ذمہ دار کون ؟ انصار عباسی کا خصوصی تبصرہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا پر بےلگام افواہیں بلا روک ٹوک جاری ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جارہا کہ حساس مسائل پر قیاس آرائیاں کس طرح نقصان پہنچا سکتی ہیں اور اختلافات پیدا کرسکتی ہیں۔

یہ تیسرا دن ہے اور اب تک قیاس آرائیوں کا کوئی خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ سوشل میڈیا قابل اعتماد نہیں ہے اس کے باوجود یہ ذہنوں پر اثرانداز ہوکر لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہاں تک کے اسمبلیاں تحلیل ہونے جیسی جعلی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔ اس کے باوجود حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کسی بھی متعلقہ حکام نے اس پر ایک لفظ تک نہیں کہا ہے۔ حالاں کہ یہ معاملہ ناصرف سول حکومت اور ملٹری کے لیے حساس ہے بلکہ دیگر کے لیے بھی یہ معاملہ حساس ہے۔ وزیراعظم کے معاونین بھی جو عموماً جعلی خبروں پر سوشل میڈیا پر بات کرتے رہتے ہیں ، وہ بھی حیرت انگیز طور پر خاموش ہیں۔ ہفتے کے روز مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کو بھی اس افواہ پر بات کرنا پڑی۔ شہباز شریف نے ادارے کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے عمران خان کا نام لیا، جو ادارہ ملک اور اس کے دفاع میں اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ امور (سیاست میں کردار) پر تحفظات کے باوجود وہ اداروں کو مضبوط اور نظم و ضبط کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ پاکستان کے دفاع کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا نے وزیراعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ جس شخص کو یکجہتی کی علامت ہونا چاہیئے، اس نے اس ادارے کے ساتھ کیا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ انہوں نے سوشل میڈیا پر دیکھا ہے۔

وزیراعظم آفس سے ایک مختصر اعلامیے کے ذریعے ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا، جس سے ان افواہوں کو تقویت ملی۔ دفاعی ذرائع کا کہنا تھا کہ حساس تقرریوں کے معاملے پر آرمی چیف نے وزیراعظم سے بات چیت کی تھی، جس پر وزیراعظم نے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ یہ اصرار کیا گیا تھا کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے آئی ایس پی آر ہی ان تقرریوں کا اعلان کرے گا ، جس میں نئے ڈی جی، آئی ایس آئی کی تقرری بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ نوٹیفکیشن کے اجرا اور ٹرانسفر احکامات پر عمل درآمد میں کچھ وقت لگتا ہے۔ ان ذرائع نے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم عمران خان کی اہم حساس تقرری سے متعلق مبینہ اختلافی رائے سے متعلق کوئی معلومات ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن انہوں نے تجویز دی ہے کہ صرف وزیراعظم دفتر ہی فائل پر وزیراعظم کی منظوری سے متعلق بتا سکتا ہے۔ تاہم، وزیراعظم دفتر نے اس پر لب کشائی نہیں کی ہے۔ کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ مسئلہ حل ہوچکا ہے اور وزیراعظم صرف آئی ایس آئی میں کچھ ماہ بعد تبدیلی کے خواہاں تھے۔ تاہم، اگر کچھ وفاقی وزرا اس کی آف دی ریکارڈ تصدیق کرتے ہیں تو وہ متعلقہ نہیں ہیں ۔ لہٰذا ہر چیز جو کہی گئی ہے اور سنی گئی ہے وہ اس وقت تک افواہ ہے جب تک متعلقہ دفتر سے وہ بات نا کہی جائے۔ ماضی میں بھی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات رہے ہیں، لیکن ایسے امور اور تنازعات کو نظر انداز کرنے سے صورت حال خراب ہوئی۔ ’’رسوا کن ٹوئٹ، نوٹیفکیشن مسترد‘‘ جو کہ سابق ڈی جی، آئی ایس پی آر کی جانب سے کیا گیا اور اس کے حکومت اور فوج پر سنگین نتائج اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا دونوں کے تعلقات خراب کرسکتا ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ آئی ایس پی آر نے نوٹیفکیشن واپس لیا، لیکن جو نقصان ہوا ہے اس کا مداوا نہیں ہوسکتا۔ سوشل میڈیا پر اگر افواہوں کو سنجیدہ نا لیا گیا تو یہ مسئلہ سیاست دانوں اور مین اسٹریم میڈیا میں موضوع بحث بن جائے گا۔ اس مسئلے سے ابھی جان چھڑائی جاسکتی ہے لیکن اگر متعلقہ حکام نے اسے سنجیدہ نا لیا تو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا۔

Comments are closed.