ذوالفقار علی بھٹو کی بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو سے آخری ملاقات کی تفصیلات آپ کی آنکھیں نم کردیں گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی منیر احمد خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔محترمہ بے نظر بھٹو اپنی کتاب مشرق کی بیٹی میں بھٹو صاحب کی سزا پر عملدرآمد سے پہلے ملاقات کا جواحوال لکھتی ہیں اس کا لب لباب کچھ ایسے ہے کہ تین اپریل 1979 کومیری والدہ نصرت بھٹو نے کمرے میں داخل ہو کر کہا

پنکی باہر فوجی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھٹو صاحب سے ابھی ملنا پڑے گا، اس کا کیا مطلب ہے ؟ اس جملے سے یقینی طور پر محترمہ پرقیامت گزر گئی ہو گی وہ لکھتی ہیں کہ مجھے معلوم تھا اس کا مطلب کیا ہے میری والدہ کو بھی معلوم ہوگالیکن ہم دونوں اس کے معنی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے جب ہم قید خانے پہنچے ہماری تلاشی لی گئی اورمیرے والد سے پانچ فٹ کے فاصلے سے ملاقات کروائی گئی محترمہ لکھتی ہیں میرے والد نے پوچھا تھا کہ ملاقات کا کتنا وقت ہے جواب آیا آدھا گھنٹہ تو والد صاحب نے کہا قوانین کے مطابق تو تختہ دار کی سزا سے پہلے خاندان والوں سے ایک گھنٹہ ملاقات ہوتی ہے اس نے جواب دیا مجھے یہ ہی ہدایت موصول ہوئی ہے محترمہ مزید لکھتی ہیں کہ میرے والد زمین پر بچھے بوسیدہ گدے پر بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ ان کی کوٹھری سے میز،کرسی اورپلنگ اٹھا لیا گیا تھا میرے والد نے میرے میگزین ،کتابیں اور وکیل کے لائے ہوئے سگار مجھے واپس کر رہے تھے وہ مجھے اپنی شادی کی انگوٹھی بھی دے رہے تھے لیکن میری والدہ نے انہیں روک دیا تھوڑی دیر بعدایک افسر نے آکر کہا وقت ختم ہو گیا ہے بے نظیر نے انتہائی صدمے میں کہاکوٹھری کھولیے میں اپنے والد کو گلے لگانا چاہتی ہوں میں پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کی بیٹی ہوں یہ میری آخری ملاقات ہے اور مجھے اپنے والد کوگلے لگانے کا حق ہے لیکن افسرنے صاف انکار کر دیا میری والدہ نے سلاخوں کے درمیان سے ہاتھ بڑھا کر میرے والد کے ہاتھ کو چھوا تھا ہم باہر کو چل پڑے اس ملاقات کی بہیمانہ کیفیت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی محترمہ لکھتی ہیں کہ میں اپنے والد کوآخری دیدار کے لیے مڑ کر دیکھنا چاہتی تھی لیکن میں واپس مڑنہ سکی میری ہمت جواب دے گئی تھی ۔پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکی سزا پر عملدرآمد سے پہلے آخری ملاقات کی رو داد تھی کتنی اندوہناک ملاقات تھی جس لیڈر کو اس بات کا علم ہو کہ یہ میری بیوی اوربیٹی سے آخری ملاقات ہے اس کے بعد میںموت کی اتھاہ گہرایوں میں چلا جائوں گا وہ لمحے کتنے دل فگار ہوتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی قوم نے بھٹو صاحب کی سفاکانہ اور درد ناک موت کا ادھار نہیں اتارا پاکستان کی تاریخ میں بھٹو صاحب سے پہلے اور بعد میں ابھی تک ایسا وقت نہیں آیا کہ کسی لیڈر کی خاطر لوگوں نے جان لٹا دی ہو یا پھندے کو چوما ہو یا سینکڑوں لوگوں نےقید کاٹی ہو ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *