رؤف کلاسرا نے ایک لطیفے کی مدد سے عمران اینڈ کمپنی کو بڑا سبق دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستانیوں کو بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹینکوکریٹ بڑے قابل اور محنتی لوگ ہوتے ہیں ۔یہ قابل لوگ حکومت میں ہوں تو ملک بہت ترقی کرے گا۔ بات ٹھیک ہے لیکن یہ ٹاسک فورس‘ جس میں بڑے بڑے ٹیکنوکریٹس بیٹھے تھے‘

اس کی کارکردگی سے لگتا ہے کہ انہیں اس کام سے دلچسپی نہ تھی‘ انہیں اس کام میں کوئی ذاتی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا‘ انہیں کوئی تگڑی تنخواہ یا سہولتیں نہیں مل رہی تھیں‘ لہٰذا انہوں نے ان ڈھائی برسوں میں ٹکے کا کام نہیں کیا۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ پاکستان کی روایتی بیورو کریسی اس طرح کی کمیٹیوں کو زیادہ پسند نہیں کرتی کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ان سے بہتر اور قابل لوگ بھی موجود ہیں جو ان کی وزارت کو جدید خطوط پر چلا سکتے ہیں‘ لہٰذا بیوروکریسی ہمیشہ ایسے لوگوں کو discourageکرتی ہے۔ بابوز اکثر لکیر کے فقیر ٹائپ ہوتے ہیں اور ساری عمر ایک ہی لائن پر چلنا چاہتے ہیں۔ ماہوار تنخواہ انہیں اس قابل نہیں چھوڑتی کہ وہ کمفرٹ زون سے نکل کر کوئی نیا تجربہ یا کام کریں۔اگر ایسی صورت تھی تو سوال بنتا ہے کہ بڑے بڑے ناموں نے اس ٹاسک فورس کا حصہ بننے پر رضامندی کیوں ظاہر کی؟ اگر وہ ممبر بن گئے تھے تو انہوں نے کام کیوں نہیں کیا؟ ان سے جو توقعات باندھی گئی تھیں ان پر پورے کیوں نہیں اُترے؟ اگر لگ رہا تھا کہ یہ کام ان سے نہیں ہو پائے گا تو وہ چھوڑ جاتے تاکہ کوئی اور آتا جسے اس کام کا شوق ہوتا۔ اب ڈھائی سال بعد فرماتے ہیں کہ ہم سے یہ کام نہیں ہوسکا‘ آپ ہمیں لعن طعن کر لیں۔میرے دوست خالد مسعود ایک لطیفہ سناتے تھے کہ ایک زمیندار گھوڑی لے آیا اور اپنے سردار ملازم سے کہا کہ خیال رکھنا گھوڑی بڑی قیمتی ہے‘ چور اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں‘ چوری نہ ہو جائے۔سردار بولا: میرے ہوتے کس کی مجال کہ گھوڑی چوری کر جائے۔ زمیندار نے پھر دو تین دفعہ تنبیہ کی کہ گھوڑی چوری ہو جائے گی‘ خیال رکھنا۔ تو سردار بولا :آپ بے فکر ہو کر سو جائیں‘ گھوڑی چوری ہوگئی تے مینوں در فٹے منہ کہنا۔ اس پر زمیندار مطمئن ہوکر سو گیا۔رات کوگھر کے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی تو مالک آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا اور آگے سردار کھڑا تھا۔بولا: سائیں آپ ٹھیک کہتے تھے‘ گھوڑی چوری ہوگئی ہے تُسی مینوں درفٹے منہ کہہ لو۔یہی کچھ اس ٹاسک فورس نے کابینہ میں کیا ہے کہ ڈھائی سالوں میں ہم سے کچھ نہیں ہوسکا‘ ہن تسی سانوں درفٹے منہ کہہ لو۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *