ذکر ان لوگوں کا جو لاہور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایک مشن پورا کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر شوکت ورک اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں ہوئی تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب نے مجھے جو عزت اور مقام دیا میں اس پر جتنابھی فخر محسوس کروں کم ہے اور اس تعلق میں مضبوطی 16 اپریل 2011ء میں آئی جب

میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے لاہور میں ایک ہسپتال بنانے کے لئے ساتھ دینے کی درخواست کی،جو انہوں نے فورا قبول کرلی کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کسی اچھے کام سے انکار نہیں کرتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی طرف سے حامی بھرلینے کے کچھ عرصہ بعد میں نے لاہورمیں ہسپتال کے لئے جگہ دیکھنا شروع کی سب سے پہلے اپنے بھائی میجر طارق ورک کی رائیونڈ روڈ، امتیاز رفیع بٹ صاحب کی نیولاہور سٹی سندر اور الحاج قیصر امین بٹ صاحب کی مینار پاکستان راوی روڈ والی جگہ دیکھی،اسلام آباد میں ڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب کے گھر جا کر تمام تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا ورک بھائی یہ جو مینار پاکستان کے پاس قیصر امین بٹ صاحب والی زمین ہے یہ ٹھیک ہے اس کو فائنل کردیں۔اس کے بعد2012ء میں قیصر امین بٹ صاحب کے ساتھ میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے ملاقات کی اور اتفاق ہوا کہ جلد ایک شاندار ہسپتال کی تعمیر کا آغاز کیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس جگہ پر 1987ء سے احباب ہسپتال کے نام سے ایک چھوٹا ہسپتال فنکشنل تھاجس کی بنیاد قیصر امین بٹ کے والد گرامی الحاج محمد امین بٹ (مرحوم) نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رکھی تھی۔سابق ڈپٹی میئر لاہور الحاج محمد امین بٹ سے میرا بڑا احترام والا رشتہ تھا۔ یہ زمین انہوں نے متروکہ وقف پراپرٹی بورڈسے لیز پرلی ہوئی تھی اس زمین کا قبضہ لینے کے بعد ہم نے محکمہ سے بہت بڑی کوششوں کے بعد بزم احباب ویلفیئر سوسائٹی سے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کے نام کرانے میں کامیاب ہوئے۔

اس میں میرے تمام ساتھیوں خصوصاً جبار مرزا، فاروق بلوچ، خالد شہزاد، سہیل مغل اور صدیق الفاروق نے اہم کردار ادا کیا۔جب میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ہسپتال کی تعمیر کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے احباب ہسپتال کی بلڈنگ کی رینوویشن کی جائے اور ساتھ ہی اوپی ڈی کے لئے نئی بلڈنگ بھی بنائی جائے۔ ہم اپنے ہسپتال کا آغاز شاندار شعبہ بیرون مریضاں OPDسے کرنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ بھی کہا کہ او پی ڈی میں غریبوں کے مفت علاج معالجہ کی سہولتیں دیکھ کر لوگ ہمیں اچھا فنڈ دیں گے۔اس کے بعد ہی ہم ہسپتال کی مین بلڈنگ کی تعمیرکا آغاز کریں گے۔ میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی تجویز پر فوری عمل کیا۔2013ء میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ رجسٹرڈ ہونے کے ساتھ ہی ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں (OPD) کی تعمیر شروع کردی گئی اور فروری 2015ء میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال نے اپنی طبی خدمات کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا جہاں ہم اب تک دس لاکھ سے زائد غریب اور مستحق مریضوں کا علاج معالجہ کرچکے ہیں۔ڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ میں ڈیجیٹل ایکسرے،کلر ڈوپلر،الٹرا ساؤنڈ، آپریشن تھیٹر،سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹری اور ایمرجنسی جیسی تمام سہولیات میسر ہیں۔اگست 2017 ء میں ہم نے دس بیڈز پر مشتمل فری ڈائیلسز سنٹر کا آغاز کیا جس کا افتتاح محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے دست مبارک سے کیا اور اب یہ ڈائیلسز سنٹر14بیڈز پر مشتمل ہے جہاں ہزاروں غریب مریضوں کا علاج مفت کیا جا رہا ہے۔

2017ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو بتایا کہ ہمارے پاس فنڈز جمع ہو چکے ہیں اور ہم ہسپتال کی مین بلڈنگ کا آغاز کر سکتے ہیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کی منظوری دے دی اور اس طرح 2018ء میں ہسپتال کے مین ٹاورکی تعمیر شروع کی گئی۔ ایک شاندار تقریب میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے دست مبارک سے اینٹ لگا کر اس کی بنیاد رکھی۔ہسپتال کی مین بلڈنگ کی کھدائی کا آغاز اللہ کی راہ میں بکروں کی قربانی اور دعاکے ساتھ کیا گیا اس موقع پر الحاج قیصر امین بٹ اوردیگر ساتھی موجود تھے۔الحمد للہ! ہسپتال کی مین بلڈنگ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ نو منزلوں پر مشتمل مین ٹاور اکتوبر 2022ء میں اپنی طبی خدمات کا آغاز کر دے گا(انشا اللہ)۔ کسی بھی ادارے کے لیے فنڈز ایک بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں اکٹھا کرنا ایک بڑا مشکل کام ہے۔میں نے محسن پاکستان کی رہنمائی میں اس مشکل ٹاسک کو احسن طریقے سے سرانجام دیا۔فنڈز کی زیادہ ضرورت ہمیں اس لئے پڑی ایک طرف مستحق لوگوں کا علاج جاری ہے اور دوسری طرف ہسپتال کی مین بلڈنگ کی تعمیر جاری ہے اوراس وقت ہم دونوں محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔مارچ 2020 ء میں عالمی وبا کی وجہ سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا لوگوں سے ملنا جلنا اور دوسرے شہروں میں آنا جانانہیں تھا اس لئے وہ لاہور تشریف نہ لاسکے حتی کہ اور وہ اپنے بہنوئی اور پیاری بہن کی وفات پر کراچی بھی نہ جاسکے تھے۔اور ڈونرز کا2021ء کا سالانہ ڈنربھی نہیں ہوسکا،جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب تشریف لا کر ہسپتال کے

ڈونرزسے ملا قات کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔ڈاکٹر عبد ا لقدیر خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے بعد بے شمار رفاعی کام کیے ہیں اور ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ان میں ایک بڑا منصوبہ ہے جو انہوں نے میرے اور میرے عزیز ساتھیوں کے ساتھ مل کر لاہور میں شروع کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک نیک اور معاف کر دینے والے انسان تھے جو بات ان کی طبیعت کو ناگوار گزرتی اس کا فوراً اظہار کرتے تھے۔انہوں نے ہمیشہ میری ہمت بڑھائی اور مجھے حوصلہ دیا۔میں نے بھی اپنے والد محترم کی طرح ان کی عزت کی اور ان سے بہت کچھ سیکھا اور ہسپتال کے کام کو اچھے مقام تک پہنچایا۔یہاں میں اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ خاص کر اپنی بیگم عائشہ نذیر،الحاج قیصر امین بٹ، میجر محمد طارق(ریٹائرڈ)، سہیل مغل فاروق بلوچ اورملک سعید احمد کا شکرگزار ہوں جنہوں نے دن رات محنت کر کے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔ اللہ تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی بیگم صاحبہ اور بیٹیوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستانی عوام نے فخر عالم اسلام، فخر ملت اور محسن پاکستان جیسے القابات سے نوازا، مجھے محسن پاکستان کا لقب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام کے ساتھ اچھا لگا۔ 2013ء سے لیکر اب تک جب بھی ہم نے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی مہم پرنٹ اور الیکٹرانکس میڈیا پر چلائی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام کے ساتھ ”محسن پاکستان“کا نام ہمیشہ لکھا۔ اب پاکستانی قوم کی زبان پر دوسرے القابا ت کی بجائے صرف”محسن پاکستان“کا لقب ہی ہے اور یقینا وہ محسن پاکستا ن ہی ہیں۔