رؤف کلاسرا نے نئی بحث چھیڑ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔لڑائیوں کے حوالے سے دو محاورے بڑے مشہور ہیں‘ ایک وہی کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔ دوسرا محاورہ ہے Live to fight another day۔نواب آف بہاولپور اور

کابل کے افغان حکمران نے ایک راستہ چنا جبکہ ملتان کے نواب مظفر خاں نے دوسرا راستہ۔ملا عمر کے پاس بھی وہ لمحہ تھا جس سے بہاولپور کا نواب اور کابل کا حکمران گزرے کہ لڑنا ہے یا صلح کا معاہدہ کرنا ہے۔ ملا عمر کو امریکن ایک ہی مطالبہ کررہے تھے کہ لادن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکہ میں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے لہٰذا اسے امریکہ کے حوالے کیا جائے۔ ملا عمر تیار تھے لیکن پھر معاملہ یہاں پر اٹک گیا کہ ملا عمر اُسے کسی تیسرے ملک مثلاً سعودی عرب یا مصر کے حوالے کرنے کو تیار تھے جہاں اس کا ٹرائل ہو اور امریکہ ثبوت پیش کرے لیکن انہی دنوں کچھ طاقتور لوگوں نے قندھار کا دورہ کیا اور ملا عمر کو کہا گیا کہ وہ ڈٹ جائیں‘ دنیا کیا کہے گی کہ افغانوں نے اپنا مہمان امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔ پختون ولی روایات کو یاد دلایا گیا۔ یوں تباہی بربادی افغانوں کا مقدر بنی۔اب مجھے بتائیں دنیا کی تاریخ میں کتنے ایسے ملک یا قومیں ہوں گی یا تہذیبیں جو ایک بندے کی خاطر اپنی ریاست اورعوام کو تباہ کرا دیں کہ لوگ طعنے دیں گے کہ ہم نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔اس کے مقابلے میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ وہ معاہدہ کیا جو نواب آف بہاولپور اور کابل کے افغان حکمران نے کیا تھا۔ پاکستان نے امریکہ کو Most wantedحوالے کیے جبکہ ملا عمر نے ایک بھی نہیں کیا۔ تالبان کی وہ قیادت ان بیس برسوں میں زندہ نہیں رہی

جو بیس سال پہلے لادن کو حوالے نہیں کررہی تھی۔ لادن نے بھی افغانوں کیلئے کوئی یونیورسٹی‘ کالج یا اس قوم کو جدید تقاضوں کے مطابق کھڑا کرنے کا پلان نہیں بنایا تھا‘ اس نے افغانستان میں وہی ٹریننگ کیمپ کھولے اور نوجوان نسل کو لڑائی جھگڑے اور لڑائی کی طرف مائل کیا۔ پہلے افغان روسیوں سے لڑتے ہوئے تباہ ہوئے‘ان کے جانے کے چھ سات برس بعد تک افغان آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتے رہے۔ انہیں نئی راہ دکھانے کے بجائے اسی جنون کی راہ دکھائی گئی جس کا انجام 11ستمبر2001ء کو امریکہ پر اٹیکس پر ہوا اور امریکہ نے جوابا ًافغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ لادن یا ان کے ساتھی چاہتے تو وہ افغانستان میں ایک نئی راہ کھول سکتے تھے۔ ان کے پاس وسائل تھے لیکن وہ وسائل افغان نوجوانوں کولڑاکا بنانے پر خرچ کیے گئے نہ کہ انہیں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سائنسدان ‘ بیوروکریٹ بنانے یا نئی دنیا کا فائدہ مند انسان بنانے پر خرچ ہوئے۔ یوں تباہی سے تباہی نکلی۔ ان بیس برسوں میں تالبان کی قیادت ماری گئی‘ افغان ایک دفعہ پھر در بدر ہوئے‘قریبی ملکوں کے مہاجر کیمپوں میں پناہ لی‘ دنیا جہاں کے طعنے سنے‘ باتیں برداشت کیں۔ایک فیصلہ یا معاہدہ تھا جو نواب آف بہاولپور اور کابل کے افغان حکمران نے رنجیت سنگھ سے کر کے اپنے لوگوں کو تباہی سے بچایا‘ ایک راستہ نواب مظفر اور ملا عمر نے چنا کہ لڑائیاں لڑیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نواب بہاولپور‘ کابل کے افغان حکمران یا نواب مظفر خاں اور ملا عمر میں سے کسے بزدل ‘ کسے بہادر یا سمجھدار سمجھتے ہیں ۔کیا پرامن معاہدہ کر کے طاقتور دشمن کی مسلط کی گئی لڑائیوں سے بچنا‘ ریاست کو تباہی اور اپنی رعایا کو دربدر ہونے سے بچانا بزدلی ہے یا طاقتور دشمن کے ساتھ ٹکڑ لے کر خود کو تباہ کرا لینے میں عزت ہے؟اس خطے کے چار حکمرانوں نے شہر کی فصیلوں سے دشمن کی فوجوں کو دیکھ کر مختلف فیصلے کیے۔ اب صدیوں بعد ہم ان کے فیصلوں کو بہادری سمجھیں یا بزدلی ؟

Comments are closed.