راج کپور نے مشہور مگر ناکام فلم “میرا نام جوکر ” کیوں بنائی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ساٹھ کی دہائی میں جب راج کپور بہت سی کامیابیاں سمیٹ چکے تھے، ان کے دل میں ایک ایسی فلم بنانے کا خیال آیا جو ان کی زندگی کی عکاسی کرے اور وہ فلم تھی ’میرا نام جوکر‘۔میرا نام جوکر محض ایک فلم نہیں ایک بہت بڑا رِسک تھا

جو راج کپور کے ٹائیٹینک کو ڈبو سکتا تھا۔ نامور مضمون نگار طاہر سرور میر بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔انھوں نے خطرات سے ڈرے بغیر اس ہائی بجٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ اپنے تعلقات سے استفادہ کرتے ہوئے چین اور روس سے سرکس ٹیمز کو بلایا اور ایک بڑے کینوس پر رنگ بکھیرنے شروع کیے۔ اس فلم میں اُس وقت کے تمام سپر سٹارز نظر آئے۔ یہ ایک ایسا پراجیکٹ تھا جو سمٹنے کے بجائے پھیلتا گیا حتیٰ کہ فلم کا بجٹ اور اس کی طوالت دونوں تجاوز کر گئے۔اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ یہ فلم باکس آفس پر ہٹ ہونے کے بجائے ’کلٹ ہٹ‘ ثابت ہوئی۔ آر کے پروڈکشن کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ناقدین اور فلمی ماہرین کو یہ لگتا تھا کہ راج کپور دوبارہ پیروں پر اٹھ نہیں پائیں گے لیکن اس فلم کے نقصان نے راج کپور کی اصل صلاحیت کو اجاگر کیا۔راج کپور کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ٹیم بنا کر کام کرتے تھے۔ آر کے فلمز کے ہر ڈپارٹمنٹ میں اپنے کام کے ’پِیر کاریگر‘ شامل تھے۔جیسا کہ میوزک ڈپارٹمنٹ شنکر جے کشن نے سنبھال رکھا تھا، نغمہ نگاروں میں شیلندر اور حسرت جے پوری شامل تھے، گلوکاروں میں مکیش، منا ڈے، لتا منگیشکر اور رائٹنگ ٹیم میں خواجہ احمد عباس اور وی پی ساٹھے شامل تھے۔باکس آفس پر میرا نام جوکر کی ناکامی کے فوراً بعد انھوں نے اپنی ٹیم کو اکٹھا کیا اور اگلی فلم کا ٹاسک دیا۔ راج کپور اس فلم کے لیے اس طرح تیار تھے جیسا کہ یہ ان کا بیک اپ پلان ہو۔

یہ فلم ایک نوجوان محبت کی کہانی تھی جس میں وہ اپنے بیٹے رِشی کپور کو لانچ کرنے والے تھے۔ فلم کا نام تھا ’بابی‘ اور اسی فلم سے ڈمپل کپاڑیہ کے کامیاب کریئر کا آغاز ہوا۔یہ فلم 1973 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے اتنا بزنس کیا کہ آر کے فلمز کے تمام خسارے پورے ہو گئے۔یہ فلم نہ صرف بلاک بسٹر بلکہ ٹرینڈ سیٹر ثابت ہوئی جس نے رومانوی فلموں کا نقشہ بدل دیا۔فلم ’میرا نام جوکر‘ بھلے ہی باکس آفس ہٹ نہیں تھی لیکن یہ فلم آج تک اداکاروں اور فلم سازوں کے لیے نصاب کا درجہ رکھتی ہے۔ دیکھا جائے تو راج کپور کی ہر فلم ایک رِسک تھی۔وہ ایک ترقی پسند انسان تھے۔ جن حساس موضوعات کو وہ سلور سکرین پر لے کر آئے، اس زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔راج کپور نے فلم میڈیم کو صرف دولت اور شہرت کمانے کا ذریعہ نہ جانا بلکہ ہندوستانی معاشرے کو بدلنے کی کوشش بھی کی۔راج کپور اپنی فلم کے ذریعے سوویت معاشرے کے گرد موجود آہنی دیوار کو کاٹتے ہوئے اس معاشرے کے ہیرو بن گئے۔ساٹھ کی دہائی میں انڈین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو روس گئے تو وہاں بیسیوں افراد نے راج کپور سے متعلق دریافت کیا۔نہرو جب واپس انڈیا آئے تو انھوں نے یہ بات پرتھوی راج کو بتاتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے بیٹے راج کپور نے انڈیا کا نام بلند کر دیا جس پر ہمیں فخر ہے۔‘اُنھیں ان کے 50 سالہ کریئر میں تین نیشنل ایوارڈز، 11 فلم فیئر، پدما بھوشن اور دادا صاحب پھالکے جیسے مستند ایوارڈز سے نوازا گیا۔

راج کپور نے ہندوستانی فلم کو بین الاقوامی طور پر دنیا سے جوڑا اور روس، ہنگری، پولینڈ، کیوبا، چین، جاپان اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں انڈین فلموں کو متعارف کروایا۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انڈین سنیما کو پروموٹ کرنے پر انھیں ’شو مین‘ کا خطاب دیا گیا۔راج کپور کی فلموں کے موضوعات بے باکانہ ہوتے تھے اور ان کی جڑیں اپنے ہی معاشرے سے جڑے ہوتی تھیں۔ان کے ہیرو اور مرکزی اداکارائیں پسے ہوئے طبقے سے ہوتے جبکہ ولن اعلیٰ ذات سے تعلق رکھا کرتا تھا۔ ستیم شیوم سندرم، رام تیری گنگا میلی اور پریم روگ ایسی فلمیں ہیں کہ جن کے باعث انھیں بے پناہ پذیرائی ملی، وہیں اُن پر بہت زیادہ تنقید بھی ہوئی۔سکرپٹ ہو عکس بندی ہو، میوزک ہو یا پروسیسنگ، راج کپور ہر شعبے کی خود نگرانی کرتے تھے۔ محنت کے معاملے میں ان کے معیارات اپنے والد سے بھی زیادہ سخت تھے۔انھوں نے اپنے بچوں کے لیے آر کے سٹوڈیوز میں ایک قاعدہ بنایا تھا کہ وہ پہلے کسی اور سٹوڈیو میں کام سیکھیں، پھر آر کے سٹوڈیو میں قدم رکھیں۔راج کپور کی شادی اپنی کزن کرشنا کپور سے ہوئی جن سے ان کے پانچ بچے پیدا ہوئے جن میں تین بیٹے رندھیر کپور، رشی کپور اور راجیو کپور جبکہ دو بیٹیاں ریما کپور اور ریتو کپورشامل ہیں۔ریما کپور شادی کے بعد ریما جین اور ریتو کپور شادی کے بعد ریتو نندا بن گئیں۔بعد ازاں ریتو نندا امیتابھ بچن کی سمدھن بنیں۔ راج کپور اور کرشنا کپور کی شادی سے بالی وڈ میں کچھ نئے اداکاروں کا اضافہ ہوا جن میں راجیندر ناتھ، پریم ناتھ اور نریندر ناتھ شامل ہیں جو کہ کرشنا راج کپور کے بھائی تھے۔راج کپور کے چھوٹے بھائی شمی کپور ایک منفرد انداز لیے فلم انڈسٹری میں آئے۔اچھوتے انداز کے ساتھ ساتھ شمی کپور نے گانا عکس بند کروانے کا ایک نیا ٹرینڈ متعارف کروایا۔انھوں نے میوزک بیٹس کے ساتھ اپنے لچکدار بدن کو ایسا ہمکنار کیا کہ ہر کوئی ان کا دیوانہ بن گیا اور انھیں انڈیا کا ایلوس پریسلے کہا گیا۔ شمی کپور آخری بار 2011 میں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر فلم ’راک سٹار‘ میں جلوہ گر ہوئے۔گیتا بالی اور شمی کپور کے دو بچے تھے جن میں بیٹی کنچن اور بیٹا ادیتیا راج کپور شامل ہیں۔ادیتیا راج کپور چند فلموں میں اداکاری کے بعد بطور فلم میکر کام کر رہے ہیں۔پرتھوی راج کپور کے تیسرے بیٹے بلبیر راج کپور تھے جن کا فلمی نام ششی کپور تھا جبکہ خاندان میں انھیں ’ہینڈسم کپور‘ کہا جاتا تھا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.