رؤف کلاسرا کے دھماکہ خیز انکشافات ، پی ٹی آئی دنگ رہ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان‘ جو اپنی مغرب میں ذاتی زندگی کے سکینڈلز سامنے آنے پر سیاسی کیریئر کیلئے پریشان تھے ‘اچانک سب مذہبی گروپس کے لیے نہ صرف قابل قبول ہوگئے بلکہ اسی مغرب کے خلاف دھواں دھار تقریروں اور اس کی روایات کی مذمت کر کے عوام میں سیاسی طور پر

مقبول ہونے لگے۔ خان صاحب کو علم تھا کہ زیادہ تر عوام احساس ِکمتری کا شکار ہیں‘ اگر وہ انہیں بار بار لندن اور مغرب کی کہانیاں سنائیں گے کہ وہ انہیں زیادہ جانتے ہیں کیونکہ وہ مغرب میں رہتے رہے ہیں تو لوگ ان سے زیادہ مرعوب ہوں گے۔ مغرب میں کی گئی شادی بھی اس سلسلے میں ان کے بہت کام آئی اور ان کے سکینڈلز ان کی راہ میں رکاوٹ کے بجائے ان کی مقبولیت کی وجہ بنے۔دوسری طرف پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں کی لاپروائی اور مسلسل چوری نے لوگوں کو مسلسل بے تاب کیا۔ آصف زرداری ہوں یا نواز شریف خاندان‘ ان کی دولت اور عیاشیوں نے لوگوں کو ان سے بدظن کیا۔ جمہوریت کے نام پر بدترین خاندانی آمریت سوار کر دی گئی۔ نواز شریف خود کو امیرالمومنین سمجھنے لگے جن سے کوئی سوال نہیں ہوسکتا تھا۔ مخالفوں کا جینا حرام کر دیا گیا۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی پارٹیاں بدعنوان لوگوں سے بھر گئیں‘ جس کے جو ہاتھ لگا وہ لوٹ کر لے گیا۔ مالدار لوگوں نے ہر جماعت کے سربراہ پر پیسہ لگانا اور اس کے بدلے کئی گنا کمانا شروع کر دیا۔ سیاست ایک الزام بنا کر رکھ دی گئی۔ اُس وقت بینظیر بھٹو ہوں یا نواز شریف‘ انہیں احساس نہ ہوا کہ وہ دراصل عمران خان کا کام آسان کررہے ہیں جو عوام میں مقبول ہورہے تھے کہ وہ ایماندار ہیں اور ان کی طرح ملک و قوم کو نہیں لوٹیں گے۔ خان صاحب نے بھی شارٹ کٹ کی کوشش کی‘

ریفرنڈم میں پرویز مشرف کا ساتھ دیا لیکن مشرف عمران خان کو دو تین سیٹوں سے زیادہ دینے کے موڈ میں نہیں تھے جبکہ عمران خان خود کو وزیراعظم سے کم عہدے پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے‘ لہٰذا مشرف سے دور ہوگئے البتہ 2007-08ء میں اُ نہی نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے ساتھ ایک اتحاد میں شامل ہوگئے جن کے خلاف پارٹی کی بنیاد رکھی تھی‘ لیکن وہاں سے عمران خان کو احساس ہوا کہ انہیں دو تین کام کرنا ہوں گے‘ایک تو بغیر اسٹیبلشمنٹ کی ایکٹو سپورٹ کے وہ اقتدار نہیں لے پائیں گے‘ دوسرے انہیں انہی بدعنوان لوگوں اور مالدار پارٹیوں کا ساتھ درکار ہوگا جن کے خلاف انہوں نے پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ یوں جہاں مقتدرہ سے خفیہ ملاقاتیں شروع ہوئیںوہیں ڈونرز اور بدعنوان سیاستدانوں کو بھی قریب کیا گیا۔ اس وقت میڈیا کا رول اہم تھا لہٰذا ملک بھر کے ہر بڑے صحافی‘ کالم نگار اور اینکر کو یہ کہانی بیچی گئی کہ اس سے زیادہ ان کے قریب کوئی نہیں ‘ یوں سب نے انہیں دنیا بھر کی دانش اور راج نیتی کے گر سکھانے کا بیڑا اٹھا لیا۔ خان صاحب نے ان اینکرز اور کالم نگاروں کے ذریعے عوام کو یہ کہانی بیچی کہ جب تک وہ بدعنوان سیاسی ایلیٹ کو اپنے ساتھ نہیں ملائیں گے بات نہیں بنے گی۔ اسی میڈیا کو چارم کر کے اس کام پر لگا دیا گیا کہ وہ عوام کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ جب تک بدعنوان لوگ تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوں گے عمران خان اقتدار میں نہیں آ سکیں گے۔

یہ کرشمہ بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا کہ جو صحافی‘ اینکرز اور کالم نگار عمران خان کو بدعنوان اور بدعنوانی کے خلاف آخری ہتھیار کہتے تھے وہی عوام کو سمجھاتے پائے گئے کہ بغیر بدعنوانی اور بدعنوان لوگوں کے عمران خان انقلاب نہیں لا پائیں گے۔ اگر عامر متین اور میرے جیسوں نے اس وقت نقار خانے میں طوطی بننے کی کوشش کی کہ چور لوگوں کو ساتھ ملا کر خان صاحب وزیراعظم تو بن جائیں گے لیکن تبدیلی نہیں لا سکیں گے تو ہمارا منہ یہ کہہ کر بند کرا دیا گیا کہ جب عمران خان ٹاپ پر ہوں گے تو کس کی مجال کہ چوں بھی کرسکے۔ اس وقت نعرہ دیا گیا کہ الیکٹ ایبلز کے بغیر اقتدار نہیں ملتا۔ دنیا بھر سے چور لیکن الیکٹ ایبلز چن چن کر پارٹی میں شامل کرائے گئے۔ نوجوانوں کو یہ چورن بیچی گئی کہ بس اب انقلاب آیا۔ اور پھر انقلاب آیا تو پتا چلا کہ وہی چودھری انقلاب کی قیادت کررہے تھے جن کے بینک لوٹنے کی دستاویزات خان صاحب پارلیمنٹ میں خود تقسیم کرتے تھے۔ حالت یہ ہے کہ خان صاحب کے سیاست میں پچیس سال بعد بھی شوگر گروہ لوگوں کے اربوں روپے لوٹ چکاہے، ادویات سکینڈل میں چالیس ارب روپے لوٹے گئے، آئی پی پیز کی دو ہزار ارب کی انکوائری رپورٹ دبا دی گئی، آئل سکینڈل میں پچیس ارب روپے کمپنیاں لوٹ کر نکل گئیں، سیمنٹ، گندم سکینڈل تو اب لوگوں کو بھو ل چکے ہیں۔ حالت یہ ہوچکی کہ خان صا حب کو جہانگیر ترین گروپ کی ایک وارننگ نے ایکسپوز کر دیا ہے۔ سب یار دوست اور ڈونرز اعلیٰ عہدے سنبھال کر بیٹھے ہیں۔ اس میڈیا پر نئی پابندیاں لگائی جارہی ہیں جس نے انہیں نواز شریف ‘ بینظیر بھٹو اور زرداری کے مقابل ایک مسیحا بنا کر بائیس برس تک پیش کیا تھا۔کابینہ دیکھیں تو آدھے سے زیادہ وزیر نواز شریف اور زرداری کے وزیر تھے۔ چینی جو ایک سال پہلے تک باون روپے تھی وہ آج نوے روپے سے اوپر ہے۔ اور عالم یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے انگوٹھا رکھ کر عمران خان سے این آر او لے لیا کہ اب اپنی پارٹی کے سینیٹرعلی ظفر ترین کے معاملے میں ثالثی کریں گے۔ وہی ترین جن پر اربوں روپوں کی منی لانڈرنگ کی ایف آئی آرز کٹ چکی ہیں۔ اب پچیس سال بعد عمران خان کہتے ہیں کہ چور لوگوں کو ساتھ ملا کر،اپنی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔مجھے ڈاکٹر فائوسٹس یاد آگیا جس نے دنیاوی فوائد کیلئے اپنی روح کا سودا کرنے کیلئے بولی لگوائی اور اچھے فرشتے کی بولی مسترد کر کے شیطان Lucifer کے چکر میں آگیا۔خان صاحب کی طرح وقتی طور پر تو ڈاکٹر فائوسٹس بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اپنے انجام کے وقت اس نے ڈیل کی جو قیمت ادا کی تھی اس کا سوچ کر ہی دل لرز جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *