رؤف کلاسرا کے ناقابل یقین انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) جب اپوزیشن کے دنوں میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیمیں اور حامی سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے تھے تو کسی نے مریم نواز کے کان میں سرگوشی کی کہ اگر آپ نے اس فیلڈ میں قدم نہ رکھا تو آپ کو یہ جماعت کھا جائے گی ‘ یوں مریم نواز نے

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم ہاؤس میں میڈیا سیل کی بنیاد رکھی جس کا مبینہ طور پر سرکاری خزانے سے بجٹ منظور ہوا اورلوگوں کو بھرتی کیا گیا تاکہ وہ بھی جوابی اٹیک کیا کریں۔ اس دوران مریم صاحبہ نے وزیراعظم ہاؤس میں اپنی پارٹی کے ان جوشیلے ایم این ایز کی بیٹھک کا انتظام کیا جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا حکمت عملی اور رات کے ٹی وی پروگرامز میں انکی پرفارمنس پر بات ہوتی۔ پارٹی کے جس بندے نے ٹی وی پرسیاسی مخالفین کے خلاف زیادہ بدزبانی کی ہوتی اس کیلئے مریم نواز باقاعدہ تالیاں بجواتیں۔ اس محفل سے شرکا چارج ہوکر جاتے کہ شام کے شوز میں مخالفوں کی ایسی تیسی کر دیں گے تاکہ اگلی صبح ان کیلئے تالیاں بجوائی جائیں۔  اس دوران مریم نواز نے بھی ان صحافیوں اور اینکرز کی فہرست بنوا کر اپنی سوشل میڈیا ٹیموں اور حامیوں کو دی جو اِن کے والد کی حکومت کے خلاف خبریں‘ سکینڈلز یا کمنٹس کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر مغلطات کی طرف مائل کرنے کیلئے مریم نواز نے سوشل میڈیا ارکان کا ایک کنونشن بھی منعقد کرایا جس سے (وزیراعظم) نواز شریف نے خطاب کیا۔ یوں ایک طرف عمران خان نے اپنی الگ فوج تیار کر لی جو مغلطات اور گندے ٹرینڈزچلانے کی ماہر ہوچکی تھی تو مریم نواز نے بھی مقابلے پر اپنی ٹیم کھڑی کر لی۔ ان دونوں پارٹیوں کے ہم خیال نوجوان ان ٹیموں کا حصہ بنتے چلے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں جعلی اکاؤنٹس بناکر سیاسی مخالفین یا صحافیوں کو مغلطات دینا شغل بن گیا ۔ یہ سب کچھ پارٹیوں کے معززین کی نگرانی اور سرپرستی میں ہورہا تھا ۔ یہ معززیں ویسے تو ٹی وی پر بڑا معصومانہ منہ بنا کر ایسی گھٹیا زبان کی مذمت کرتے لیکن سب کو پتہ تھا کہ اصل میں یہی لوگ یہ سب کچھ سنبھالے ہوئے ہیں۔ یوں سوشل میڈیا پر مریم نواز اور عمران خان کے حامیوں کے درمیان اب ہروقت مقابلہ جاری رہتا ہے۔ یہ مقابلہ اگر سیاسی کارکردگی تک رہتا تو بہترین ہوتا لیکن کیا کریں ہمارے سماج میں مغلطات کو ہی اظہارِ رائے سمجھا جاتا ہے۔آج جب میں سوشل میڈیا پر فی میلز کے خلاف ٹرینڈز پڑھ کر شرمندہ ہورہا ہوں وہیں یہ احساس بھی ہورہا ہے کہ جو آگ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے دوسروں کے گھر جلانے کیلئے لگائی تھی وہ اب ان کے اپنے گھروں تک پہنچ گئی ہے اور وہ خود اس کا سامنا کر رہے ہیں۔اگر عمران خان صاحب اور مریم نواز صاحبہ یہ قیمتی راز سمجھ پائیں تو جان لیں کہ نفرت کی جو خوفناک آگ ان پارٹیوں نے اپنے اپنے حامی نوجوانوں کے اندر بھر دی ہے اس کا نشانہ اور کوئی نہیں رائے ونڈ ‘ پاک پتن‘ زمان پارک اور بنی گالہ کے مکین ہی ہیں۔ اس آگ کے شعلے نفرت اور غصے سے بھرے ان نوجوانوں کو نہیں بلکہ عمران خان اور مریم نواز ہی کو جلا رہے ہیں ۔

Comments are closed.