رؤف کلاسرا نے اصل کہانی بیان کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ ماہ پہلے والے ترکی کے بجلی گھر کارکے جہاز سکینڈل کو اٹھا کر دیکھ لیں‘ وہ کلاسک کیس ہے کہ کیسے ہم سب نے مل کر اپنی عزت خاک میں ملائی اور جب موقع ملا کہ دنیا بھر میں

اپنی عزت بحال کریں تو ہم نے ترکوں کی عزت کو ترجیح دے کر خود کو بدنام کرانا مناسب سمجھا۔ دنیا کا ہر ملک اور ہر فراڈیا ہمیں چونا لگا گیا اور ہم نے کھل کر چونا لگوایا۔ بدلے میں ملک کی بدنامی ہوئی اور حکمرانوں اور بابوز نے مال بنا لیا۔کارکے جہاز سکینڈل کو دیکھ لیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کرائے کے بجلی گھروں کا عجیب و غریب منصوبہ شروع کیا اور دو سو ارب روپے رکھے گئے۔ ایک پارٹی کو سندھ میں ایک بجلی گھر کا ٹھیکہ ملا تو اس نے معاہدے کے تحت چودہ فیصد ایڈوانس لیا جو اربوں میں تھا۔ کچھ ماہ بعد وہ پلانٹ‘ مشنیری وہاں سے اکھاڑ کر ایک اور جگہ شفٹ کر دی اور اس کے اربوں پھر ایڈوانس لے لیے۔ اسی طرح کارکے سکینڈل میں ہوا۔ چھ سو ملین ڈالرز کے اس سب سے بڑے کنٹریکٹ میں سب نے حصہ لیا۔ ترک بھائیوں نے کہا: کون سے ہمارے جیبوں سے جا رہا ہے‘ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بڑوں سے ڈالرز ایڈوانس لے کر انہیں آف شور کمپنیوں کے ذریعے کھولے گئے بینک اکائونٹس میں ان کا حصہ ٹرانسفر کرتے رہے۔ وہ ڈیل جو چھ سو ملین ڈالرز پر طے ہوئی تھی کہ سوا دو سو میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی‘ چند میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کر سکی۔ رئیلٹی ٹیسٹ ہوا تو اس میں فیل۔ معاہدہ کینسل کرنے کے بجائے ہمارے پاکستانی بابوز نے اسے جعلی سرٹیفکیٹ لے دیاکہ لیں جی ٹیسٹ کامیاب ہوگیا اور اسے ایک سو ستر ملین ڈالرز سے زیادہ ادائیگیاں کر دی گئیں۔

ایک یونٹ چالیس روپے میں پڑا۔ سپریم کورٹ نے ایکشن لیاکہ بجلی کا ایک یونٹ پیدا نہیں کیا اور اس کمپنی کو 170 ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی ہو چکی تھی۔ کمپنی معاہدہ ختم کرنے اور پیسے لوٹانے پر تیار ہوگئی لیکن پھر بعض افسران نے اس کمپنی کی مدد کی اور مشورہ دیا کہ تم عالمی عدالت میں جاکر ہم پر مقدمہ کرو۔ نیب کے افسران نے اس کمپنی کو سرٹیفکیٹ میں لکھ کر دے دیا کہ اس کنٹریکٹ میں لوٹ مار نہیں ہوئی۔ اس کاغذ کو لے کر ترکوں نے ہم پر عالمی عدالت میں مقدمہ کیا اور ہمارے ہی بابوز کی مدد سے جیت بھی گئے۔ نواز شریف نے لاکھ برے کام کیے ہوں گے لیکن اس سکینڈل کی انکوائری کا حکم دے کر اچھا کام کیا۔ انکوائری افسران نے دنیا بھر سے ریکارڈ نکلوایا تو پتہ چلا کہ کیسے سب نے اس ڈیل میں حصہ بٹورا تھا۔ جب عالمی عدالت میں یہ ثبوت پیش کیے گئے تو ترکوں کی دوڑیں لگ گئیں کیونکہ ترکوں نے بیان حلفی لکھ کر دیا تھا معاہدہ چوری کرکے نہیں لیا تھا۔ اب ثبوت ہاتھ لگ گئے تھے کہ کیسے بدعنوانی کی گئی۔ اس کے بعد عالمی عدالت نہ صرف سوا ارب ڈالرز جرمانہ معاف کرتی بلکہ ترک کمپنی کو بلیک لسٹ بھی کرتی۔ اس سے بڑھ کر ہماری دنیا میں عزت بحال ہوتی کہ پاکستان اور پاکستانی قوم بزنس اور ٹھیکوں کے لیے بری قوم نہیں ہے۔ ہم نے وہ موقع گنوایا اور ترکوں سے آئوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کرکے وزیر اعظم عمران خان نے الٹا سارا کریڈٹ طیب اردوان کو دے دیا۔ اردوان صاحب ترکوں کے ہیرو بنے اور پاکستانیوں کے بھی۔ ہم وہی چور کے چور رہے۔ یہ وہی ترک دوست تھے جو ہمارے خلاف عالمی عدالت میں گئے، سوا ارب ڈالرز کا جرمانہ کرایا اور پھر دنیا کے مختلف شہروں میں پاکستان کے اثاثے تلاش کرنے لگ گئے تاکہ انہیں اٹیچ کرا کے قبضہ کرا لیں۔ یہ تو اللہ بھلا کرے ہمارے چند انکوائری افسران کا جنہوں نے ان ترکوں کی بدعنوانی پکڑی اور سوا ارب ڈالرز جرمانے سے ہم بچے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.