –

Comments are closed.