رؤف کلاسرا کا ناقابل یقین سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ طے ہے کہ مریم نواز کو لندن جانے دیا جاتا تو آج شاید پی ڈی ایم کا وجود نہ تھا۔ پی ڈی ایم اس انکار کے بعد ہی تخلیق ہوئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ

پی ڈی ایم کے پلیٹ فورم کا سب سے بڑا فائدہ مریم نواز کو ہوا ہے کہ وہ اچانک ایک لیڈر کے طور پر ابھری ہیں۔ ان کی تقریروں نے سب کو ان کو سنجیدہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ ان کے خاندان پر لگے بدعنوانی کے الزامات اتنے سنگین ہیں کہ ان کے دھبے آسانی سے نہیں دھلیں گے لیکن بدعنوانی اور اخلاقیات یہاں کے ووٹرز کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں بدعنوان کو ہیرو اور لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال مریم نے اپنی جگہ مستقل بنا لی ہے اور اب وہ (ن) لیگ کے حامیوں کیلئے لیڈر ہیں چاہے یہ بات ہمیں پسندہے یا نہیں جبکہ نواز شریف کے حامی کہتے ہیں کہ نواز شریف کا پھڈا اس لیے سب سے ہوتا ہے کہ وہ ملک کو قانون اور قاعدے پر چلاتے ہیں۔ وہ سول معاملات میں مداخلت کو پسند نہیں کرتے‘ لہٰذا ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں لیکن نواز شریف اگرواقعی ملک میں انقلاب چاہتے تھے تو انہیں اپنا گھر صاف رکھنا چاہئے تھا۔ مال پانی اور پانچ براعظموں میں جائیدادوں کے ساتھ انقلاب نہیں لا سکتے تھے۔ اب بھی ان کے غصے اور ناراضی کی وجہ وہی ہے کہ انہیں لگتا ہے ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے‘ انہیں ایک دفعہ پھر بیوقوف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مدتِ ملازمت میں توسیع کیلئے ووٹ دیا اور بدلے میں انہیں کچھ نہ ملا۔ دوسری پارٹی کہتی ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو لندن بھجوا دیا‘ عمران خان کو ناراض کیا پھر بھی ڈیل پوری کی‘ لیکن مریم باہر نہ جاسکیں۔

بہرحال اب وہی ہوا ہے کہ سب کو اپنا اپنا حصہ چاہئے تھا اس سیاسی الائنس میں سے۔ نون لیگ سمجھتی ہے کہ انہوں نے گیلانی کو سینیٹر بنوانے اور چیئرمین سینیٹ کیلئے ووٹ ڈالا‘ اب سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر اعظم نذیر تارڑ کو بنائیں۔ پی پی پی کہتی ہے پہلے ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نون لیگ کا ہے اور اب سینیٹ میں اپوزیشن کا لیڈر یوسف گیلانی کو ہوناچاہئے۔ نوازشریف استعفا چاہتے ہیں‘ زرداری کہتے ہیں یہی کام بینظیر بھٹو نے 1985ء میں کیا تھا جب الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور آج تک پارٹی نہیں سنبھل سکی۔ زرداری نے ہی نوازشریف کو کہا تھا کہ2008ء کے الیکشن کا بائیکاٹ نہ کریں اور یوں خود نواز شریف کی اقتدار میں واپسی کی راہ کھولی جب اٹھارہویں ترمیم میں تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی شرط ہٹا دی گئی۔ اب بھی نواز شریف سینیٹ الیکشن کا بائیکاٹ چاہتے تھے زرداری نے منع کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواز لیگ نے پنجاب سے پانچ سینیٹرز بنوا لیے اور گیلانی کے الیکشن کی شکل میں حکومت کو جھٹکا بھی دیا۔مسئلہ نواز شریف کا یہ ہے کہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پارلیمنٹ کا رخ نہیں کرتے اور جب اقتدار سے باہر ہوں تو وہ چاہتے ہیں کہ جس پارلیمنٹ میں وہ نہیں وہ پارلیمنٹ ہی نہ رہے۔ سارا مسئلہ ذاتی اور سیاسی مفادات کا ہے۔ نواز شریف کامفاد اس میں ہے کہ پارلیمنٹ نہ رہے‘ زرداری صاحب کا مفاد ہے کہ پارلیمنٹ رہے جس سے انکے مفاد پورے ہوتے ہیں۔ یوں وہی کچھ ہونا تھا جو ہوا ہے۔ بہرحال فکر نہ کریں یہ دونوں بہت جلداپنے کسی اور مفاد پر پھر ساتھ ہوں گے۔ یہی سیاست ہے۔ یہی دھندا ہے۔

Comments are closed.