رؤف کلاسرا کا دنگ کر ڈالنے والا بیان

لاہور (ویب ڈیسک) میرا خیال تھا کہ سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر کی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کی پڑھی لکھی نسلیں ایک دوسرے کے ساتھ بہتر مکالمہ کریں گی اور بزرگوں کے برعکس ایک دوسرے کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر کے بہتر تعلقات کی بنیاد رکھیں گی اور اس بدنصیب خطے کو بدترین دشمنی سے

باہر نکالیں گی ۔نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں بری طرح غلط نکلا۔اب میرا خیال ہے کہ سوشل میڈیاسے پہلے پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات بہتر تھے۔ دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار رہتے تھے اور بہتر سلوک کرتے تھے ۔ سوشل میڈیانے جونہی یہ فاصلہ دور کیا اور اجنبیت دور ہوئی اس کے ساتھ اب جتنی مغلطات پاکستان اور ہندوستان کے نوجوان ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر دیتے ہیں‘ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان نسلوں سے ہمارے بزرگ بہتر تھے جو ایک دوسرے کے خلاف غصہ یا دشمنی رکھتے تھے‘ لیکن اس حد تک نہیں گئے تھے۔  اس کا کریڈٹ عمران خان صاحب کو دینا پڑے گا کہ انہوں نے سب سے پہلے پاکستان میں سوشل میڈیا کا سیاسی استعمال شروع کیا۔ فیس بک‘ ٹوئٹر اور انسٹاگرام کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے نوجوان طبقے تک رسائی حاصل کی ۔ عمران خان صاحب نے جہاں ٹی وی چینلز اور اخبارات پر فوکس کیا وہیں انہوں نے ان چینلز کے شوز کے ویڈیو کلپس کو سوشل میڈیا پر پھیلانے کیلئے ملازم بھرتی کر لیے۔یوں ایک طرف جہاں خان صاحب کا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک گھر بیٹھے پہنچ رہا تھا وہیں انہوں نے سوشل میڈیا کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرنا شروع کیا۔ سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین پر ذاتی اٹیک ہونے لگے اور قابلِ اعتراض مواد سامنے آنے لگا۔ ٹوئٹس کی زبان میں تلخی اور مغلطات کا عنصر اُبھرنے لگا اور ناقابلِ اشاعت فوٹو شاپس کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا۔

خان صاحب کی تقریروں نے زرداری اور نواز شریف کے خلاف نوجوانوں کے دلوں میں غصہ بھرنا شروع کر دیا اور انہیں سمجھ نہ آتی کہ وہ اپنے غصے کا اظہار کس طرح کریں۔ سوشل میڈیا نے انہیں وہ پلیٹ فارم فراہم کر دیا جس سے وہ ان سیاستدانوں سے زبانی بدلہ لے سکتے تھے جو اِن کے خیال میں ملک کو لوٹ رہے تھے۔ ایک دور وہ بھی آیا کہ سوشل میڈیا پر صرف خان صاحب کی پارٹی کا راج تھا۔ انہوں نے صحافیوں اور اینکرز کے خلاف بھی مہمیں شروع کیں اور ان کے خلاف بھی ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔ جس اینکر یا صحافی نے کچھ تنقید کی‘ فوراً اسے” لفافہ‘‘ یا” بکائو‘‘ قرار دے کر سوشل میڈیا پر کردار کشی شروع کر دی گئی۔ اس کام میں پارٹی کے سینئر لوگ بھی ملوث تھے۔ پارٹی لیڈران‘ جو ان سوشل میڈیا ٹیموں کو ہینڈل کررہے تھے‘ خود تو اپنے ٹوئٹس میں بڑے معزز نظر آتے اور ایسے ایکٹ کرتے کہ وہ خاندانی لوگ ہیں‘ مغلطات پر یقین نہیں رکھتے‘ مگر پھر راز کھلا کہ دراصل یہی لوگ ان سوشل میڈیا ٹیموں کو روزانہ ٹارگٹ دے رہے تھے کہ کس سیاسی مخالف یا صحافی کو مغلطات سے نوازنا ہے۔ یہ رجحان اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب اینکر محمد مالک نے وزیر اعظم صاحب سے ایک سوال پوچھ لیا جو نہ انہیں پسند آیا اور نہ ان کی پارٹی اور حامیوں کو۔ اس کے بعد مالک صاحب کی گھریلو تصویریں ڈھونڈ کر ایک مہم چلائی گئی۔ کسی نے نہ مذمت کی نہ اسے روکا۔ وجہ وہی تھی کہ یہ سب اپنا کام تھا ۔ 

Sharing is caring!

Comments are closed.