رؤف کلاسرا کی زبانی حیران کن واقعہ ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) رؤف کلاسرا نے اپنے دوست اور اچھے وقتوں کے معروف سیاستدان ڈاکٹر شیر افگن کی موت کی کچھ یوں تصویر کشی کی ’’داکٹر شیر افگن کی قبر پر مٹی پڑرہی تھی اور میں یادوں کے میلے میں بہتا جارہا تھا، عظیم روسی ٹالسٹائی یادآرہا تھا، جس نے کہا تھا، انسان کو موت کے

بعد کتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے؟نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر شیر افگن نے پی پی اسی وجہ سے چھوڑ دی تھی کہ جب اس کا جوان بیٹا فوت ہوا تو بی بی نے تعزیت کا فون نہ کیا، لیکن میانوالی کا یہ نیازی شیخ رشید کی موجودگی میں اسی بی بی کیلئے پرویز مشرف سے لڑپڑا کیونکہ جنرل صاحب نے باتوں باتوں میں بی بی کو برا بھلا کہہ دیا، ڈاکٹر شیر افگن نے کہا’’جنرل صاحب اب اگر آپ نے کوئی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،بینظیر بھٹو میری پارٹی کی سربراہ اور میری وزیراعظم تھیں ‘‘۔ مشرف سے لڑائیاں کرنے والے ڈاکٹر صاحب پر جب وکیلوں نے دھاوا بولا اور وکیلوں نے کہا ’’مشرف مُردہ باد کا نعرہ ماریں، ہم آپ کو چھوڑدیتے ہیں‘‘، جان خطرے میں تھی مگر ڈاکٹر صاحب نے صاف انکار کردیا، رؤف کلاسرا کی کتاب پڑھتے ہوئے آپ جہاں بے اختیار ہنس پڑتے ہیں وہاں اچانک آپ کی آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے ہیں، رؤف کلاسرا کی کتاب کے ٹائٹل صفحے پر صحیح لکھا ہوا ہے کہ ’’وہ تحریریں جو کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں‘‘ واقعی یہ تحریریں کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.