رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) اس سے بہتر عوام کس کو ملیں گے جو اس ملک کے ایک حکمران کے بارے میں کہیں: اگر وہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے‘ اور دوسرے کے بارے میں یہ فرمائیں کہ اگر وہ اور اس کی ٹیم نالائق ہے تو کیا ہوا کم از کم اپنی نالائقی کا اعتراف تو کرتا ہے۔

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس ملک کا حکمران یہ کہے کہ اسے گورننس اور حکومتی معاملات کی سمجھ ہی نہیں تھی اور پوری قوم داد کے ڈونگرے برسانا شروع کر دے کہ کوئی بات نہیں کم از کم اس نے اعتراف تو کر لیا‘ تو کیا کہا جا سکتا ہے؟یہ قوم اپنے لیڈروں سے اتنی متاثر ہے کہ ناکامی اور نااہلی کے اعتراف کو بھی اپنی سب سے بڑی achievement سمجھ لیتی ہے۔ انسان کے اندر یہ بڑی خوبی ہے کہ برے سے برے حالات میں بھی یہ خود کو سمجھا لیتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا برا کیوں ہوا۔ اگر انسان یہ کام نہ کر سکے تو شاید زندہ نہ رہے۔سنتے تھے یہ ملک تجربہ گاہ بن گیا ہے۔ ہر کسی کے پاس اپنا چورن ہے جو وہ بیچتا ہے‘ اور اللہ کی شان دیکھیں اسے اپنے چورن کے گاہک بھی مل جاتے ہیں۔ یہاں حکمرانوں نے اپنے اپنے ماڈل متعارف کرائے۔ جنرل ضیا نے اسلام کا جھنڈا اٹھا لیا۔ بینظیر بھٹو نیا سوشل کنٹریکٹ چاہتی تھیں۔ شریفوں نے ایک ہی ماڈل دیا کہ ہم کتنا کما سکتے ہیں اور ہر دیگ میں ہمارا کتنا حصہ ہے۔ زرداری نے بینظیر کو سمجھایا‘ شریفوں کی سیاست کا مقابلہ کرنا ہے تو ان کی طرح اور ان کے جتنا مال بنانا ہوگا۔ جنرل مشرف کا ماڈل یہ تھا کہ پہلے سب چور سیاستدانوں کو نیب کے ذریعے گرفتار کرا لو اور پھر انہیں اپنے ساتھ ملا کر وزیر بنا دو۔ شہباز شریف نے اپنا ماڈل دیا اور پاکستانیوں کو ترکی کے لیڈروں کی مثالیں دینا شروع کر دیں کہ فلاں ترک لیڈر کی پاکستان کو ضرورت ہے‘

ہم پاکستانی شہروں کو پیرس بنائیں گے۔ ان دنوں ترکی کا عبداللہ گل شہباز شریف کا ہیرو تھا۔ اب عمران خان صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کون سی رسی پکڑیں جو انہیں کنارے تک پہنچا دے۔ انہیں لگا یہ قوم احساس کمتری کی ماری ہے۔ ہزاروں سال اس پر افغانستان، سنٹرل ایشیا، ایران اور سات سمندر پار سے آئے گوروں نے حکمرانی کی تھی۔ یہ کسی بھی بندے کو گھوڑے ہاتھی پر سوار دیکھ کر مرعوب ہو جاتی ہے‘ لہٰذا اس کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھائیں اور انہیں انہی معاشروں کے بار بار حوالے دیں جو ان کے حکمران رہے ہیں۔ شہباز شریف نے اگر عبداللہ گل کو پاکستانیوں کیلئے نجات دہندہ قرار دے کر خود کو ان کا پاکستان میں متبادل قرار دیا تھا‘ تو عمران خان نے اسی ترکی سے طیب اردوان کو ڈھونڈ لیا۔ انہوں نے ملائیشیا کے مہاتیر محمد کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا اور انہیں پاکستان بلوا کر لیکچر دلوائے۔ اسی پر بس نہ کی گئی بلکہ بھارت کے نتیش کمار کو بھی پاکستانیوں کیلئے نیا گورننس ماڈل بنا کر پیش کیا گیا۔ شہباز شریف یا نواز شریف پاکستان کے شہروں کو پیرس بنانا چاہتے تھے تو خان صاحب ان سے ایک قدم آگے گئے اور مغربی معاشروں اور ان کے حکمرانوں کی وہ وہ خوبیاں بتانا شروع کیں کہ پاکستانی دنگ رہ گئے کہ واقعی دنیا میں ایسے معاشرے اور حکمران بھی پائے جاتے ہیں۔ اب اگر پاکستانیوں کو ایسے معاشرے اور قابل حکمران چاہئے تھے تو پھر لازم ٹھہرا کہ عمران خان کو لایا جائے۔

اب ڈھائی برس بعد پتہ چلا کہ وہ تو تیار ہی نہ تھے‘ حالانکہ ہر جلسے میں ایک ہی نعرہ گونجتا تھا: میاں صاحب جان دیو، ساڈی واری آن دیو۔ کیا خان صاحب کا یہ اعتراف کافی ہے کہ انہیں گورننس کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا اور انہیں بیوروکریسی جُل دے گئی؟ ان کی ناتجربہ کاری کی قیمت قوم نے ادا کی۔ کیا وزارت زراعت کا ایک سیکرٹری اتنا سمجھدار نکلا کہ اس نے پہلے شوگر ایڈوائزی بورڈ کے سربراہ رزاق دائود، کمیٹی ممبران، پھر ای سی سی کے سربراہ اسد عمر اور کمیٹی کے رکن بیس وزرا، درجن بھر سیکرٹریز کو چونا لگایا اور پھر وہاں سے یہ فیصلہ کابینہ میں آیا جہاں پچاس وزیروں اور ایک وزیراعظم کو پھر چونا لگا کر ان سے شوگر ایکسپورٹ کا فیصلہ کرایا گیا‘ اور پھر پنجاب کے تیس چالیس وزیروں پر مشتمل کابینہ نے فیصلہ کیا کہ تین ارب روپے دے کر شوگر باہر بھیجنی ہے؟ یہ سب کام ایک سیکرٹری کرتا رہا اور اس نے کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا؟ وزیرلاچار اور بھولے نکلے؟ یہی گندم اور دوائیوں کے ساتھ ہوا۔ یہی کچھ آئل کمپنیوں نے کیا۔ اگر خان صاحب ذرا غور سے اس ایشو پر غور کریں گے تو انہیں پتہ چلے گا بیوروکریسی سے زیادہ ان کے گرد بیٹھے قریبی دوستوں نے عوام اور حکومت کو چونا لگایا۔ اگر آپ ایف آئی اے کمیشن کی انکوائری رپورٹ پڑھیں تو اس میں جن لوگوں پر فیصلوں کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے یا جن کی وجہ سے قوم

کو پانچ سو ارب روپے کا چونا لگایا گیا‘ اس میں رزاق دائود اور اسد عمر کے نام نمایاں ہیں۔ تیسرا بیوروکریٹ‘ جو انڈسٹریز کا سیکرٹری تھا‘ اس وقت وزیر اعظم کا مشیر ہے۔ اسی طرح اگر آپ آئل سکینڈل کے مسابقتی کمیشن کی رپورٹ پڑھ لیں تو اندازہ ہوگا جب پوری دنیا کووڈ وائرس کی وجہ سے سستا تیل خرید رہی تھی تو ان کے مشیر برائے انرجی‘ جو ایکسپرٹ کہلواتے ہیں‘ نے لیٹر جاری کرا دیاکہ باہر سے تیل امپورٹ نہیں ہوگا۔ اس طرح آئل کمپنیوں کو کھل کر مہنگا تیل بیچنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اب بھی اسی ایکسپرٹ نے ایل این جی کا آرڈر اس وقت نہ دیا‘ جب یہ ایندھن دو سے چار ڈالر میں مل رہا تھا۔ اس وقت آرڈر دیا جب قیمت ڈبل ہو چکی تھی۔ یوں ایل این جی اب مہنگی خریدی گئی۔ اس طرح بجلی گھروں کی انکوائری رپورٹ میں جن بجلی گھروں کے نام آ رہے تھے اور جسے چھپا دیا گیا‘ اس میں بھی وزیر اعظم کے قریبی لوگوں کے نام تھے۔ ان تمام بحرانوں کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ سب فیصلے وہ لوگ کر رہے تھے جو سیاسی وزیر نہیں بلکہ ٹیکنوکریٹ یا اپنی اپنی فیلڈ کے ماہرین تھے۔ انہی کی وجہ سے چینی‘ تیل‘ گندم‘ گیس کے بحران پیدا ہوئے اور پاکستان کو ڈھائی سے تین ارب ڈالرز کی گندم چینی اور کاٹن باہر سے منگوانا پڑی جو انہی صاحبان نے مل کر پہلے خود باہر بھیجی تھی۔ یہی رزاق دائود صاحب تین ماہ تک شوگر ایڈوائزی بورڈ سے لے کر ای سی سی اور کابینہ تک لڑتے رہے

اور اس وقت تک دم نہیں لیا جب تک گیارہ لاکھ ٹن چینی تین ارب روپے دے کر باہر نہیں بھجوا دی۔ فیصلہ اسد عمر نے کیا تھا۔ اب وہ کہتے ہیں: اوہ غلطی ہو گئی‘ ہمیں پتہ نہ تھا۔ گندم کا بھی یہی کیا گیا۔ پنجاب سے گندم خیبر پختونخوا کے سوداگروں کے ذریعے افغانستان بھجوا دی گئی اور اب چوبیس لاکھ ٹن روس سے منگوائی جا رہی ہے۔ میں حیران ہوں‘ وفاقی اور پنجاب حکومت میں بیٹھے ایک سو وزیر اتنے نااہل ہیں کہ ایک آدھ بیوروکریٹ انہیں چینی‘ گندم آئل اور گیس پر بیوقوف بنا دیتا ہے اور یہ بن جاتے ہیں؟ تو پھر یہ مشیر کس مرض کی دوا تھے؟ وزیر اعظم صاحب جو بات نہیں سمجھتے یا سمجھ کر اگنور کرتے ہیں یہ ہے کہ جن بڑے قابل لوگوں کو وہ بڑے دعوے کرکے کابینہ میں لائے تھے وہ سب ذاتی کاروبار کررہے تھے اور کررہے ہیں۔ ان کے خاندانون کی ذاتی فیکٹریاں ہیں۔ یہ اپنے فائدے نقصان دیکھ کر وزیر اعظم سے فیصلے کراتے آئے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کسی دن وقت نکال کر وہ سمریاں پڑھ لیں جن کے ذریعے عوام کے اربوں لوٹے گئے تو انہیں پتہ چلے گا ہر سمری پر انہی کے قابل وزیروں اور ٹیکنوکریٹس کی منظوریاں شامل ہیں۔ ہوسکتا ہے عوام کو اربوں کا نقصان ہوا ہو لیکن ذاتی کاروبار والوں کو اربوں کا فائدہ ہوا۔ ہمارے وزیر اعظم اپوزیشن میں تھے تو اس وقت پارلیمنٹ اچھی نہ ملی جہاں سے وہ گورننس سیکھ پاتے اب حکمران بنے ہیں تو اچھی بیوروکریسی اور عوام نہ ملے جو ان کے وژن کو سمجھ پاتے۔ جب میں بہو تھی تو ساس اچھی نہ ملی، جب ساس بنی تو بہو اچھی نہ ملی۔

Comments are closed.