رؤف کلاسرا کی خاص خبر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کیا اب ہر مظلوم خاتون یا خاندان کو ظالم سے نجات یا انصاف اسی وقت ملے گا جب اس کی فون کال وزیراعظم سے ملے گی؟ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اگر سب کام وزیر اعظم کے ساتھ

فون کال پر ہونے ہیں تو پھر اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بیٹھے افسران اور ان کے اللے تللے برداشت کرنے کی اس قوم کو کیا ضرورت ہے؟ یہ واضح ہے کہ پچھلے پندرہ بیس سالوں سے بیوروکریسی اپنا بدترین زوال دیکھ رہی ہے۔ بیوروکریسی میں سے وہ کلاس ختم ہو چکی ہے جس کی اپنی شان تھی‘ کچھ عزت تھی‘ یا جن کو مل کر لگتا تھاکہ وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں ۔ اب تو ذہن کی وسعت بڑھانے کے بجائے جیبوں کا سائز بڑا کیا جارہا ہے۔ پنجاب میں بیوروکریسی کا بد ترین دور چل رہا ہے۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ بڑے بڑے عہدے اب بکنا شروع ہوگئے ہیں۔ نقدی پر کام چل رہا ہے۔ عہدوں کیلئے بولیاں لگ رہی ہیں۔ بیوروکریٹس خود بتاتے ہیں کہ فلاں ضلع میں ڈپٹی کمشنر‘ اسسٹنٹ کمشنر یا تحصیل دار لگنے کا یہ ریٹ ہے۔ جو بولی بھردے وہ پوسٹنگ آرڈر لے جائے۔ خود بھی کمائے اور جنہوں نے پوسٹنگ آرڈر کرائے ہیں انکی جیبیں بھی گرم رکھے۔ ایک صاحب مبینہ طور پرانسداد بدعنوانی پنجاب کے ایک سنگین مقدمے میں نامزد تھے۔ قید میں بھی رہے مگر اب رہا ہوکر پنجاب کے اہم ترین ضلع کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ وہی ضلع جہاں رنگ روڈ سکینڈل بزدار حکومت کے ماتھے کا جھومر بن کر پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو ان باتوں کا علم نہیں۔ عوام یہ غلط فہمی بھی دور کر لیں۔ خان صاحب کو سب پتہ ہے‘ ان کے قریبی لوگ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ بزدار حکومت میں جاری اس لوٹ مار اور پیسے لے کر پوسٹنگ کلچر کا انہیں سب علم ہے۔

انہیں کئی ثبوت بھی پیش کئے گئے ہیں۔ اگر خان صاحب پنجاب میں گڈ گورننس چاہتے تو وہ چیف سیکرٹری اعظم سلیمان جیسے افسر کو تین ماہ بعد نہ بدل دیتے‘ عمر شیخ جیسے افسران کو برداشت کرتے جنہوں نے لاہور میں پولیس اورقبضہ گروپس کو نتھ ڈال دی تھی۔ ان کو ہٹانے کے پیچھے بھی وہی لوگ تھے جن کا ڈھائی ارب روپے کی زمین پر قبضہ تھا۔ شیخ صاحب نے ان بڑے لوگوں کے فرنٹ مین کے خلاف پرچہ دے دیا تو انہوں نے کسی کو چھ کروڑ روپے دے کر انہیں فارغ ہی کرا دیا۔ آج کل انہی شیخ صاحب کو جبری ریٹائر کرنے کیلئے اسلام آباد میں پولیس اور ڈی ایم جی افسران اکٹھے ہوگئے ہیں کہ یہ کون سرپھرا عوام کو انصاف دینے کے کام پر لگ گیا ہے۔ اندازہ کریں جس افسر کی تعریفیں کوئٹہ سے فون کال پر بے بس اور لاچار خاتون وزیراعظم کے سامنے کررہی تھی کہ اس نے پندرہ دنوں میں اس کا گھر پولیس افسر کے بھائی کے قبضے سے چھڑایا اُسے ہی جبری ریٹائر کیا جارہا ہے۔ ایسے سرپھرے افسران کسی کو سوٹ نہیں کرتے‘ جو اپنے ہی بھائی بندوں کے خلاف عوام کا ساتھ دیں۔بہرحال یہ طے ہے کہ حکمرانوں‘ سیاستدانوں‘ پولیس اور بیوروکریسی کا unholy alliance پاکستانی عوام کو اس حالت میں لے آیا ہے کہ جب تک وہ بادشاہ سلامت کے محل کے باہر لٹکی زنجیر سے لٹک کر دہائیاں نہیں دیں گے‘ بادشاہ سلامت کی نیند خراب نہ کریں گے‘ انہیں انصاف نہیں ملے گا۔ امید ہے ہمارے بادشاہ محل کے باہر لٹکتی زنجیروں کی تعداد بڑھا دیں گے تاکہ رعایا کے زیادہ لوگ ان زنجیروں کے ساتھ لٹک سکیں‘ عدلِ جہانگیری کی صدیوں پرانی رسم چلتی رہے اور رعایا نعرے لگاتی رہے کہ شہنشاہ نے کیا انصاف کیا ہے‘ ظلِ سبحانی کا اقبال بلند ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *